سرور سکھیرا : ایسا تخلیق کار کہاں ملے گا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عموماً جب کسی کامیابی یا کارنامے کو سراہا جاتا ہے اور اس حوالے سے داد دی جاتی ہے، تو دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ سب کی نگاہ دکھائی دینے والے منظر پر ہی ہوتی ہے، اس پس منظر میں جانے کی اور اسے جاننے کی کسی کو خاطر خواہ دلچسپی نہیں ہوتی جو درحقیقت اس سرخروئی کا ماخذ ہوتا ہے۔

سرور سکھیرا صاحب کا ماہنامہ ”دھنک“ پاکستانی صحافت کی تاریخ کا وہ سنگ میل قرار دیا جا سکتا ہے جس کے حصے میں آنے والی ستائش کو اس کی حقیقی کیفیت کے ساتھ الفاظ کے قالب میں ڈھالنا، اگر ناممکن نہیں تو کسی قدر مشکل ضرور ہے۔ مگر یہاں سوال محض ستائش کی ستائش کا نہیں (کہ یہ تو دکھائی دینے والا منظر ہے)، پس منظر میں لی گئی تخلیقی اڑان، دراصل اس داستان کا وہ نکتہ ہے جس نے مقبولیت، شہرت اور پذیرائی کے نئے مفہوم تراشے۔

مختلف ہونا، بہ ذات خود انفرادیت کی سمت پیش قدمی کا اقرار ہے، مگر اس حالت میں اپنا لوہا منوا لینا، بلاشبہ اس انتخاب کی تائید ہے، جو اس راستے پر چلنے والوں کو ہمیشہ میسر نہیں آتی۔ ماہنامہ دھنک نے بھی ندرت اختیار کرنے اور ڈگر سے ہٹ کر جانے والی راہ اپنائی تھی اور شناخت حاصل کر لینے سے پہلے، ابتدائی مرحلے میں یہ کہانی بھی اس قدر خوش گوار اور حوصلہ افزا نہیں تھی۔ بقول راوی، ” پہلا پرچہ پانچ ہزار چھپا اور دوسرا بھی پانچ ہزار۔ تیسرے مہینے پتہ چلا کہ ان میں سے کوئی بھی فروخت نہیں ہوا“۔

مگر جنون کہاں شکست مانتا ہے، سو دھنک بھی اپنی دھن سے باز آنے والا کہاں تھا۔ پھر وہی ہوا جس کا خواب دیکھا گیا تھا۔ اندرون ملک بھی اور سمندر پار بھی، اس کی چاٹ ایسی لگی کہ رسالوں کی ہجوم میں، اس کے گھائل، بس اسی کے متلاشی رہتے۔ تب علم و ادب و صحافت سے متعلق کم ہی ایسے ہوں گے جو اس کی جدت کے مداح نہ ہوئے ہوں، حتاکہ اس سے فکری اختلاف رکھنے والے بھی اس کی انفرادیت کو سراہنے پر آمادہ نظر آتے۔

دھنک کی شناخت کا اولین تعارف اس کا سرورق تھا جس کا سائز اپنے ہم عصر تمام جریدوں سے مختلف تھا۔ پھر سرورق سے لے کر آخری صفحے تک، تحریر اور تصویر کے، جتنے تخلیقی انداز، ممکن تھے، ان پر طبع آزمائی کچھ اس خوش اسلوبی اور مہارت سے کی جاتی کہ بہ ظاہر نہیں لگتا کہ کوئی رخ ایسا رہا ہوگا، جو دھنک کے نشانے سے بچا ہو۔ بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ تخیل اور تخلیق کا یہ ایسا مجموعہ بن گیا تھا جو اپنے پڑھنے والوں کو مسلسل تحیر سے دوچار رکھتا تھا۔

سرورق کے لئے منتخب کی جانے والی تصاویر اور ان تصاویر کو پیش کیے جانے کا، لے آؤٹ، توجہ حاصل کرنے کے لئے، اس جریدے کی پہلی ظاہری جاذبیت کہی جا سکتی تھی، پھر اس کے بعد، جو کچھ بھی اس میں شامل اشاعت ہوتا، ان سب میں ایک قدر مشرک ہوتی کہ وہ پڑھنے میں دل چسپ، بے باک، منفرد، اور (قدرے) چونکا دینے والا ہو، (قدرے) طنزیہ، (قدرے) شگفتہ، اور یوں ہر وہ خاصیت جو تحریر میں ممکن ہو، اس میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتی۔ جبکہ ڈیزائن، رواں روش سے یکسر علیحدہ اور توجہ اپنی طرف مائل کرنے کے لئے بے تاب۔

یہاں یہ امر توجہ طلب ہے کہ سرور سکھیرا صاحب نے دھنک کی کامیابی کی داستان ستر کی دہائی میں رقم کی جب پرنٹنگ کے میدان میں ٹکنالوجی کی سہولیات اس عروج پر نہ تھیں، جو آج با آسانی رسائی میں ہیں، مگر شاید یہ خواب دیکھنے کا اجر تھا کہ اکیسویں صدی کا کام، بیسیوں صدی میں کر دکھایا گیا۔

سرور سکھیرا صاحب کی جوہر شناس نگاہوں نے، لکھاریوں اور تخلیق کاروں کی وہ ٹیم ترتیب دی جس نے، جہاں دھنک کو رجحان ساز جریدے کا مقام دیا، وہاں آنے والے دنوں میں اس وسیلے سے صحافت اور ادب کی دنیا کو ایک سے بڑھ کر ایک معتبر نام بھی میسر آئے۔ اسی طرح دھنک سے متاثر ہو کر اس کے اسلوب کی پیروی کرنے والے کئی جرائد بھی منظر عام پر آئے، سردست دو نام تاحال یادداشت کا حصہ ہیں، ایک ”محور“ اور دوسرا ”عقاب“ جنہوں نے دھنک رنگ اختیار کیا۔

نوواردان صحافت اور عازمین صحافت، یقیناً اس بات سے با خبر ہیں کہ لفظ اور پس لفظ کے اس میدان میں آگے بڑھنے کا بنیادی عنصر تجسس ہے، سو، منفرد راستے کے لئے سرگرداں سرور سکھیرا، غیر معمولی رنگ بکھیرتا دھنک اور اس جریدے کو ملنے والی تاریخ ساز کامیابی، ایک سوال کے وہ تین پہلو ہیں جس کے جواب میں، مستقبل کے صحافیوں کے سارے راز پوشیدہ ہیں ( اور شاید نمایاں بھی ) !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •