گرلز کالج کا گیٹ۔ رادھا اور گوپال
اپنے بیڈروم میں پڑے چھوٹے سے کمپیوٹر ٹیبل کے سامنے گھومنے کھلنے والی آرام کرسی پہ سامنے سٹول پہ پاؤں رکھے اپنے پسندیدہ پرانے گیتوں کی ایک پلے لسٹ لگا نیم دراز ہوا تو یک دم تیز جھکڑ کے ساتھ رات کی جمع برف کے گالوں کے بادلوں کے کھڑکی کے ساتھ ٹکراتے شور مچاتے منظر نے سماں باندھ دیا۔ ادھر رفیع کی آواز ابھرنا شروع ہوئی۔
دروازوں سے ٹکرا جاتے ہیں۔ دیواروں سے۔ دیواروں سے باتیں ہوتی ہیں۔ دیواروں سے باتیں ہوتی ہیں۔ دیواروں سے باتیں ہوتی ہیں اور برف کے اڑتے بگولے کی دیواروں سے باتیں کرتے کوئی چوؔن برس قبل کے اوائل دسمبر میں اپنی دکان کی کرسی پر بیٹھے سامنے سٹول پر ٹانگیں رکھے سرکلر روڈ فیصل آباد کی بھیگی شام میں پہنچ گیا۔ بارش تیز ہوا اور سردی نے سڑک ویران کر رکھی تھی۔ کبھی کوئی سائیکل یا تانگہ گزرتا۔ میں سامنے سامان والی الماری کے شیشے سے پچھلی طرف کا عکس دیکھنے لگا کیچڑ۔ کھڑا پانی۔ اڑتے چھینٹے اور ان کے پیچھے دور گرلز کالج کا گیٹ نظر آ رہا تھا۔ اچانک بائیں ہاتھ کرسی پر ایک رسالہ پڑا نظر آیا۔ دہلی سے نکلنے والے۔ افسانوں پر مشتمل۔ ”بیسویں صدی“ کا فروری 1965 کا شمارہ۔ اوہ تو یہ غالباً کچھ دیر قبل اٹھ کے جانے والے دوست بھول گئے تھے۔ بارش کا شور تیز ہو چکا تھا اور پڑھنے کو جی نہ چاہ رہا تھا۔ ورق گردانی کرتے ایک عنوان پہ نظر ٹھیر گئی۔ ”مختصر مختصر افسانہ۔ دو صفحوں میں مکمل“ چلو دل لگاتے ہیں۔ پڑھا اور۔ اب اور مختصر کر سناتا ہوں۔
بوڑھی رادھا بادلوں کی گڑگڑاہٹ اور برستی گھنگھور گھٹا کا شور سن چارپائی سے اٹھ سہارا لیتی کھڑکی پاس آ باہر کا نظارہ کرنے لگی۔ اس کا بیٹا اور نئی آئی بہو بارش میں بھیگتے نہاتے ایک دوسرے پر کیچڑ پھینکتے بھاگتے لپٹتے اٹکھیلیاں کر رہے تھے۔ چند پل تکتی رہی رادھا کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ اور آنکھوں میں چمک آنے لگی اور وہ بہت دور دریا کنارے بنے مندر کے سامنے درختوں کے نیچے ایسی ہی برستی گھٹا میں جوان گدرائے جسم والی۔
اپنے محبوب گوپال کی باہوں میں لپٹی کئی دہائیاں قبل کی رادھا بن گئی۔ کبھی درختوں میں دوڑتے۔ کبھی کیچڑ پھینکتے۔ وہ درخت کے پیچھے چھپتی۔ وہ جانتے بوجھتے انجان بن ڈھونڈتا۔ جانے کتنی دیر جوان رادھا جوان گوپال کی باہوں میں جھولتی رہی تھی۔ بجلی کڑکی۔ وہ گوپال کے ساتھ چمٹی وہ اسے اٹھانے لگا اور اس کی گرفت سے نکلنے کے لئے کہنی کے اوپر دانت گاڑ بھاگی تھی اور اس کی چیخ سن دانتوں کے نشان پر ہونٹ رکھ اس کے کان کی لو کو مسلتی شرارتی آنکھیں مٹکاتی بھاگ کھڑی ہوئی تھی۔ اس وقت برستی بارش میں صحن میں بیٹا اور بہو نہیں وہ اور اس کا محبوب گوپال تھے۔
عین اس وقت دریا کنارے مندر کا بوڑھا پجاری گوپال چبوترے پہ بنی بارہ دری کے نیچے کھڑا سامنے درختوں کے جھنڈ پہ پڑتی بارش کی پھوار کو دیکھ رہا تھا۔ ہوا کے تیز جھونکے کے ساتھ آئی بوچھاڑ نے اس کو کیا بھگویا وہ برسوں برسوں پہلے کا درختوں کے جھنڈ میں ایسی بارش میں بھیگتا نہاتا گوپال بن گیا۔ اور رادھا اس کی باہوں میں مچل پھسل رہی تھی۔ وہ کیچڑ پھینک رہی تھی۔ گوپال اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ وہ اس درخت کے پیچھے جا چھپی تھی۔
اس نے چپکے سے پیچھے سے آتے اسے باہوں میں لے لیا تھا پتہ نہیں کب تک دونوں مست رہے تھے۔ پھر جب وہ بجلی کڑکنے پر اس کے ساتھ چمٹی تھی۔ بوڑھے۔ گوپال کا ہاتھ دوسرے ہاتھ کی کہنی کے اوپر جا لگا جہاں اس نے دانت لگائے تھے اور پھر اسے کان کی لو پر رادھا کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا۔ بجلی کڑکی۔ بارہ دری کے باہر فرش پر پانی کھڑا ہو چکا تھا۔ اور اس میں گوپال اپنا عکس دیکھ رہا تھا۔ بازوؤں کا لٹکا ہوا گوشت۔ جھریوں بھرا چہرہ۔
جھکی کمر۔ بغیر بال کے سر۔ گوپال کیا ہو چکا تھا۔ مگر رادھا۔ رادھا تو ویسی ہی تھی۔ وہی جوان۔ اسی لباس میں۔ انہی اداؤں کے ساتھ۔ اتنے سالوں میں اس نے جب بھی اسے دیکھا۔ سپنے میں۔ دل میں آنکھوں کے آنسوؤں میں۔ ایسی ہی دیکھا تھا۔ اسی شبیہ میں اسی چمکتے مسکراتے چہرے کے ساتھ۔ تب بارہ دری کے ستون کے ساتھ لگے مندر کے بوڑھے پجاری گوپال کے منہ سے نکلا۔
” اچھا ہوا رادھا۔ تو مجھے نہ ملی۔ دیکھ میں کتنا بوڑھا۔ اور۔ تو۔ تو میرے من مندر میں۔ میرے سپنوں میں۔ میرے دل میں میری آنکھوں میں۔ جب بھی دیکھوں جہاں بھی دیکھوں ویسی ہی سندر ویسی ہی جوان ویسی ہی موہنی ہو۔ جیسی میری باہوں میں لپٹی گھنگھور گھٹا میں کھڑی تھی۔ اچھا ہوا تو میری نہ ہو سکی رادھا۔
افسانہ ختم ہو چکا تھا اور میرے ذہن میں میرے دوست کا نکلتے وقت کہا فقرہ گونج رہا تھا۔
” یہ طبقاتی امتیاز۔ یہ رشتہ داریوں کے جھگڑے۔ یہ ذات برادری کی ڈوریاں۔ یہ فرقوں کے فتوے۔ اگر نہ ہوں۔ تو بہت سی آنکھوں میں ٹوٹے خواب اور دلوں میں درد نہ ہو۔
میں نے سامنے دیکھا۔ پانی کی کی پھوار کی نمی الماری کے شیشے کو نم کر چکی تھی۔ سڑک خالی ہونے کے باوجود اس کا عکس نظر نہیں آ رہا تھا۔ گرلز کالج کا گیٹ بھی دھندلی ہیولا سا بن چکا تھا۔ اور شام کا اندھیرا گہرا ہو چکا تھا۔
”کھانا تیار ہے آ جائیں“ کی آواز نے چونکا دیا تو آئی پیڈ پر لگائی میرے پسندیدہ گیتوں کی پلے لسٹ پر ”برہا کے سلطان“ کا لقب پانے والے شو کمار بٹالوی کی دردیلی آواز سر بکھیر رہی تھی
” اک کڑی۔ جیہدا نام محبت۔ گم ہے۔ گم ہے۔ گم ہے۔
لم سلمؔی۔ سرو دے قد دی۔ گم ہے گم ہے۔
گمیاں اس نوں مدتاں ہوئیاں۔
پر ایوں لگدا جیویں کل دی گل ہے
ایوں لگدا جیویں اج دی گل ہے
ایوں لگا جیویں ہن دی گل ہے ”
اور واش روم میں پوری دیوار پر لگے آئینے کے سامنے گرم گاؤن پہنے ہاتھ دھوتا اسی سالہ لئیق احمد یاد کر رہا تھا۔ انیسویں صدی کی چھٹی دہائی میں ”بیسویں صدی“ میں پڑھا یہ افسانہ بیسویں صدی کی تیسری دہائی شروع ہونے کے چند دن پہلے تک اکثر محفلوں میں مجلسوں میں اجتماعات میں گھریلو اور دوسری جگہوں گفتگو۔ گپ شپ کے دوران جانے کتنی جگہ کتنے افراد میں جوانوں میں بوڑھوں میں مردوں میں عورتوں میں اچانک بھیگتی ہوئی پلکوں میں دل کی گہرائیوں میں دبی کوئی رادھا۔
کوئی گوپال چمکنا شروع ہوتا دکھلا جاتا رہا ہے۔ جیسے۔ جیسے۔ گرلز کالج کے گیٹ سے نکلی کتابیں سینے لگائے لڑکیوں کے جھرمٹ میں ایک نمایاں سی۔ سادہ سی۔ لمبی گردن والی لڑکی چلتے چلتے اچانک غیر ارادی یا موقعہ ڈھونڈتے ایک لحظہ کے لئے منتظر نگاہوں میں اپنی بادامی نگاہوں سے دیکھتی ہونٹوں کو ہلکا بل دیتے یہ پیغام چھوڑ جاتی ہو۔ میں نگاہوں سے فقط دل میں اترا کرتی ہوں۔ کسی کونے میں میں چھپا رکھو۔ جب بھی تم تنہا ہو گے اداس ہو گے۔ پریشان ہو گے۔ خوش ہو گے۔ میں تمہارے ساتھ آ کھڑی ہوں گی۔ پھر باتیں کریں گے۔ پھر گپ شپ ہوگی۔ پھر تم اسی جگہ اسی عمر میں لوٹ آؤ گے۔ پھر میں ایسے ہی ہرنی کی سی گردن اور بادامی آنکھوں سے ایک نظر دیکھتے ہی وہی لڑکیوں کے جھرمٹ میں جاتی۔ نمایاں سی۔ سادہ سی لڑکی بن جاؤں گی۔ جس کا نہ تم جانو ہو نہ اتہ پتہ۔ بس تم نے دل کے کسی کونے میں چھپا رکھا ہے۔ اور اور اور۔ شاید میں نے بھی۔
تب میرے دوست کا یہ فقرہ۔ یہ طبقاتی امتیاز۔ یہ رشتہ داریوں کے جھگڑے۔
میں سیڑھیاں اتر رہا تھا۔ اور فیس بک پر کسی کی لگائی کسی پنجابی شاعر کی مشاعرے میں سنائی جا رہی غزل کا یہ شعر رنگ بھر رہا تھا۔
راتیں گھاہ دیاں پلکاں اتے
ویلا اتھرو دھر جاندا اے

