قومی اسمبلی: پھر شور شرابہ، پی ٹی آئی ارکان کو غنڈہ کہنے پر سعد رفیق کی معذرت، وزیر اعظم نے جھوٹا بیان نہیں دیا، وزیر ریلوے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"\"

قومی اسمبلی کے اجلاس میں دوسرے روز بھی شور شرابا ہوا اور اجلاس 2 گھنٹے تاخیر کا شکار رہا۔ 4 بجے شروع ہونے والا اجلاس 6 بجے کے بعد شروع ہوا اور اس میں خورشید شاہ کی طرف سے مصالحت کی کوششوں نے اہم کردار ادا کیا۔ حکومت سرکاری بنچز کے پہلے بولنے کے حق سے دستبردار ہو گئی۔ اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت ہوا۔ اپوزیشن لیڈر کی پی ٹی آئی کو ایوان میں خطاب کرنے کی تجویز دینے پر سپیکر نے ہاؤس کا سیسنس لیا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہم اپوزیشن لیڈر کا احترام کرتے ہیں پہلے بھی ان کی بہت سی باتیں مانی ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کو موقع ملنا چاہیے۔ ہم اپوزیشن سے بات کرنے کیلئے تیار ہیں۔ سپیکر نے پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی کو اپنا مؤقف بیان کرنے کیلئے کہا۔ شاہ محمود قریشی خطاب کرنے لگے تو عابد شیر علی اور دیگر مسلم لیگی ارکان نے شور مچانا شروع کر دیا۔ جس پر ایک بار پھر تلخی پیدا ہوئی تاہم سپیکر نے صورتحال سنبھال لی۔ قبل ازیں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے وزیراعظم کی ہدایت پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو چیمبر میں بلایا۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور سید نوید قمر نے سپیکر سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی۔ سپیکر نے اپوزیشن لیڈر سے پی ٹی آئی کو منانے کا کہا۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ احتجاج اپوزیشن کا حق ہے۔ آپ پی ٹی آئی کو بولنے کا حق دیں۔ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ سعد رفیق پی ٹی آئی کے ارکان کو غنڈہ کہنے پر معافی مانگیں۔ وزیراعظم اسمبلی میں آ کر وضاحت کریں کہ ان کا ایوان میں دیا گیا بیان غلط تھا یا عدالت میں ان کے وکلاءنے جو بیان جمع کرایا ہے وہ غلط ہے۔ ایوان میں جھوٹ بولا گیا جس سے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا۔ انہوں نے کہا ہے کہ دو سوالات آپ کی خدمت میں لے کر آیا ہوں۔ سپیکر صاحب آپ سے درخواست کی تھی کہ 10 منٹ دیئے جائیں۔ اگر دس منٹ دیئے جاتے تو اپنا نکتہ تحریک استحقاق کی صورت میں پیش کر دیتا۔ میں نے دیکھا کہ بدھ کے روز سپیکر اسمبلی کچھ دبا¶ میں ہیں۔ ہماری بات مان لی جاتی تو ہنگامہ نہ ہوتا۔ پہلی بار ایوان میں نہیں آیا، قوانین سے واقف ہوں۔ میں 80 لاکھ ووٹرز کا نمائندہ ہوں۔ سپیکر سے توقع کرتا ہوں انہوں نے میری آواز پر توجہ دینی ہے۔ میں ر ولز آف بزنس قوانین سے واقف ہوں۔ میں ادب کرنا جانتا ہوں یہ نوبت کیوںآئی کہ مجھے سپیکر کے بجائے ایاز صادق کہنا پڑا۔ اور سپیکر کے احترام میں کبھی رخنہ اندازی نہیں کی۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا پی ٹی آئی کے غنڈوں کا منہ بند کریں۔ سپیکر نے کہا کہ قریشی صاحب شور بہت تھا جس کی وجہ سے میں یہ بات نہیں سن سکا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خواتین کو بھی غنڈہ کہا یہ مشرقی تہذیب ہے۔ کیا منتخب نمائندے غنڈے نہیں۔ سپیکر کرسی پر ہے تو جیالا نہیں بن سکتا۔ جیالا بننا ہے تو کرسی سے نیچے آئیں۔ مجھ کرسی پر سپیکر نہیں ن لیگ کا جیالا دکھائی دے رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے تحریک استحقاق کا علم نہیں تھا۔ اگر معلوم ہوتا تو تحریک استحقاق پیش نہ کرتا۔ سپیکر سے توقع تھی کہ وہ ہمارا موقف ضرور سنتے۔ سپیکر ہمیں بلانے اور تحریک مسترد کرنے کی وجوہات بتاتے یہ کونسی ہاتھ کی میل ہے آتی جاتی رہتی ہیں۔ ایم این اے ایاز صادق کیلئے ضروری نہیں کہ میرا موقف سنیں۔ سپیکر پر لازم ہے کہ ہمارا موقف سنیں۔ تحریک استحقاق مسترد کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا تھا۔ ہمیں سنے بغیر رولنگ دیدی گئی۔ سپیکر نے رولنگ کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کیں۔ آپ نے اندھیرے میں فیصلہ دیا۔ سپیکر نے کہا کہ اندھیرا نہیں تھا، لائٹس چل رہی تھیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اقتدار کے نشے میں دھت کوئی میرے حقوق پامال کرے گا تو آواز اٹھاﺅں گا۔ طاقت کے نشے میں کوئی آواز اٹھائے گا تو آپ کو دفاع کرنا ہوگا۔ وزیراعظم بتائیں پارلیمنٹ والا مو¿قف درست ہے یا عدالت والا۔ وزیراعظم نے وضاحت دیدی تو کافی حد تک تشنگی ختم ہو جائے گی۔ بعدازاں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعدرفیق نے کہا ہے کہ کسی کو غنڈہ نہیں کہا، غنڈہ گردی کے الفاظ استعمال کیے‘ اپنے الفاظ واپس لینے کے ساتھ معذرت خواہ بھی ہوں۔ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم کے باے میں بھی نازیبا الفاظ واپس لیے جائیں۔ امید کرتا ہوں آپ میرے قائد کیلئے کہے نازیبا الفاظ کو واپس لیں گے۔ آپ بھی بڑے پن اور بڑے ظرف کا مظاہرہ کریں معافی مانگ لیں‘ ہم میں سے کوئی بھی غصہ کرے گا تو اس کی عقل ماری جائے گی۔ اختلاف ایک حد تک رہنا چاہیے‘ پارلیمان کو سپریم کورٹ نہیں بناسکتے۔ وزیراعظم نے جو تقریر کی پارٹی اسے تسلیم کرتی ہے‘ ہم جھوٹ کی سیاست نہیں کرتے‘ ہمیں پتہ تھا عدالت جانا ہے اس لئے جھوٹ نہیں بولا۔ ہماری قیادت کو گالی دی جائے گی تو ہمارے بھی جذبات ہیں‘ ہم ایک دوسرے کے دشمن نہیں‘ میں پھڈا ڈالنے والا آدمی نہیں لڑائی نقصان دیتی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے کوئی جھوٹا بیان نہیں دیا‘ ایک دوسرے کی قیادت کے خلاف گالم گلوچ کرنا درست نہیں۔ آپ نے کہا کہ میرے ساتھ کوئی حادثہ ہوسکتا ہے‘ میرے والد کے ساتھ بھی حادثہ ہوا تھا‘ میرے والد کو حادثے کا شکار کیا گیا‘ والدہ بھی حادثے کا شکار ہوئیں۔ ہم سیاستدان ہیں ہمارے سیاسی بیان سچ پر مبنی ہیں، کبھی کبھی بولتا پڑتا ہے۔ ہم ہر وقت نہیں بولتے‘ ہمیں مسلسل گالیاں دی جاتی ہیں اور ہم سنتے ہیں، کوئی اور جعل ساز کہے تو یہ ناقابل برداشت ہے۔ پانامہ پیپرز پر بات کرنا چاہیں تو آئیں بیٹھ جاتے ہیں۔ ایوان میں دیا گیا بیان جھوٹا بیان نہیں ہوتا۔ ہم سب سیاستدان ہیں‘ ہم جھوٹ نہیں بولتے، پانامہ لیکس کا معاملہ ہم خود بھی نہیں چھوڑیں گے۔ آپ اور ہمارے درمیان رشتہ ہے یہ ختم نہیں ہوسکتا، آپ استعفے پھینک جائیں تو ہم سینے سے لگا لیتے ہیں، آپ نے جب لڑائی کرنی ہو تو ایوان میں واپس آجاتے ہیں۔ آپ نے کہا تھا اگر عدالت میں دھاندلی ثابت نہ ہوئی تو اپنے الفاظ واپس لیں گے‘ ہم نے کہا تھا دھاندلی ثابت ہو جائے تو پارلیمنٹ چھوڑ دیں گے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود پی ٹی آئی نے الزام واپس نہیں لیا۔ شاہ صاحب! آپ ہمیں جعل ساز کہیں تو کیا ہم جواب بھی نہ دیں؟ مجھے بات کرنے دیں ورنہ پھر آپ کہیں گے غیر پارلیمانی بات کرتا ہوں۔ آپ کے الزام پر ہم گونگے بہرے بن جائیں تو لوگ سمجھتے ہیں آپ سچ بول رہے ہیں۔ ہم پانامہ پیپرز کے ساتھ اگلے الیکشن میں نہیں جانا چاہتے۔ سعدرفیق نے اپنے خطاب کے دوران بار بار مداخلت پر پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شیریں مزاری کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے۔ سعدرفیق نے کہا کہ بی بی میں آپ کا مابلہ نہیں کرسکتا۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق نے کہا ہے کہ یرے پاس ارکان کو دینے کیلئے کچھ نہیں، سوائے عزت کے۔ کوشش ہے جو کچھ کروں انصاف کے ساتھ کروں۔ ایوان میں خطاب کرتے انہوں نے کہا کہ ایوان کو ہی نہیں اللہ کو بھی جوابدہ ہوں، آئین کی کتاب پھاڑنے پر بہت افسوس ہے۔ آئین کی کتاب کو اچھالا گیا، شاہ صاحب! آپ نے پارلیمان میں کہا کہ میرا رویہ غیر جانبدار ہے‘ جس کتاب کو مقدس سمجھتے ہیں اسے زمین پر پھینکا گیا، آپ نے بھی کہا کہ گزشتہ روز جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے۔ میں کوشش کرتا رہوں گا کہ غیر جانبدار رہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply