شیرانی، اسرائیل اور مولانا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میڈیا اور حکومت کو صرف بات کا بتنگڑ بنانے والے سمجھیں جناب، انہیں خبر کی حقیقت اور بندے کے کردارسے کوئی غرض نہیں ہوتی بس اپنی ریٹنگز اور فائدے کی فکر ہوتی ہے۔ مولانا شیرانی سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ مطالعے کو دنیا کی سب سے بڑی عیاشی سمجھتے ہے۔ روایتی علما اور آج کل کے فیس بکی دانشوروں کے برعکس جو صرف چند بنیادی کتابوں یا پوسٹوں کا مطالعہ کر کے ان سے باہر نکلتے نہیں، تحقیق کی زحمت نہیں کرتے، نا اہل ہوتے ہے یا برداشت سے عاری ہوتے ہیں، بس کوئی بات سنی جلد سے خلاف تہذیب اور سنت اس پر اپنی رائے، فتوی یا گالی تھوپ کر جلد سکرولنگ کر کے دوسرے پوسٹ پہ چلے جاتے ہیں۔ جو کہ ہماری قومی بیماری بن چکی ہے

اسرائیل کے حوالے سے مولانا شیرانی نے صاحب نے اپنی علمی بصیرت کی بنیاد پر عالمی امن کی بحالی اور مشرق وسطی میں گریٹر اسرائیل بنانے کے لئے جاری جنگ کو روکنے کے لئے علماء وقت عالمی اور ملکی سیاسی رہنماؤں کو ایک رائے دی، کہ اسرائیل اور فلسطین دونوں کی اپنی الگ الگ ریاستیں ہونی چاہیے۔ جس کے تحت فلسطینیوں کو 60 پرسنٹ زمین ملے گی 40 اسرائیل کو، موجودہ فلسطینؤں کے پاس 15 پرسنٹ ہے۔ اور نہ تسلیم کرتے کرتے یہ زمین 100 % سے 15 تک پہنچ گئی ہے اور اگر مزید مزاحمت کرو گے تو اسرائیل 100 % تو ہوگا ہی اور بعد میں باقی عرب ملکوں کو بھی ہڑپ کرنے کے لئے آگے بڑھے گا۔

موجودہ مسلمانوں کا ایمان اور دنیا میں مسلمانوں کی پسماندگی ہر لیول سے چاہے معاشی، دفاعی، سیاسی، علمی یا اخلاقی ہو۔ ہر گز اس بات کی متقاضی نہیں کہ ہم اسرائیل کو مزید یہ جنگ جاری رکھنے کا مو قع دیں، جو وہ بخوشی چاہتا ہے کہ جاری رہے تاکہ گریٹر اسرائیل کے ساتھ ساتھ جنگی اسلحے کی فیکٹر یوں سے سرمایہ بھی بنا لے۔ یاد رہے شیرانی صاحب نے با رہا قوم کو متنبہ کیا ہے کہ امریکہ دنیا میں نقشے بدلنے کی مہم پہ عمل پیرا ہے۔ جو منصوبہ۔ خونی لکیروں۔ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس کے لئے انہیں مختلف خطوں میں جنگوں کی اشد ضرورت ہے۔

اسی وجہ سے شیرانی صاحب پی ٹی ایم کے کراوڈ کو مظلوم گردانتے ہوئے بھی بادل نا خواستہ ان کو اپنی تنقید کا ہدف بنا لیتے ہے۔ وجہ صرف یہ کہ شیرانی صاحب چاہتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ امریکن ایما پر جنگی ماحول کے لیے حالات سازگار بنا دہا ہے جسں مقصد کے لئے وہ آپ کو با ر بار ہٹ کر ے گا۔ تاکہ مزاحمت ہو۔ آزادی کے جذباتی نعرے ہو اور ملکی تقسیم کے لئے کوئی جواز مل سکیں۔ ان کا کچھ نہیں جائے گا بس آقا کی حکم بجا آوری پہ تمغے ملیینگے۔ ملک کی نہ ان کو فکر تھی اور نہ آئندہ کوئی پرواہ کریں گے۔ لہذا ٹکر مت لو۔ کیونکہ اس تصادم سے نقصان پختونوں کا ہی ہوگا۔ تاکہ نقصان کا پیمانہ تھوڑا کم ہو۔

شیرانی کے ان افکار کے پیچھے جنگ سے دوری اختیار کرنے کے علاوہ دوسری کوئی سوچ نہیں۔

اس طرح کی رائے دینے پہ پاک سر زمین کے اشرف المخلوقات، چاہیے مذہبی ہو یا سیکولر ان کو جس طرح کے نیچ القابات سے نواز رہے ہیں اس سے اللہ کی پناہ مانگی چاہیے۔

جمعیت کے اندر مولانا فضل الرحمان سے نوے کی دہائی سے اختلاف میں آ رہے ہیں۔ موجودہ بقول میڈیا پھٹ گئے کا تاثر سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ انہی اختلاف کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کے انتہائی قریب رہتے ہوئے اپنی تنظیمی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ اختلافات کی جڑیں اور گہری ہوتی گئی جب مولانا کو محسوس ہوا کہ مولانا شیرانی کی جماعت میں مقبولیت حد سے زیادہ ہو رہی ہے۔ کیونکہ شیرانی صاحب مفتی محمود کے بہت قریب رہے تھے اور مولانا فضل الرحمان بھی پوری جماعت میں سوائے مولانا شیرانی کے کسی اور سے نہیں دبتے تھے۔

معاملات تب خراب ہوئے جب مولانا شیرانی نے مولانا فضل الرحمان کی مسلسل سر زد ہونے والی غلطیوں کو سدھارنے کا قصد کیا۔ مولانا شیرانی کو کارکنوں سے یہ اطلاعات موصول ہوئی کہ مولانا اور اس کے بھائی ٹکٹ اور عہدے اپنے گھر میں بیچ رہے ہیں۔ مولانا شیرانی نے ٹاپ سرمایہ دار اکرم خان درانی، طلحہ محمود، اعظم سواتی جیسے غیر علماء کو جماعتی علماء کی نسبت ترجیح دینے پہ اور مراعات جیسے منسٹری، سینٹری، وزارت اعلی ان جیسے سپریم عہدوں پہ ان حضرات کی نامزدگی کو سیریس لے کے مولانا کے ساتھ اختلافات میں شدت تیز کردی۔

اسی دوران شیرانی صاحب نے مولانا سے مطالبہ شروع کیا کہ چونکہ جمعیت سارے پاکستان کے علماء کی نمائندگی کرنے والی جماعت ہے لہذا اس کے نام سے (ف) کا لاحقہ یہ تاثر دے رہا ہے کہ یہ آپ کی خاندانی ملکیت اور میراث ہے۔ جو کہ مجھے منظور نہیں۔ یہ بات مولانا کو بہت ناگوار گزری اور اس نے مولانا شیرانی کو تنظیم سے بے دخل کرنے کی مہم شروع کردی۔ اور پہلے مرحلے میں مرکزی کنوینر جو کہ بدنام زمانہ وکیل ہے انہیں مولانا شیرانی کو بلوچستان کی امارت سے ہٹانے کا ٹاسک دے دیا۔

پارٹی رکن سازی شروع کی گئی مولانا شیرانی کے نام لیوا کی رکن سازی نہ کرنے کا معرکہ وکیل صاحب کی بدولت سر کر لیا گیا۔ مولانا شیرانی کی دھاندلی سے چھٹی کراکے مولانا نے اپنی پارٹی دستور میں من پسند ترامیم کرنا شروع کی، اس نے خود دعوی کرتے ہوئے کہا کہ پرانا دستور تقوی کی بنیاد پہ تھا اور اب چونکہ علماء میں تقوی نہیں رہی لہذا ترامیم ناگزیر ہے۔ جن کی بدولت پارٹی کی تنظیمی عہدوں کا دورانیہ 3 سال سے 5 کر دیا۔

تاکہ شیرانی سے جان خلاصی لمبے عرصے تک ہو۔ بعد میں انہی ترامیم کے ذریعے صوبوں کے اختیارات مرکز منتقل کر دیا تاکہ آئندہ کے لئے ہر قسم کے عہدے، الیکشن ٹکٹس، سینٹ نا مزدگیاں مولانا فضل الرحمان اور اس کے بھائیوں کے ہا تھ میں رہیں۔ اب کارکن کو جماعت میں خلوص اور جدوجہد کی بدولت سوائے شاباشی کے کچھ نہیں ملے گا۔ بلکہ آپ کو پیسے کا بندوبست اور اعلی درجے کی چاپلوسی کا مظاہرہ کر کے شاید کچھ ملے، وہ بھی اس صورت میں کہ پہلے مولانا اس کے بھائی، بیٹے، سرمایہ دار اور من پسند چاپلوس سب کو اپنا اپنا حصہ مل جاییے۔ صوبے (مطلب نچلی سطح کا کارکن) ڈمی رہ کے صرف زندہ باد، دھرنوں اور جلسوں کے فرائض پورا کرئیں۔

مولانا کے ان آمرانہ عزائم اور مورثی سوچ کے خلاف مولانا شیرانی اور باقی سینئر رہنماؤں نے علم بغاوت بلند کیا ہے۔ یہ بات جماعت کے ہر بندہ کو معلوم ہے کہ مولانا شیرانی نے 8 برس قبل 2013 میں پریس کانفرنس کے ذریعے سب کو مطلع کیا ہے کہ وہ مزید ریاستی کسی قسم کا عہدہ قبول نہیں کرے گا۔ اور سرکاری عہدہ نہ لینے کا عزم رکھنے والے کو نہ کوئی لانچ کر سکتا ہے نہ ہی وہ کسی لالچ کے لئے کوئی سمجھوتہ کرے گا، صرف جمعیت علمائے اسلام، کو اکابرین کے نقش قدم پہ چلانے، علماءکی نمائندگی کرنے والا اور ناجائز مسلط شدہ شاہی خاندان کے چنگل سے آزاد کرنے کے لئے جدوجہد کرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد زبیر، ژوب کی دیگر تحریریں