مصنوعی ذہانت اور اس سے جڑے تحفظات


ڈیجیٹل ٹیکنالوجی وبا کے اس دور میں بہت سے ڈوبتے ہوئے معاش کے لیے تنکے کا سہارا بن کے ابھری ہے۔ ضروری خدمات کی فراہمی میں مددگار ثابت رہی ہے۔ اور بہت سے ایسے کاروبار جن کے لئے معاشی سرگرمی تقریباً ختم ہو کے رہ گئی تھی۔ ان کے لئے اپنے آپ کو بدلتے وقت کے تقاضوں سے فوری بہرہ مند ہونے کی نوید بھی لائی۔ ایسے کاروبار جن میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کم وقت میں زیادہ پیداوار بڑھانے میں مدد ملتی ہے ان کے لیے کورونا کی وبا نے وقت سے پہلے ہی فیصلہ کن اقدام سے اپنا آپ منوایا ہے۔

کورونا کے وبا سے پہلے ہی معاشی سرگرمیوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ مصنوعی ذہانت نہ صرف صنعتی پیداوار، توانائی اور تعلیم میدان میں اپنے جوہر دکھا رہی تھی۔ بلکہ مالیاتی ادارے بھی اس سے مستفید ہو رہے تھے۔ لاک ڈاؤن کی صورتحال اور سفری پابندیاں اس کے استعمال میں شدید سرگرمی لے آئی۔

میکسیکو کی کمپنی Clinicas de Azucar نے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ذیابیطس کے مریضوں کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کا نظام وضع کیا جبکہ انڈیا کی کمپنی 1 mg لیب رپورٹس کی قیمتوں اور مختلف طبی سہولیات کے تقابلی جائزہ سے صارفین کی مدد فراہم کرتی ہے

اس بات کے یقینی شواہد موجود ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کورونا کی وبا کے عالمی معیشت پر اس حد تک منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں کہ کئی دہائیوں کے اس ترقی کے سفر کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ ایسے وقت میں مصنوعی ذہانت کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ اگر اس کا بہترین استعمال کیا جائے اور ایسا انفراسٹرکچر بنایا جائے جس میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کم وقت اور کم وسائل کے استعمال سے اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھایا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ نہ صرف ترقی یافتہ ممالک بلکہ ترقی پذیر ممالک بھی اپنے معاشی معاملات کو بہتر کر سکتے ہیں۔

معاشی بحالی کے پروگرام اور صنعتی پیداوار میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ملکی معیشت مستحکم ہونے میں مدد ملے گی۔ اس سلسلے میں حکومت کی منصوبہ بندی اور سٹریٹیجک پالیسی کو بدلتے ہوئے حالات اور ان کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔

مصنوعی ذہانت کے بارے میں ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ شاید یہ انسانوں کی جگہ لینے آئی ہے۔ بشمول ان انڈسٹریز کے جو کہ ملک کا سب سے زیادہ معاشی بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور افرادی قوت کو روزگار کی فراہمی کا بنیادی کام بھی سرانجام دے رہی ہیں۔

اس کے علاوہ لوگوں کی ذاتی معلومات کا ڈیٹا محفوظ ہے بھی یا کسی بھی انہونی کی وجہ سے اس کی حفاظت کو بھی خطرہ ہے۔ اس بارے میں بھی اکثر ممالک ابھی مصنوعی ذہانت کے عام۔ استعمال سے گھبراتے ہیں۔ کہ ان کے عوام کا ڈیٹا غیر محفوظ ہاتھوں میں نہ چلا جائے۔

یہی سوچ اور اس طرح کے دوسرے کئی سوالوں کے جواب میں اس بات کو یقینی بنانا کے ایسے محفوظ سافٹ ویئر اور ایسی ریگولیٹری اتھارٹی بنائی جائے جس سے ان تحفظات کا سدباب ممکن ہو سکے اور ایک ایسا فریم ورک ہو جس پر عوام کا اعتماد ہوکہ ان کا ڈیٹا محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

(جاری ہے )

Facebook Comments HS