پاکستانی سکالرز فلبرائٹ سکالرشپ پر اگلے ماہ امریکہ پہنچ رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی ادارے ایجوکیشن فاونڈیشن ان پاکستان (یو ایس ای ایف پی) کی جانب سے گزشتہ ایک ورچوئل پری زینٹیشن میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فلبرائٹ سکالرشپ پروگرام۔ 2020 کے تحت ایک سو اڑتیس پاکستانی طلباء پی۔ ایچ ڈی اور ماسٹر ڈگری پروگرام میں شرکت کرنے کے لیے اگلے ماہ جنوری میں امریکہ پہنچیں گے۔

امریکی سفارت خانہ اسلام آباد کے تحت اس پری زینٹیشن کا مقصد دوران تعلیم امریکہ میں قیام سے متعلق انفارمیشن دینے کے علاوہ طلباء کو ان کی امریکہ روانگی سے قبل اور بعد از امریکہ آمد پیش آنے والے حالات خصوصاً کوڈ۔ 19 کے حوالے سے سے اہم معلومات فراہم کرنا تھا۔

امریکی فلبرائٹ پروگرام کے تحت ہر سال پاکستانی طلباء و طالبات سے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں آنے والی درخواستوں میں سے ایک سخت مقابلے کے بعد میرٹ پر اوسطاً 150 کے قریب درخواست گزار منتخب کیے جاتے ہیں۔ جو اگلے دو سال سے پانچ سال امریکہ میں رہ کر مختلف شعبوں میں پی۔ ایچ ڈی اور ماسٹر ڈگری پروگرام میں شرکت کرتے ہیں۔

درخواستوں کی طلبی سے لے کر امیدواروں کے حتمی انتخاب تک، تحریری امتحان اور بعدازاں انٹرویوز سے لے کر فائنل سلیکشن تک پورا سال یہ مشق چلتی رہتی ہے۔ اور فائنل مرحلے کے بعد پاکستان بھر سے منتخب کیے جانے والے یہ طلباء ہر سال کے آخر میں امریکہ پہنچتے ہیں۔ تاہم رواں سال کوڈ۔ 19 کی وجہ سے یہ پروگرام تعطل کا شکار رہا۔ اور ایک مرحلے پر یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ شاید یہ طلباء اس سال امریکہ نہ پہنچ سکیں اور اپنے گھروں میں بیٹھ کر ہی آن لائن کلاسیز اٹینڈ کریں گے۔ تاہم اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ یہ سکلرز اگلے ماہ امریکہ پہنچ کر اپنی کلاسیز جاری رکھ سکیں گے۔

پروگرام کے منتظمین اور پاکستان میں یو ایس ای ایف پی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ریٹا اختر کی جانب سے سے مذکورہ پری زینٹیشن میں طلباء کو بتایا گیا ہے کہ ان کی روانگی آئندہ سال جنوری میں متوقع ہے۔ جبکہ رواں ماہ کے وسط میں ایک دوسری ورچوئل پری زینٹیشن میں پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ کوڈ۔ 19 کی وجہ سے شاید ان کی کلاسیز سال 2021 کے موسم خزاں میں شروع ہوں۔

امریکی ایمبیسی اسلام آباد میں تعینات منسٹر قونصلر برائے پبلک آفیئرز، ریمنڈ اے۔ کاسٹیلیو نے گزشتہ روز ورچوئل پری زینٹیشن میں خطاب کرتے ہوئے طلباء کو بتایا کہ ”حصول تعلیم کے لیے امریکہ کا سفر آپ کے لیے زندگی میں نئے مواقع کی تلاش کا باعث بنے گا۔ علاوہ ازیں انہیں نئے لوگوں اور نئے کلچر سے آشنائی ہو گی۔ ایک وسیع تر دینا کے متعلق آپ کو اپنی سوچ و فکر کو بہتر بنانے کا ایک سنہری موقع بھی میسر آئے گا“ ۔

پاکستان سے امریکہ آنے والے یہ 138 طلباء و طالبات پاکستان کی تنتیس یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں۔ روایتی طور امریکہ پہنچنے والے ایسے سکالرز میں سے کئی ایک کا تعلق لاہور کی ایک پرائیویٹ یونیورسٹی ”لمز“ سے ہوتا ہے۔ تاہم پاکستان کی دیگر یونیورسٹیوں سے بھی کافی طلباء طالبات منتخب ہوتے ہیں۔

فلبرائٹ پروگرام کے تحت کل منتخب کیے جانے والے امیدواروں میں سے پچاس فیصد خواتین سٹوڈنٹس منتخب کی جاتی ہیں۔ جبکہ مجموعی طور پر ایک مجوزہ فارمولے کے تحت امیدواروں کو منتخب کرتے وقت تیس فیصد فریش گریجوایٹس، پچیس فیصد پی۔ ایچ ڈی، تیس فیصد انجنئیر اور چالیس فیصد انڈر گریجوایٹ سلیکٹ کیے جاتے ہیں۔

امریکہ آنے والے یہ طلباء امریکہ کی پچاس ریاستوں میں پھیلی ہوئی 74 یونیورسٹیوں اور کالجوں میں فلبرائٹ سکالرشپس کے تحت مفت تعلیم حاصل کریں گے۔ ان طلباء کو سو فیصد مفت ٹیوشن فیس کے علاوہ ویزہ فیس، ٹوفل فیس، کتابیں، ٹریول اخراجات، ہیلتھ انشورنس سیمت معقول ماہانہ خرچہ بھی فلبرائٹ کی طرف سے مہیا کیا جائے گا۔

یونائیٹڈ سٹیٹس ایجوکیشن فاونڈیشن ان پاکستان (یو ایس ای ایف پی) دراصل امریکہ میں اعلی تعلیم کی سہولت کے حصول کا سرکاری ذریعہ ہے۔ جو امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے دینا کے 175 ممالک میں قائم 425 مفت مشورہ مراکز برائے طلباء کے سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے۔

پاکستان میں ”ایجوکیشن یو ایس اے“ کا انتظام یو ایس ای ایف پی حکومت پاکستان اور امریکہ کی جانب سے 1950 ء میں قائم کیا جانے والا ایک باہمی تعلیمی کمیشن چلاتا ہے۔ جس کے قیام اب ستر سال ہو چکے ہیں۔ اس مشترکہ تعلیمی کمشن کے جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک پاکستان سے امریکہ جا کر اس سہولت سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد آٹھ ہزار ہے جبکہ امریکہ سے نو سو پنتیس سکالرز پاکستان تعلیم کے لیے آ چکے ہیں۔

2005 سے یو ایس جی کی مالی اعانت سے پاکستان کے لیے دنیا کا سب سے بڑا فلبرائٹ سکالرشپ پروگرام ہے۔ اس پر اب تک 353، 437، 077 امریکی ڈالر لاگت آئی ہے۔ اس میں سے 289، 575، 588 امریکی ڈالر امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے مہیا کیے گئے ہیں جبکہ ( 63861489 ) امریکی ڈالر ہایئر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان کی جانب سے سے خرچ کیے گئے۔ ایچ ای سی دو پانچ سالہ ایم او یوز کے تحت ہر سال پچیس پی۔ ایچ ڈی طلباء کے لیے مالی وسائل مہیا کرتا ہے۔

یو ایس ای ایف پی کی ویبسائٹ پر مہیا کی گئی معلومات کے مطابق 2007 تا 2019 کے دوران انہیں ایسے ایک لاکھ پندرہ ہزار پانچ سو پانچ امیدواروں کی درخواستیں موصول ہوئیں۔ جن کو پراسیس کرنے کے بعد 2005 کے بعد سے اب تک 6، 000 سے زائد پاکستانی سکالرز یو ایس ای ایف پی پروگرام کے تحت امریکہ جا چکے ہیں۔ ہیں۔

جبکہ فلبرائٹ سکالرشپ کے علاوہ دیگر پروگراموں میں ہمفرے فیلوشپ، گلوبل یو جی آر اے ڈی، ایف ایل ٹی اے، جرنلسٹ پروگرام، پبلک ایڈمنسٹریٹرز پروگرام، سی سی آئی پی، سی سی اے پی، ایف ایس ایس پی، این ای ایس اے اور ٹی ای اے فیلوشپ پروگراموں میں منتخب ہونے والے امیدوار بھی شامل ہیں۔ جبکہ امریکی ایف، جے اور ایم ویزہ کئٹگریز کے تحت ریگولر تعلیم کی غرض سے امریکہ جانے والے پاکستانی سٹوڈنٹس اس کے علاوہ ہیں۔

یو ایس ای ایف پی کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں جبکہ دو ذیلی دفاتر لاہور اور کراچی میں قائم ہیں۔

امریکی ایجوکیشن فاونڈیشن ان پاکستان۔ 2020 کے بورڈ ممبران میں دونوں ممالک کی جانب سے چار چار اراکین شامل ہیں۔ پاکستان کی طرف سے ڈاکٹر ساجد یوسفانی (سیکرٹری حکومت پاکستان) ڈاکٹر محمد علی شیخ (سابق یونیورسٹی وائس چانسلر) محمد جودت ایاز (ایڈیشنل سیکرٹری، حکومت پاکستان) محمد نعمان (جائنٹ سیکرٹری، حکومت پاکستان) نمائندے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے ریمنڈ اے۔ کاسٹیلیو (منسٹر قونصلر فار پبلک آفیئرز) مس لیزا اے۔ سیونارسکی (کنٹری کلچرل آفیئرز افسر ) فلپ این۔ ایسس (ڈپٹی کلچرل آفیئرز افسر ) ڈاکٹر مارک سورنسن (ڈائریکٹر ایجوکیشن آفس) نمائندگی کرتے ہیں۔ پاکستان میں اس ایجوکیشن فاونڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے فرائض آج کل ریٹا اختر سرانجام دے رہی ہیں۔

فلبرائٹ سکالر شپ کے تحت امریکہ آنے والے سکلرز اگر شادی شدہ ہوں تو وہ اپنے سپاؤس (خاوند/بیوی) سمیت اکیس سال سے کم عمر اپنے بچوں کو بھی ہمراہ لانے کے اہل ہیں۔ تاہم امریکہ آنے والے سکالرز کے لواحقین اگر پڑھائی کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔ تاہم امریکہ میں دوران قیام وہ کوئی ملازمت کرنے کے اہل نہیں ہوتے۔

گڈ لک۔ پاکستانی سکالرز اینڈ ویلکم ٹو امریکہ *

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •