شہزادہ سیف الملوک اور بدیع الجمال کا سفر عشق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میاں محمد بخش ؒ کی تصنیف ً سیف الملوک ًسے شدبد ہمیں بچپن میں ہی ہو گئی تھی۔ ابا جان گھر میں اکثر رات کو اونچی آواز میں سیف الملوک پڑھا کرتے تھے۔ گھر میں دوسری کتابوں کے ساتھ سیف الملوک بھی کتابوں والی الماری میں رکھا ہوا تھا۔ لیکن اس وقت پنجابی پڑھنی نہیں آتی تھی۔ ہمارے ایک رشتہ کے بھائی ہر ماہ چن چڑھی جمعرات کو بابا پیرے شاہ ؒکے دربار پر حاضری دیتے تھے جو ہمارے گاؤں سے تین چار میل کے فاصلے پر تھا۔

اکثر وہ مجھے بھی ساتھ لے جاتے تھے۔ موجودہ تعمیرات سے قبل پرانے دربار میں گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی پہلے میاں محمد بخشؒ کا مزار آتا تھا جہاں سے گزر کر بابا پیرے شاہ غازی ؒکے مزار پر حاضری ہوتی تھی۔ اس لئے جاتے اور آتے دونوں دفعہ زائرین میاں صاحبؒ کے مزار پر فاتحہ خوانی کرتے تھے۔ بہت برس تک ہر ماہ ہماری بھی میاں صاحبؒ کے مزار پر حاضری ہوتی رہی۔ جب کالج میں داخلہ ہوا تو کالج سے واپس گاؤں جاتے ہوئے ہر جمعرات کو بس دربار پر رکتی تو ہم دربار کے اندر چلے جاتے۔ وہاں اکثر سیف الملوک پڑھنے کی محفل منعقد ہوتی رہتی تھیں۔ وہاں بیٹھ جاتے اس طرح سنتے سنتے سیف الملوک ہمیں بھی زبانی یاد ہونے لگا۔

پرانے وقتوں میں اکثر گاؤں کے لوگ شام کو چوپال یا دوپہر کو دارہ میں اکٹھے بیٹھتے تو اس محفل میں سیف الملوک ضرور پڑھا اور سنا جاتا تھا۔ عالم لوہار نے بھی پچاس کی دہائی میں محفلوں میں خاص طرز سے سیف الملوک گانا شروع کیا تھا۔ زیادہ تر گلوکاروں یا پرانے لوگوں نے بار بارسیف الملوک کے ابتدائی اور کچھ مخصوص اشعار ہی گائے ہیں۔ جو زیادہ مشہور بھی ہوئے ہیں۔ ہمارا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہماری ماں بولی ہونے کے باوجود ہمیں پنجابی لکھنی اور پڑھنی نہیں آتی۔ اس لئے سوائے خواص یا پھر جنہوں نے میاں صاحب کے کلام پر ریسرچ کی ہے، ان کے علاوہ بہت کم لوگوں نے پوری کتاب غور سے پڑھی اور سمجھی ہے۔

میاں صاحبؒ کی تصنیف سیف الملوک اگرچہ حسن وعشق کی ایک رومانوی داستان ہے۔ جسے میاں صاحبؒ نے تصوف کے رنگ میں پیش کیا ہے۔ اپنے کلام میں وہ سادہ زبان استعمال کی ہے جو اس دور کے عوام کی زبان تھی۔ انہوں نے ادب کے ذریعے عوام سے رابطہ کی جو مثال قائم کی ہے وہ سبق آموز بھی ہے اور قابل تقلید بھی۔ آپ کے کلام میں جو چاشنی پائی جاتی ہے وہ دیگر شعرا کے کلام میں خال خال ہی نظر آتی ہے۔ آپ نے اپنے اشعار میں عام زندگی کی تشبیعات اور استعاروں کا استعمال ان کی ابتدائی صورت میں کیا ہے۔

آپ نے سیف الملوک کے سفر عشق میں پیش آنے والے واقعات کی تفصیل اتنی باریکی اور وضاحت سے بیان کی ہے جو قاری کو فوراً سمجھ آ جاتی ہے۔ سیف الملوک قصہ ً سفرعشق ً میں شہزادہ سیف الملوک کا سفر اپنے خوابوں کی شہزادی پری بدیع الجمال کی تلاش کے لئے تھا۔ اس نے اپنے محبوب کی تلاش میں تخت، تاج سب کچھ چھوڑ کر دکھوں اور تکلیفوں بھرا راستہ اختیار کیا۔ شہزادی بدیع الجمال ملکوتی حسن کی مالک تھی۔ میاں صاحب نے اس کا حسن جس طرح بیان کیا ہے، اس کی چھب اور ایک ایک انگ کو فطرت کے مظاہر سے تشبیہ دی ہے، اس کی نظیر پنجابی ادب میں بہت کم ملتی ہے۔

حسن بدیع جمال پری د ا وانگ بہار چمن دی۔ سنبل وال مہین زنجیری ہر مینڈھی ون ون دی

آپ لکھتے ہیں کہ شہزادی کا چہرہ اتنا حسین تھا کہ گلابوں نے اسے دیکھ کر اپنے پیرہن پھاڑ ڈالے اور اس کے رخساروں کے رنگ دیکھ کر گل لالہ کا خون جم گیا۔

پاڑ سٹے پیراہن گل دے چہرہ ویکھ گلاباں ٭ گلدے گلدے عرق سدائے رل گئے وچ آباں
لال گلال گلہاں ول تک کے داغ لگا گل لالے ٭ جمیں رت کلیجے اتے پیندا زہر پیالے
چودھویں داچن داعی ہویا متھہ ویکھ نورانی ٭ اکھ بھڑا نہ تکن ہوندی سورج ہار نشانی
گوھڑے نین سمندر حسن دے کجراں لہراں مارے ٭ اکھ مٹکے مارن دھکے ٹہل دیون ہتھیارے
لعل لباں یاقوت سچے سن شکر مصری ڈلیاں ٭ لالی تے باریکی ولوں گل عباسی کلیاں
گردن مثل صراعی کچ دی بوتل صاف بلوری ٭ سرخ شراب لہو بھر رتے شیشے گرد لاہوری
جب شہزادی بولتی تھی تو اس کے منہ سے پھول جھڑتے تھے وہ قدرت کی صناعی کا مکمل نمونہ تھی۔
طوطے قمری نالوں سوہنی کوئل وانگوں بولے ٭ چھنکے گل کٹوری جیسی موتی بھر بھر تولے

شہزادہ جب شہزادی کو پانے کے لئے اپنا سفر شروع کرتا ہے تو وہ ایک ایسی جگہ پہنچتا ہے۔ جہاں دنیا کے تمام میوہ جات اور پھل ملتے ہیں۔ آپ نے اللہ تعالی کی میسر کردہ نعمتوں کا ذکر ایک نئے انداز میں کیا ہے۔ پنجابی زبان میں قدرت کی صناعی اس سے بہتر اور کہیں نہیں ملتی۔ آپ لکھتے ہیں

پھلاں دا کجھ انت نہ آہا میوے باہر حسابوں ٭ کجھ مٹھے کجھ رسیلے آہے لذت دار کبابوں
پستہ مغز منقی، کشمش، کھوڑ، انجیر، باداماں ٭ چلغوزے، انگور، خبانی، نغرک نار تماماں
میہو بیر، بخارے آلو، کھوپے گری، چھوہارے ٭ گوشے، کیلے، انب، آلوچے، شفتالو، پگھواڑے
توت، شہتوت۔ ٹلنگ بھرویاں، آڑو، سیہو ناکھاں ٭ بہی مرچ، ہریڑ، بہیڑے، پپلا کی کجھ آکھاں
ہور وڈے ہک رکھ جنہاندے پتر وانگوں روٹی ٭ میوے آدم دے سر وانگوں اکھیں متھا چوٹی
اس کے علاوہ ہندوستان کے شہر مالوہ میں موجود کالی مرچ کے درختوں کا بھی ذکر کتاب میں موجود ہے۔

شہزادہ سیف الملوک سفر کے دوران زنگی سلطنت کے سپاہیوں سے لڑ کر چالیس کو مار دیتا ہے لیکن آخرکار پکڑا جاتا ہے۔ وہ سپاہی اس کو قید کر کے زنگی بادشاہ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ گوکہ زنگی بادشاہ بہت ظالم ہے لیکن وہ شہزادے کی بہادری سے متاثر ہو کر اس کی جان نہیں لیتا۔ اس کی بیٹی کو جب سیف الملوک کا پتہ چلتا ہے تو وہ اپنے باپ سے کہتی ہے کہ اسے سیف الملوک شہزادہ چائیے۔ اس کا باپ سیف الملوک کو اپنے محل میں شہزادی سے ملانے لاتا ہے۔

زنگی شہزادی جو اپنے آپ کو دنیا کی حسین ترین عورت خیال کرتی ہے، بڑی سج سنور کر بیٹھتی ہے۔ اس کو یہ گھمنڈ ہوتا ہے کہ شہزادہ اس کا حسن دیکھ کر فوراً اس پر عاشق ہو جائے گا۔ لیکن جب شہزادہ سیف الملوک نے اسے دیکھا تو وہ بالکل سیاہ رنگت کی مالک بڑے سے منہ اور عجیب سی ناک والی عورت تھی۔ جس کی بڑی بڑی سرخ آنکھیں اور انتہائی گندی چھب جس کو دیکھ کر بندے کا فوراً قے کرنے کو دل چاہے۔ میاں صاحب نے اس زنگی شہزادی کی کرہیہ شکل کو ان استعاروں کے ساتھ ایسے بیان کیا ہے، کہ پتہ چلتا ہے وہ سامنے آن بیٹھی ہو۔ میاں صاحب کو یہ بھی فکر ہے کہ اگراس کے بار ے میں زیادہ بتایا تو پڑھنے والوں کی طبیعت ہی خراب نہ ہو جائے۔

سیف الملوک ڈٹھا اس ولوں کی کجھ نظری آیا ٭ منہ توے دے تھلے وانگر اس تھیں رنگ سوایا
ہاتھی وانگن اکھیں گھٹیاں رتیاں سن رت چھاٹی ٭ گلہاں آپھر آپھر ہویاں جیوں ساون دی چاٹی
کاٹھی سا ہنک دا جیوں گردہ ہوندہ سڑ کے کولا ٭ پر اوہ بھی کہجھ پکا ہوندا منہ اس دا سی پولا
ہاتھی وانگن نک موہیں تے ڈڈو جتنا چیوڑا ٭ دند بھی ہاتھی ہار دسالاں سخن ہو جائے بھیڑا
وال گلہاں تے متھے کنیں سوٹیاں وانگر دسدے ٭ ہوٹھ موٹے تے پلپل کردے ایہ پھسدے کہ پھسدے
بلے وانگر کن کھلوتے ٹھوڈی وانگر چوہے ٭ ناساں وے سوراخ ورگ سن دو بابل دے کھوے
ویکھدیاں جیو کچا ہوندہ ڈاکر ڈاکر مرئیے ٭ جو چائے سو چا بناوے رب ڈاہڈے تھیں ڈرئیے
کراں دھیان بیان نہ بہتا مت طبع ہو کھوہری ٭ گندی بو ہواہڑ نکل دی جیوں دوزخ دی موری

اسی طرح آپ نے خوبصورتی اور حسن کو بھی اتنی تفصیل اور باریکیوں سے بیان کیا ہے جس سے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس سے آپ کے جمالیاتی احساسات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ تشبیعات اور استعاروں کا استعمال آپ نے کمال انداز میں کیا ہے۔ تشبیعات سادہ اور روزمر ہ کی بول چال ہیں جو خیال کے ساتھ اس طرح منسلک ہیں کہ مشبہ کے ذریعے مشابہت کے جس قدرپہلو نمایاں ہو سکتے ہیں وہ سادہ الفاظ میں واضح کر دیے گئے ہیں اور یہی ان کی شاعری کا کمال ہے۔

جب قصہ سیف الملوک میں شہزادہ سیف الملوک اپنی خوابوں کی شہزادی پری کی تلاش میں سراندیپ پہنچتا ہے۔ اس ملک میں شہزادی بدیع الجمال دیو کی قید بندمیں ہے۔ آپ نے اس شہزادی کے بابت لکھا ہے کہ وہ کیسی ہے، اس کی ظاہری شکل و صورت کیسی ہے۔ آپ نے شہزادی کے حسن وجمال اور اس کے چہرے کے خد و خال کو جس خوبصورتی سے بیان کیا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ شہزادی آپ کے سامنے بیٹھی ہے اور آپ اس کو براۂ راست دیکھ رہے ہیں۔ آپ نے اس کا

حسن بیان کرتے ہوئے کسی بھی ایسی چیز سے اس کا موازنہ نہیں کیا جو کسی بھی سخن شناس کو بری لگے۔ پنجاب میں بالوں کی لٹ کو ناگ کہہ کر ڈرایا جاتا ہے۔ ظاہری حسن کی تعریف میں اس کو اللہ تعالی کی بنائی ہوئی حسین چیزوں سے تشبیع دی جاتی ہے۔ ہونٹوں کو گلاب کی پنکھڑیاں اور یاقوت، دانتوں کو موتیوں کی لڑیاں کہا جاتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالی نے اپنی قدرت سے دنیا میں حسین ترین چیزیں تخلیق کی ہیں اس لئے میاں صاحب نے بھی شہزادی کا حسن بیان کرتے ہوئے ان کا موازنہ قدرت کی صناعی سے کیا ہے۔

روپ بدیع جمال پری دا چو دس چن نورانی ٭ دھاوس زہر کلیجے تکے جے زہرا آسمانی
زلفاں ناگ چنن سنگ لٹکے ول ول کنڈل مارے ٭ یا زنجیر دلاں دے آھے یا کمند ہتھیارے
سوہے ہوٹھ یاقوت کھرے تھیں کاریگر سنوارے ٭ دند لباں وچ کجے آہے وچ شفق جیوں تارے
ٹھوڈی وانگ خبانی سوہی بہی رس بھری سی ٭ پتلا اچا قد رنگیلا نازک شاخ ہری سی
جادوگر دو نین کڑی دے وچہ کجلے دی دھاری ٭ صوفی ویکھ ہون مستانے چھڈن شب بیداری
زلفاں دے خوشبوئی حلے تازے کرن دماغاں ٭ آدم ویکھ مرن جیوں مردے ویکھ پتنگ چراغاں

آپ پری شہزادی کی زلفوں کو درخت سے لٹکے ہوئے ناگوں سے تشبیع دے کر کہتے ہیں کہ ان کی مدھر خوشبو پر لوگ ایسے مر مٹتے ہیں جیسے شمع کو دیکھ کر پروانے دیوانہ وار اس کی لو پرمرتے ہیں۔ اس کا ظاہری حسن ایک بیمثال حقیقت ہے۔ اسی طرح جب پری شہزادی بدیع الجمال نے سیف الملوک شہزادے کو پہلی بار دیکھا تو وہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔ اس کی مردانہ وجاہت۔ جسم کی بنتراورچہرے کی متانت کو میاں صاحب نے اتنے کمال طریقے سے بیان کیا ہے کہ پڑھنے والوں کو سیف الملوک شہزادہ اپنے سامنے بیٹھا نظر آتا ہے۔

صورت ویکھ ہوئی متحیر کہندی بار خدایا ٭ ایہہ جوان جہانوں سوہنا کہیڑے دیسوں آیا
جھنڈ کہی کستوری بھنی کالی کنڈلاں والی ٭ نورانی پیشانی کھلی ابرو شکل ہلالی
اکھیں اندر حسن خماری یا ایہہ نیندر بھریاں ٭ جے اے نظر بھڑا کے تکے جھال نہ جھلن پریاں
شیراں جیڈا زور دسے نازک پھل گلابوں ٭ نیکو کار فرشتہ صورت وافر حسن حسابوں
بجلی دے چمکار وانگوں اس دی اکھ چمکدی ٭ الف ازل دے نوروں لکھیا۔ صفت کراں کی نک دی۔

دونوں ایک دوسرے کا حسن وجمال دیکھ کر حیران تھے۔ شہزادہ سیف الملوک مردانہ وجاہت کی ایک مثال تھا اور شہزادی تو پھر پری تھی اس کے حسن کی مثال اورکوئی دوسری کب ہو سکتی تھی۔ لیکن میاں صاحب نے دونوں کی تعریف کرتے ہوئے احتیاط کا دامن کہیں نہیں چھوڑا اور حدود وقیود میں رہتے ہوئے ان کے حسن اور وجاہت کو بیان کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •