نیا سال، نئی آس
نئی امیدوں کی بہار سجائے نئے سال کی آمد آمد ہے۔ اس نئے سال میں کچھ پرانے احساسات، کچھ خوبصورت یادیں، کچھ الجھے رشتے، کچھ اچھے برے تجربات، کچھ تلخ حقائق کچھ ان کہی داستانیں، اور کیا کیا کچھ خاموشی سے ہماری راہ تک رہے ہیں۔
کرونا کی آفت سے جھونجھتے لڑتے، وبا کے گزر جانے اور نئے سال کے آنے کا انتظار ہم سب نے بہت بے صبری سے کیا ہے۔ بہت سے پیچیدہ اور نا سمجھ آنے والے حالات کا سامنا بھی کیا۔ ان گنت مسائل پیدا کرنے کے علاوہ وبا کے گزرے دنوں میں کچھ اچھی یادیں بھی بنائی ہیں۔ کچھ رشتوں کو اور مضبوط کر دیا اور کچھ خستہ و شکستہ رشتوں کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا۔ رشتوں میں مطلب نہیں ہوتا اور جو مطلب کے لیے بنتے ہیں وہ رشتے نہیں ہوتے، محض دھوکہ و فریب ہوا کرتے ہیں۔ فریب چند لمحوں کا، فریب چند احساسات کا۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
رشتے بنانے کی، میں کوئی خاص طاقت نہیں رکھتی۔ الجھن تو میری ذات کی خاصیت ہے پھر چاہے وہ کسی بھی پہلو کو لے کر کیوں نہ ہو! مجھ سے جڑے لوگ ایک بات تو ضرور جانتے ہوں گے کہ میں پل میں توشہ پل میں ماشہ ہوتی ہوں۔ اعتدال پسندی سے میرا کبھی کوئی واسطہ نہیں پڑا۔ ہر کام میں شدت میرا خاصہ رہی ہے۔ کبھی بہت خوش تو کبھی بہت بدگماں، کبھی بہت پر جوش تو کبھی بہت خاموش۔
لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ اس کوشش میں ہوں کہ اپنے روویں میں اعتدال لا سکوں۔ پر پھر اپنی ہی ذات کے کسی دلدل میں دھنستے جانے کا احساس ہو اٹھتا ہے، خاموشی کی دلدل، یاسیت کی دلدل۔
دور۔ سب سے دور۔ چپ چاپ۔ بس خود سے لڑنے، خود سے جیتنے اور خود کو بدلنے کے چکر میں اندر ہی اندر کہیں کچھ ختم ہو رہا ہے۔ دوسروں کی بے معنی و لایعنی باتوں کے چلتے، کہیں اپنا اپنا کھونے لگا ہے۔ تو پھر فائدہ کیا ہوا خود کو بدلنے کا جب سب سے زیادہ نقصان اپنی ذات کا ہو رہا ہو۔
اور بدلنا بھی کیوں لوگوں کے کہنے پر؟
میں اکثر سوچتی ہوں بہت سے لوگ ہوں گے جو خود کو بدل رہے ہوں گے ۔ دوسروں کے کہنے پر۔ دوسروں کے لئے۔
پر کیوں؟
اس بدلاؤ کی بھینٹ تو اپنی ہی ذات چڑھے گی۔ اس ریت کو اس سال کے ساتھ ختم کرتے ہیں، اور آنے والے سال کے ساتھ خود کو وقت کے دھارے پر چھوڑتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں وقت کی لہریں کیا بدلاؤ لاتی ہیں۔ اس بدلاؤ کو اپناتے ہیں، اسے قبول کرتے ہیں۔ سچے دل سے۔ ایک مطلق یقین کے ساتھ۔ یقین اس حق باری تعالیٰ پر۔ اس کے فیصلوں پر۔ اس کی محبتوں پر۔
زندگی بہت چھوٹی ہے۔ کب، کہاں، کو موڑ پر دم ٹوٹ جائے معلوم نہیں۔ اسے اگر بدلنے میں گزار دیں گے تو جینے کا وقت کہاں باقی رہے گا۔
رہی بات رشتے بنانے کی تو، بس جو دل کو اچھا لگ جائے اس کا استقبال کیجئے۔ بغیر مول بھاؤ کیے، بغیر کسی آزمائش کے، اور بغیر مطلب کے۔ جو اچھا لگے اسے اپنا لو، اپنا بنا لو، پرکھنا، آزمانا، مول بھاؤ کرنا (کون کتنا فائدہ کرے گا) ہمارا کام نہیں ہونا چاہیے۔ ارے یہ سب کام تو منڈیوں میں ہوتے ہیں اور۔ اور رشتوں کی منڈیاں نہیں لگتیں۔ اور اگر رشتوں کی منڈیاں لگنے لگیں تو قربانی پیسوں کی نہیں، جذبات کی دینا ہوگی۔
دلوں میں کدورتیں پال رکھنا، نفرتوں کے لبادے اوڑھے رکھنا، خود کو اچھا اور نیک ثابت کرنے کے چکر میں دوسروں کو نیچا دکھانا ہمارا مقصد اولین بن گیا ہے۔
ایسا کیوں؟
اب بند کیجیے نا یہ صحیح غلط کا کھیل۔ کب تک لڑیں گے اک بے معنی سی لڑائی؟ کچھ رشتے دل سے بھی بناتے ہیں اور پھر بے لوث ہو کر نبھاتے ہیں
معتبر سے رشتوں کا سائبان رہنے دو
ہر گھڑی محبت کا امتحان رہنے دو
آخر میں پھر وہی بات کہ کچھ چیزیں وقت پر چھوڑتے ہیں۔ اپنے الجھے رشتے سلجھاتے ہیں، کچھ نئے رشتے بناتے ہیں۔ کچھ روایات نبھاتے ہیں اور کچھ روایات بناتے ہیں۔ کچھ برے تجربات سے اچھا سیکھتے ہیں اور کچھ اچھا دوسروں کو سکھاتے ہیں۔ خوشی کو طرف ایک نیا قدم اٹھاتے ہیں، ہاتھ بڑھاتے ہیں زندگی کی طرف۔ احساسات کو بجائے جھٹلانے کے محسوس کرتے ہیں اور ایک نئی شروعات کرتے ہیں۔
آئیے مل کر دعا کرتے ہیں کہ یہ سال سب کے حق میں بہتر ثابت ہو اور ڈھیروں خوشیاں اپنے ساتھ لائے۔ آمین!


