امریکی خواتین سے متعلق دو نئے عجائب گھروں کے قیام کی منظوری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی کانگریس کی جانب سے پیر کے روز پاس ہونے والے بڑے ریلیف بل میں امریکی خواتین اور لاطینی امریکی خواتین پر مرکوز عجائب گھر بنانے کی تجویز بھی پاس کی گئی ہے۔

اس بل میں سمتھ سونین میوزیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ امریکی خواتین اور لاطینی امریکی خواتین پر دو قومی عجائب گھر تعمیر کرے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق نیم سرکاری ادارے کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں عملہ بھرتی کرے، اس مقصد کے لیے اشیا اکٹھی کرے اور ایسے پروگرام تشکیل دے جو ان گروہوں کی کہانی بیان کرتا ہو۔

اگر اس پراجیکٹ کی امریکی صدر کی طرف سے منظوری ہو جاتی ہے تو یہ عجائب گھر 2016 میں امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں تعمیر ہونے والے افریقی امریکیوں کی ثقافت اور تاریخ پر بننے والے عجائب گھر کے بعد اس نوعیت کے پہلے عجائب گھر ہوں گے۔

پیر کے روز امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں نے دو اعشاریہ تین ٹریلین ڈالر کا بجٹ پاس کیا ہے۔ ان دو عجائب گھروں کی تجویز بھی اس بجٹ کا حصہ ہے۔ اس بل کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط سے قانونی حیثیت حاصل ہونا ابھی باقی ہے۔

نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے غیر منافع بخش ادارے ‘فرینڈز آف دی نیشنل میوزیم آف دی امیریکن لیٹینوز’ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو ایسٹورڈو روڈریگاز نے کہا کہ ’’ایک عجائب گھر ملک میں بسنے والے لاطینی امریکی باشندوں کی ملک کے لیے کاوشوں پر ایسے وقت میں روشنی ڈالے گا، جب ہم دیکھتے ہیں کہ عالمی وبا نے ہماری آبادیوں کو دوسروں کی نسبت زیادہ متاثر کیا ہے، میرے خیال میں یہ بہت مناسب ہے۔‘‘

اخبارکے مطابق عورتوں کے لیے ایک میوزیم بنانے کی سب سے بڑی حامی امریکی رکن کانگریس کیرولین بی میلانے نے کہا کہ ’’بہت وقت گزر چکا ہے اور اب تک ہماری قومی تاریخ میں عورتوں کی کہانیاں شامل نہیں ہیں، مگر اس ووٹ سے ہم یہ غلطی سدھارنا شروع کر رہے ہیں۔‘‘

امریکہ میں مارچ کو خواتین کے مہینے کے طور منایا جاتا ہے اور امریکی تاریخ میں خواتین کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔
امریکہ میں مارچ کو خواتین کے مہینے کے طور منایا جاتا ہے اور امریکی تاریخ میں خواتین کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کتنا مناسب ہے کہ جب یہ بل پاس ہو رہا ہے تو 19ویں ترمیم کو ایک صدی ہونے کو ہے اور ہم نے اس برس ہی پہلی خاتون نائب امریکی صدر منتخب کی ہے۔

لاطینی امریکیوں کے لیے علیحدہ عجائب گھر بنانے کی تحریک 1994 میں شروع ہوئی جب ایک رپورٹ میں یہ نشان دہی کی گئی کہ ادارہ سمتھ سونین ملک کے لاطینی باشندوں کے بارے میں ’’ارادتاً غفلت برت رہا ہے۔”

پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق 2017 میں لاطینی امریکیوں کی تعداد کل امریکی آبادی کا 18 فی صد تھی۔

اس کے ردعمل میں 1997 میں سمتھ سونین نے عجائب گھر کے اندر ہی ‘سمتھ سونین لیٹینو سینٹر’ قائم کیا اور 2008 میں کانگریس نے اس مسئلے پر ایک کمیشن قائم کیا جس نے نیشنل مال کے قریب 3 لاکھ 10 ہزار مربع فٹ پر مشتمل عجائب گھر قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔

خواتین کے عجائب گھر کی تعمیر میں بھی ایسی ہی رکاوٹیں پیش آئیں۔ ری پبلکن سنیٹر سوزن کالنز نے تین مزید سینیٹرز کی مدد سے 2004 میں اس عجائب گھر سے متعلق ایک بل متعارف کروایا تھا۔ مگر 2014 میں جا کر کانگریس کے ایک کمیشن نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک اہم مقام پر امریکی میوزیم برائے تاریخِ خواتین قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 980 posts and counting.See all posts by voa