تیاری نہیں تھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف کی حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے اس نے کچھ ایسے بلنڈر کیے جس کی وجہ سے انہیں خود میڈیا، اپوزیشن اور عوام کی طرف سے اچھی خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگر موجودہ صورتحال کی بات کریں تو حالیہ دنوں وزیراعظم جناب عمران خان صاحب نے اپنے وزراء کو ایک تقریب میں جو باتیں کیں کہ اقتدار میں آئے تو ہماری تیاری نہیں تھی، چیزیں ہمیں سمجھ نہیں آ رہی تھیں اور ہر آنے والی حکومت کو تیاری کے ساتھ آنا چاہیے۔

مزید یہ ایک بار پھر وزراء کو عملی کام کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں ہیں۔ اس کو لے کر میڈیا میں ایک نئی بحث جاری ہے۔

یہاں اگر اس بات کے مختلف پہلوؤں پر غور کریں تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم کا میڈیا کے سامنے یہ سب کہنا، ان کی ناکامی کا اعتراف ہے وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب اپوزیشن پہلے ہی وزیراعظم صاحب کی اہلیت پر سوال اٹھا رہی ہے۔ اگر آپ تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو یہ نظر آتا ہے کہ موجودہ حکومت سابقہ حکومتوں کی روایات سے ہٹ کر کچھ کر رہی ہے۔ ورنہ پچھلے ادوار میں کیا ہوتا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اپنے دور حکومت میں کئی کئی ہفتوں بلکہ کئی کئی مہینوں تک کابینہ کی میٹنگ بلاتے تھے نہ وزیروں، مشیروں اور معاونین کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے۔ اہم امور پر مشاورت نہیں ہوتی تھی اور نہ مختلف وزارتوں کو خراب کارکردگی پر وارننگ جاری دی جاتی تھی لیکن اب ہر ہفتے کابینہ کی میٹنگ ہوتی ہے، اہم امور پر مشاورت ہوتی ہے اور وزراء، مشیروں اور معاونین کی کارکردگی پر ان سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ وزیراعظم کابینہ کے اجلاسوں میں متعدد بار کابینہ کے ممبران کی کارکردگی کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

جہاں تک بات تیاری نہ ہونے کی ہے تو اس میں ایک حد تک تو بات درست ہے کہ آپ کی تیاری نہیں تھی مثلاً ایک شخص جو صرف ایک زمانے میں ایم ان اے تھا، وہ نہ کبھی وزیر رہا اور نہ وزیراعلٰی بنا اگر وہ ملک کا وزیراعظم بنے تو اس کے لئے مشکلات تو ہوں گی لیکن اگر وہی شخص ‏ 22 سال میں 22 لوگوں کی ایک ٹیم تیار نہ کر سکے، اپنے نظریات پر سمجھوتا کر کے ان لوگوں کو (الیکٹیبلز) جنہیں کرپٹ کہا اور نان الیکٹیڈ لوگوں کو بھی کابینہ کا حصہ بنائے اور اگر آپ پوچھیں تو آگے سے یہ جواب ملے کہ یہی بہترین لوگ ہیں اور ان سے بہتر بندہ کوئی نہیں۔

یہ سب کرے اور پھر یہ بھی کہ دے کہ ہمیں چیزیں سمجھ نہیں آئیں تو سوالات تو ہوں گے ۔ وزیراعظم اقتدار میں آنے سے قبل بلند و بانگ دعوے کرتے تھے کہ ان کے پاس بہترین ٹیم ہے اور وہ اقتدار میں آتے ہی سارے مسائل حل کر دیں گے تو قوم نے اپنی تمام تر توقعات ان سے وابستہ کیں لیکن وزیراعظم اگر آج اڑھائی سال بعد قوم کے سامنے اپنی ناسمجھی کا رونا روئیں اور ٹیم کو یہ کہیں کہ اب ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ ہماری تیاری نہیں تھی اس لیے بہتر پرفارم نہیں کر سکے یقیناً اس پر بہت سارے لوگوں کو مایوسی تو ہو گی لیکن پھر بھی اگر آپ آج بھی اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی بجائے ان کو تسلیم کر رہے ہیں، تو اچھی بات ہے اپنی ترجیحات درست کریں، غلطیوں سے سیکھیں اپنے لوگوں کو متحرک کریں اور عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے کوشش کریں۔ جناب وزیراعظم قوم آج بھی آپ کی طرف دیکھ رہی ہے، اتنی زیادہ مایوسی کے باوجود آپ آج بھی کئی ایک لوگوں کے لئے امید کی آخری کرن ہیں۔ اگر آپ آج سب کچھ ایک دم سے ٹھیک نہیں کر سکتے تو کچھ تھوڑا بہت ایسا ضرور کر لیں جس سے اس ہاری ہوئی قوم کو پھر سے ایک نئی امید ملے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •