کریمہ بلوچ کی موت اور ٹویٹر ٹرینڈ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا پر بدزبانی، کردار کشی اور مہم جوئی اب کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اس باب میں ٹویٹر من حیث القوم ہمارے عدم برداشت پر مبنی رویوں کا بھرپور عکاس ہے۔ بے شمار گمنام اکاؤنٹس صبح و شام حالت جنگ میں رہتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے جتھے ہیں جو ایک دوسرے پر ہمہ وقت حملہ آور دیکھے جا سکتے ہیں۔ اکثر سطحی جملے بازی اور ذاتیات پر مبنی دشنام طرازی ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ افسوس مگر اس وقت ہوتا ہے جب اچھے خاصے قد کاٹھ کی شخصیات نفرت اور بے جا تعصب میں ڈوب کر اچانک کہیں سے نمودار ہو جانے والے ”ٹرینڈ“ کی رو میں خشک تنکوں کی طرح بہہ نکلتی ہیں۔

ٹویٹر کو دیکھ کر بے ساختہ زیر زمین آباد چیونٹیوں کے طلسم ہوشربا شہر یاد آ جاتے ہیں۔ درجنوں، سینکڑوں اور ہزاروں ’ورکرز‘ جہاں لاتعداد باہم متصل سرنگوں میں دن رات سرگرم عمل رہتے ہیں۔ ٹویٹر پر بھی بظاہر باہم پیوستہ اور ہم فکر و ہم خیال افراد جتھوں (Nests) کی شکل میں کارفرما رہتے ہیں۔ وطن عزیز کو جس ففتھ جنریشن جنگ کا سامنا ہے اس کا اظہار ایسے کئی جتھوں کی ٹویٹر پر موجودگی اور منظم سرگرمیوں کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک کے بعد ایک واقعے یا کسی شخصیت کے بیان کو بنیاد بنا کر جب دستانہ پوش ہاتھ کسی ایک ’ٹرینڈ‘ کا آغاز کرتے ہیں تو سینکڑوں گمنام اور درجنوں معروف اکاؤنٹس خاک اڑاتے اس قافلے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ معروف شخصیات جو مین سٹریم میڈیا بالخصوص پرنٹ میڈیا میں بہ امر مجبوری کچھ رکھ رکھاؤ سے کام لیتی ہیں، ٹویٹر کے اوپر کھل کھیلتی ہیں۔

بڑی سیاسی پارٹیوں کے سوشل میڈیا جتھوں کے علاوہ ٹویٹر پر جو گروہ سب سے زیادہ فعال اور منظم نظر آتا ہے وہ ہمارے محبوب ’جمہوریت پسند لبرلز‘ کا ہے۔ چھوٹے بڑے کی تخصیص کے بغیر اس گروہ کا ہر رکن خود کو ترقی پسند، روشن خیال اور اپنے تئیں دانشور سمجھتا ہے۔ زعم برتری کے مارے چڑچڑے دانشور۔ جو ہم آپ عامی پاکستانیوں کو ’نیم خواندہ‘ سمجھتے، جمہوریت کے فوائد گنواتے اور اختلاف رائے کے فضائل سمجھاتے پائے جاتے ہیں، اپنی ذات سے عشق میں مبتلا، نا موافق رائے کے سامنے خود مگر فوراً سے پیشتر طیش میں آ جاتے ہیں۔

باہم دادو تحسین کے ڈونگرے برساتے مگر ہم جیسے اختلاف رائے رکھنے والوں کے ساتھ حقارت سے برتتے ہیں۔ زیر نظر کالم لکھنے سے قبل کچھ خاص بڑے نام والے اکاؤنٹس کو بوجہ دیکھنا چاہا تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ لکھنے اور بولنے کی آزادی مانگنے والے چند ’لبرل مشاہیر‘ نے مجھ جیسے عامی کو ٹویٹر پر بلاک کر رکھا ہے۔ میں ٹویٹر پر شاذ و نادر ہی کچھ لکھتا ہوں۔ بدزبانی کا تو کبھی سوچا بھی نہیں۔ ضرور میری کوئی خامہ فرسائی، انسانی حقوق کے کچھ علمبرداروں کو ناگوار گزری ہوگی۔ ضرور سوچ میں اختلاف ہی طبع نازک پر گراں گزرا ہوگا۔

حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ”انڈین کرانیکل“ نامی رپورٹ چشم کشا انکشافات سے بھری پڑی ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارتیوں کی ایماء پر 265 جعلی میڈیا تنظیمیں گزشتہ 15 سالوں سے بھارتی عزائم کو پروان چڑھانے اور پاکستان کو اقوام متحدہ اور یورپی یونین جیسے اداروں کے سامنے بدنام کرنے میں سرگرم عمل رہی ہے۔ انفو لیب نامی آزاد ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس مہم جوئی میں مردہ افراد، جعلی اداروں، بوگس تھنک ٹینک اور مشکوک این جی اوز کے ذریعے پوری دنیا میں عقل دنگ کردینے والا جال پھیلایا گیا۔

65 سے زائد ملکوں میں پھیلائے جانے والے پاکستان مخالف مواد کی کڑیاں نئی دہلی میں قائم سری واستوو گروپ سے جا ملتی ہیں۔ گروپ سے منسلک لاتعداد جعلی اشاعتی ادارے مخصوص مصنفین کی کتابیں اور مضامین شائع کر کے دنیا بھر میں تقسیم کرتے۔ گروپ سے ہی وابستہ گھوسٹ اخبارات و جرائد پاکستان مخالف افراد کے انٹرویوز اور بیانات شائع کرتے، جنہیں گروپ کی ذیلی تنظیموں کے پلیٹ فارمز سے پوری دنیا میں پھیلایا جاتا۔ مثال کے طور پراس نیٹ ورک کے ایک جعلی اخبار ’ٹائمز آف جنیوا‘ میں شائع ہونے والے حسین حقانی کے پاکستان مخالف ایک انٹرویو کو بدنام زمانہ بھارتی نیوز ایجنسی ANI کی وساطت سے بھارتی اخبارات میں بڑے پیمانے پر تشہیر دی گئی۔

اسی گروپ کے زیر اثر یورپین پارلیمنٹرینز کی ایک بڑی تعداد کو مخصوص ایجنڈے کے تحت مقبوضہ کشمیر کا دورہ کروایا گیا۔ بعد ازاں ان سب کی مودی سے ملاقات کا اہتمام بھی کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اسی گروپ اور اس کی ذیلی تنظیموں کے زیر اہتمام اقوام متحدہ، یورپین پارلیمنٹ اور اہم مغربی دارالحکومتوں میں نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں پاکستان مخالف مظاہرے کرتیں۔ مذاکرے منعقد کرائے جاتے جن میں سوشل میڈیا پر پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف زہر اگلنے کی پہچان رکھنے والے چہرے دنیا بھر سے شمولیت کے لئے لائے جاتے۔

اسی سلسلے میں سال 2011 میں ’فرینڈ آف بلتستان‘ کے نام سے امریکہ میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا اور پاکستان اور اس کے عسکری اداروں کے خلاف جی بھر کر ہرزہ سرائی کی گئی۔ ’بلوچستان ہاؤس‘ ، ’ساؤتھ ایشین ڈیموکریٹک فورم‘ ، اور ’یورپین آرگنائزیشن فار پاکستان مینارٹیز‘ نامی تنظیمیں قائم کی گئیں۔ ان تنظیموں کے ناموں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کے قیام اور سرگرمیوں کا مقصد جہاں پاکستان اور اس کے اداروں کو دنیا بھر میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کے حوالے سے بدنام کرنا تھا، وہیں پاکستان کے اندر پاکستان مخالف قوم پرست تنظیموں کی آبیاری اور سرپرستی کرنا بھی تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور اس کے عسکری اداروں کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنے کی خاطر لاکھوں فیک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مشتمل نیٹ ورک قائم کیا گیا۔ اس بھارتی نیٹ ورک میں پاکستان کے اندر اور باہر مقیم ان افراد کو استعمال کیا گیا جو ریاستی اداروں بالخصوص افواج پاکستان سے انتہائی نفرت اور تعصب کے لئے جانے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے کئی ایسی سماجی اور سیاسی شخصیات بھی بوجہ اس معاندانہ مہم کا حصہ بنیں جو خلوص نیت سے انسانی حقوق، اقلیتوں اور مذہبی آزادیوں کی بات کرتی ہیں۔

حال ہی میں کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں کریمہ بلوچ نامی ایک خاتون کی لاش پائی گئی تو پاکستان مخالف نیٹ ورک نے پاکستان اور اس کے سکیورٹی اداروں کے خلاف ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کو اس قتل کا براہ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے پوچھا گیا کہ کیا بلوچوں کی قسمت میں جلا وطنی میں مرنا ہی لکھا ہے۔ ’سول سوسائٹی‘ نے آسمان سر پر اٹھاتے ہوئے مرحومہ کے نام سے خصوصی دن منانے کا اعلان کر دیا۔ ’عورت مارچ‘ نے ’انسانی حقوق کی ترجمان‘ خاتون کے قتل کی نتیجہ خیز تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

’جسٹس فار کریمہ بلوچ‘ دیکھتے ہی دیکھتے ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ افسوس کہ کئی معروف صحافی، سیاسی اور سماجی افراد محض سیاسی بغض یا ذاتی عناد کی بنا پر ریاست اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی اس مہم میں شامل ہو گئے۔ قومی اداروں سے مخاصمت کی پہچان رکھنے والے کئی دیگر چہروں کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بھی موقع غنیمت جانتے ہوئے کریمہ بلوچ کی موت پر شروع کی جانے والی معاندانہ اور نفرت انگیز مہم میں حسب توفیق حصہ ڈالا۔ اس امر کے باوجود کہ سویڈش پولیس کچھ عرصہ قبل سویڈن میں وفات پانے والے ساجد حسین کو ’قتل‘ کیے جانے کے امکان کو سرے سے رد کر چکی ہے، آپ اس واقعہ کا ذکر اس موقع پر بوجہ کرنا نہ بھولے۔

23 دسمبر کے دن ٹورنٹو پولیس نے سرکاری طور پر اعلان کر دیا ہے کہ کریمہ بلوچ کی موت کسی ”مجرمانہ سرگرمی“ کا نتیجہ نہیں ہے۔

صرف ’ہم سب‘ کے لئے :

’ہم سب‘ کے لئے لکھنا میرے لئے ایک اعزاز کی بات رہی ہے۔ میں وجاہت مسعود صاحب کا مشکور و ممنون ہوں کہ اپنے مؤقر جریدے میں انہوں نے مجھ نوآموز کو لکھنے کا موقع بخشا۔ مجھے اندازہ ہے کہ میری خیالات سے انہیں کئی مواقع پر شدید اختلاف رہا ہوگا۔ میرے اسلوب کی کم مائیگی بھی آڑے آتی ہوگی۔ مگر اس سب کے باوجود مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ کسی بھی موضوع پر لکھے گئے میرے مضامین ’ہم سب‘ میں جوں کے توں چھپتے رہے ہیں۔

میں نے وجاہت صاحب کو اس وقت پڑھنا شروع کیا تھا، جب قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف غیر علانیہ جنگ شروع ہو چکی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب دہشت گردوں کے خلاف بولنے اور لکھنے کے لئے بہت حوصلہ درکار ہوتا تھا۔ اس کے بر عکس دہشت گردوں سے برسر پیکار فوج پر تنقید اس سے کہیں بڑھ کر آسان تھی۔ وجاہت صاحب اس دور میں بھی حق لکھتے تھے۔

’ہم سب‘ سے رشتہ بنا تو وجاہت صاحب کے تمام مضامین، میں نواز شریف اور ان کی بیٹی کے بارے میں ان کے حالیہ خیالات اور ہر دو سے ان کی وابستہ امیدوں سے شدید اختلاف کے باوجود، بہت دلچسپی اور باقاعدگی سے پڑھتا ہوں۔ کسی بھی مصنف کے مستقل قاری، مصنف کی ایک شخصیت اپنے تصور میں گھڑ لیتے ہیں۔ وجاہت صاحب کا مستقل قاری ہونے کی بنا پر میں نے اپنے دماغ میں ان کا جو بت تراشا ہے وہ ایک ایسے شستہ مزاج مگر پرعزم شخص کا ہے جو اپنے افکار پر تو بلاخوف و خطر ڈٹ کر کھڑا ہے، اپنی بات کو نفاست سے کہنے کا سلیقہ مگر جانتا ہے۔

’ہم سب‘ میں لکھے گئے مضامین پر رائے رقم کرنے والے یوں تو لاتعداد ہیں، تاہم چند ایک نام اب ازبر ہو گئے ہیں۔ ان مانوس ناموں میں سے چند ایک ایسے ہیں جو وجاہت مسعود صاحب کو ’استاذی‘ سے لقب سے جانتے اور بڑی محبت سے ان کی تحریروں پر رائے ثبت کرتے ہیں۔ حیران کن طور پر وجاہت صاحب کو استاد ماننے والے جب ہم جیسے عامیوں کے ناموافق خیالات پر طبع آزمائی کرتے ہیں تو ان کے مزاج سرے سے بگڑ جاتے ہیں۔ وہ جو ہماری طرح کے بوڑھے طوطے ہیں، کہ جن کی سیاسی وابستگیاں اب ’پک‘ چکی ہیں، ان سے تو مجھے گلہ نہیں۔

مجھے فیک اکاؤنٹس سے اگلی جانے غلاظت پر بھی کچھ اچنبھا نہیں کہ یہی ان کی تخلیق کا بنیادی مقصد ہے۔ افسوس مجھے ان نوجوانوں کی زبان پر ہوتا ہے، جو بظاہر یونیورسٹی گریجویٹس نظر آتے ہیں، ترقی یافتہ ممالک میں زیر تعلیم یا کم از کم ایک عرصے سے مہذب معاشروں میں رہائش پذیر ہیں، مگر اختلاف رائے کا سلیقہ نہیں سیکھ سکے۔ تاہم سب سے بڑھ کر مایوسی مجھے ان نوجوانوں کی زبان پر ہوتی ہے جو وجاہت مسعود صاحب کو اپنا استاد مانتے ہیں، مگر مکالمے کے باب میں ’استاذ‘ کی شخصیت سے خاطر خواہ فیض پانے سے محروم رہ گئے۔

میری دانست میں ’ہم سب‘ کے قارئین زیادہ تر ایک خاص مکتب فکر سے وابستہ ہیں۔ جمہوریت، بنیادی حقوق اور شخصی آزادیوں کے حصول کو اپنا نصب العین قرار دینے والوں سے ہم جیسے امید رکھتے ہیں کہ وہ تحمل و برداشت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پر مبنی رویوں کے ذریعے اوروں کے لئے مشعل راہ بنیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •