کرونا کی ‘تشخیص’ کے لیے چلی کے ایئر پورٹ پر کتے تعینات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چلی کے ایک ہوائی اڈے پر مسافروں میں کرونا کی علامات کا سراغ لگانے کے لیے کتے تعینات کر دیے گئے ہیں جو آنے جانے والے مسافروں کے سامان کو سونگھ کر کرونا وائرس کا سراغ لگاتے ہیں۔

چلی کے سینٹیاگو انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر مسافر صحت کاؤنٹرز پر خصوصی پیڈز رکھے گئے ہیں۔ مسافر اپنی ناک، گردن اور کلائیوں کو اس سے پونچھ کر شیشے کے ایک ڈبے میں ڈال دیتے ہیں جس کے بعد ان سراغ رساں کتوں کا کام شروع ہوتا ہے۔

‘گولڈن ریٹریورز’ اور ‘لیبرا ڈورز’ نسل کے یہ کتے ایئر پورٹ پر کرونا کی تشخیص کے لیے حکام کے لیے کافی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

نشان دہی ہونے پر متاثرہ شخص کو حکام علاج معالجے کی غرض سے اسپتال یا قرنطینہ کے لیے لے جاتے ہیں۔

کرونا متاثرین کو تلاش کرنے والے کتوں کو سبز رنگ کی جیکٹ پہنائی گئی ہے جس پر ریڈ کراس بنے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی جیکٹ پر جلی حروف میں ‘بائیو ڈیٹیکٹر’ بھی لکھا ہوا ہے۔

کتا سونگھ کر اس بات کی شناخت کرتا ہے کہ آیا مذکورہ فرد کرونا وائرس سے متاثر ہے یا نہیں۔

کتوں میں فطری طور پر سونگھنے کی صلاحیت کسی بھی دوسرے جانور کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ اسی خاصیت کی وجہ سے کتوں سے منشیات اور دھماکہ خیز مواد کی تلاش کا کام لیا جاتا ہے۔

کتوں کو ملیریا اور کینسر جیسی بیماریوں کا پتا لگانے کے لیے بھی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔

متحدہ عرب امارات اور فن لینڈ کے ایئر پورٹس پر بھی کرونا وائرس کے مریضوں کی تلاش کا کام کتوں سے لیا جا رہا ہے۔

حال ہی میں کیے گئے ایک مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تربیت یافتہ کتے 85 سے 100 فی صد درستگی کے ساتھ انفیکشن کا سراغ لگا سکتے ہیں۔

چلی پولیس کے انسپکٹر جنرل ایستابن ڈیاز کا کہنا ہے کہ کتوں کی ان صلاحیتوں کی وجہ سے کرونا وائرس کے خلاف جاری جنگ میں ان سے مدد لی جا رہی ہے۔

چلی میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں جون میں سب سے زیادہ تیزی دیکھی گئی تھی جس کے بعد معاملہ کچھ دن کے لیے تھم سا گیا تھا لیکن اب ایک مرتبہ پھر متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 901 posts and counting.See all posts by voa