دلبر جان کا کاروبار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نام تو جانے اس کا کیا تھا لیکن سب اسے دلبر جان کے نام سے پکارتے تھے۔تعلیم سے تائب تھا، میڑک بھی ایسے کیا جیسے کوئی پی ایچ ڈی کرتا ہے یعنی کئی برس لگا دیے۔ والدین بہت متفکر رہتے کہ کب ہونہار سپوت کچھ کما کر کھلائے گا ۔ لیکن دلبرجان کے کان پر جوں تک نہ رینگتی تھی۔ وہ اپنے موبائل میں غرق ہر وقت وہی کام کر تا رہتا تھا جو اس عمر کے لڑکے اکثر کرتے ہیں۔ ماں بارہا روہانسی ہو کر کہتی:” اس منحوس موبائل سے نکلو تو کوئی کام بھی کرو” مگر دلبر جان نصیحتوں سے ماورا تھا۔ انھوں نے اس امید پر شادی بھی کروا دی کہ بچہ سدھر جائے مگرلا حاصل ۔وہ پیسے بھی ماں کی صندوقچی سے چراتا، گلے میں سرخ رومال ڈالتا اور اوباش نوجوانوں کی طرح گلی کے نکڑ پر بیٹھ کر محلے کی خواتین پر نظر آزمائی کرتا۔
دلبر جان میں یوں تو بہت خامیاں تھیں مگر سب سے بڑی خامی تھی گالی دینا۔ وہ بات بات پر گالی نکالتا، سوائے اپنی ماں کے کوئی اس کی گالیوں کی زد سے نہیں بچا تھا۔ جب حالات کی بہت کڑکی ہو گئی تو دلبر جان نے ایک مذہبی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ مذہبی جماعت وہی تھی جس کے فرماں روا ہر سال کینیڈا سے انقلاب برپا کرنے کی نیت سے آتے اور غریب پاکستانیوں کی جمع پونجی سے آخری قطرہ بھی نچوڑ کر دوبارہ کینیڈا کو پرواز کر جاتے۔ مذہبی جماعت میں شمولیت سے دلبر نے مذہب کی الف ب تو نہیں سیکھی البتہ بحث کرنا خوب سیکھ گیا تھا ۔ اس کی ہر بحث کی تان ہمیشہ گالی پر ٹوٹتی۔ اسی وجہ سے وہ مذہبی جماعت سے دھتکار کرنکالا گیا۔
دلبر کی ملاقات ایک دوست سے ہوئی جس نے اس کو نوکری دلانےکا وعدہ کیا اور کہا “انٹرویو کے لیے تیار رہنا۔” وہ دل میں قسمت کو کوستا انٹرویو کے لیے چل پڑا۔ انٹرویو ایک بہت بڑے افسر کے سامنے ہوا۔( ہم اس مضمون میں خوف ِفساد ِخلق سے اس افسر کو “استاد ” کہ کر پکاریں گے)
استاد نے جب دلبر جان سے تعلیمی قابلیت پوچھی تو جواب ندارد ۔ استاد نے چند ایک اور سوال کیے جن سے دلبر زچ ہو گیا اور اچانک اس کی زبان سے ایک غلیظ گالی نکل گئی۔ استاد اس بات پر برہم ہونے کے بجائے بہت خوش ہوا۔ گالی کی گیرائی کو دیکھتےہوئے اس نے دلبر جان کو نوکری دینے کا سندیسہ سنا دیا۔ دلبر حیران رہ گیا۔
جب دلبر پہلی دفعہ اپنے دفتر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ میزوں پر نقشے بچھے ہوئے ہیں گویا دشمن ملک پر حملہ کرنے کا پلان ہو۔ جب غورکیا تو وہ دشمن کے علاقوں کے نقشےنہیں اپنے ملک کے سیاستدانوں ، صحافیوں کے ٹوئیٹر ہینڈل ، فیس بک آئی ڈیز اور یو ٹیوب چینلز کے لنک تھے۔ استاد نے اس کو بتایا ” تمھارا کام ان لوگوں کو گالیاں دینا ہے،گندی اور غلیظ ۔ اسی سے تمھارا رزق وابستہ ہے،اور یہ معاملہ ٹاپ سیکرٹ ہے۔”
استاد نے دلبر کے ہنر کا امتحان لینے کے لیے جب پوچھا:” اگر کوئی تمھاری گالی کے جواب میں دلیل سے بات کرے تو تم کیا کرو گے؟”دلبر نے جواب دیا “پھر میں اسے اور گالیاں دوں گا۔ “اس بات سے استاد بہت خوش ہوا اور اس کو خوب داد دی۔ دلبر کے حالات بدل گئے ۔ وہ اب دن بھر سوشل میڈیا پر اپنا محبوب کام کرنے لگا ۔ اس نے راولپنڈی کے گنجان علاقے مری روڈ پر اپنا دفتر کھول لیا، چند ملازم رکھ لیے اور دفتر کے باہر جلی حروف سے” سینئر صحافی اور تجزیہ کار ” لکھوا دیا۔ اگر چہ اس پر صحافت اسی طرح وارد ہوئی تھی جس طرح پرانی فلموں میں سیڑھیوں سے گرنے پر ذہنی توازن ٹھیک ہو جاتا ہے۔ کئی صحافی بھی اس کے ساتھ اس کاروبار میں شامل ہوگئے۔ یہ اچھے صحافی تھے مگر امتداد ِزمانہ نے انھیں گالیاں دینے کے منصب پر فائز کر دیا۔
دلبر اپنے کام میں جلد ہی طاق ہو گیا ۔اس کے ہر ملازم نے دو ، دو سو آئی ڈیز بنا لیں۔ ان کے فالورز بہت کم ہوتے ۔ان کو ایک اکاؤنٹ سے گالی دے کر اگلے اکاؤنٹ کی جانب بڑھ جانا تھا۔ سب فیک اکاؤنٹس پرکہیں فوج کی ولولہ انگیر تصاویر لگائیں، کسی پر کلمہ لکھا، کسی پر وزیر اعظم کی تصویر نقش کی اور کسی پر آیات ِقرانی تحریر کر دیں۔ ان مبارک نقوش کے نیچے گالم گلوچ کا کاروبار بہت سہولت سے ترقی پاتا رہا ۔دلبر نے اس طرح فیک فالورز کی ایک طویل فہرست بنا لی۔ وہ لوگوں کو یو ٹیوب کے چینل بنا کران کو اپنے فالورز سے “مونوٹائز” بھی کروا کے دیتا۔ ان چینل کے مالکان عموما سرکاری ترجمان یا زہریلے تجزیہ کار ہوتے جو دلبر کی مدد سے لمحوں میں ٹوئیٹر کو غلاظت کا ڈھیر بنانے میں کامیاب ہو جاتے۔ یہ کاروبار اتنا قانونی نہیں تھا کیوں کہ اگر یوٹیوب اور ٹوئیٹر انتظامیہ کو اس کی خبر ہو جاتی تو اس کو بین کردیتے ۔ لیکن دلبر اپنے استاد کی شہہ پر بڑی دلیری سے یہ کام کرتا ،جب کوئی اعتراض کرتا تو اس کو”تڑی” لگاتا کہ جس نے میری ایف آئی اے یا سائبر کرائم برانچ میں شکایت کرنی ہے وہ بھلے کر دے ۔ دلبر جانتا تھا کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
اوپر سے حکم آتا کہ کس کے خلاف کتنا غلیظ ٹرینڈ چلانا ہے، کس کو “رنڈی ” اور کس کو “گشتی” کی تہمت سے سرفراز کرنا ہے۔ کس صحافی کو ماں بہن کی گالی دینی ہے،کس کےمرے ہوئے عزیزوں پر دشنام کی بارش کرنی ہے ، کس سیاسی شخصیت کو بدنام کرنا ہے ، کس مردے کی قبر خراب کرنی ہے، کس کی شبینہ داستانیں طشت از بام کرنی ہیں۔ گالی کی کثافت بڑھتی تو دلبر کے انعام و اکرام میں بھی اسی قدر اضافہ ہوتا۔
دلبر کا کاروبار بڑھنے کے باوجود اس کی نجی شبینہ مصروفیات وہی رہیں ۔ گھر میں بیوی اور ماں پائی پائی کو ترستے رہے مگر دلبر کی رات گئے کی غیر نصابی سرگرمیوں پر زیادہ تر کمائی صرف ہو جاتی۔ ماں تو اس کے لچھن سے واقف تھی ، روز اس سے پوچھتی”بیٹا یہ پیسے تمھارے پاس کہاں سے آتے ہیں ، کہاں جاتے ہی ، کاروبار کیا ہے تمھارا؟” دلبر اس کے سوالوں کو ان سنا کر دیتا۔ ماں نے ایک دن اصرار کیا ” بیٹا تم کرتے کیا ہو آخر، کچھ پتا تو چلے؟”دلبر جان پہلے تو چپ رہا اور پھر سچ بول ہی دیا “ماں میں دوسروں کی ماؤں کو گالیاں دیتا ہوں۔” یہ کہہ کر دلبر تو اپنی نئی گاڑی کی چابی گھماتے گھر سے نکل گیا لیکن ماں نے آنسوں سے بھرا چہرہ اپنی چادر میں چھپا لیا۔
نوٹ: یہ کہانی فرضی ہے،کسی کردار سے مماثلت کا دوش سماج پر ہو گا۔ ہاں البتہ اس کالم کے کمنٹس میں آپ خود ان گالیاں دینے والے اکاؤنٹس کے فالورز کی تعداد کا جائزہ لے کر اس پر حقیقت کا گمان بھی کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 205 posts and counting.See all posts by ammar