وائٹ ہاؤس سے تین کلو میڑ کے فاصلے پر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا نے ا یک عالم کی معاشی وسماجی زندگیوں کے دروبام ہلاکر رکھ دیے ہیں، لا تعداد لوگوں کی ہلاکت کے بعد کرونا ایک ڈراؤنا خواب بن گیا ہے، یہ ڈراؤنا خواب رنگ نسل قوم علاقے کے فرق سے بے نیاز اپنی وحشت کے پنجے ہر جگہ گاڑ رہا ہے، غریب ملکوں کے حالت پر کیا آنسو بہائیں امیر ملک بھی اس بلا کی زد میں ایسے آئے ہوئے ہیں کہ الامان الحفیظ، گزشتہ روز بی بی کی ایک رپورٹ میں بتا یا گیا ہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے پھیلا و کے بعد تیزی سے لوگ معاشی بحران کا شکارہوئے ہیں جس کی ایک بڑ ی وجہ ملازمتوں کا خاتمہ ہے۔

بھوک کے خلاف برسر پیکار امریکہ کی سب سے بڑی تنظم ”فیڈنگ امریکہ“ کے مطابق مستقبل میں ساڑھے پانچ کروڑ افراد بھوک کا شکا ر ہو سکتے ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتا یا گیا ہے کہ غذائی امداد دینے والے مراکز میں آنے والے امریکیوں کی تعداد میں 45 فی صد اضافہ ہوا ہے نیز ملک کے ا یک چوتھائی بچے اور ایک کروڑ ستر لاکھ لوگ غذائی قلت کا شکا ر ہیں۔ جی ہاں! قارئین یہ وہی امریکہ ہے۔ جس کی فوج اپنی بے پناہ عسکری مہارتوں اور جدید عسکری آلات کی بدولت دنیا کی بہترین فوج شمارہوتی ہے۔

، جی ہاں! یہ وہی امریکہ ہے جس کے پاس سونے کے سب سے بڑے ذخائر ہیں۔ جس کی معیشت د نیا کی بڑی معیشت شمار ہوتی ہے۔ لیکن وائٹ ہاؤس سے تین کلو میٹر کے فاصلے پر امدادی مرکز سے مفت غذائی اشیاء لینے والوں کی لمبی قطار لگی ہوئی ہے۔ بلا شبہ عالمی سیاست میں امریکہ کی حیثیت ڈھکی چھپی نہیں ہے امریکہ بہادر کرہ ارض پر موجود کم و بیش سبھی ملکوں کو اپنی مرضی سے ہانکتا ہے، ہر قسم کے عالمی معاہدوں میں امریکہ بہادر کی رضا مندی لازم امر سمجھاجاتا ہے۔

غریب ملکوں کی ڈانوں ڈول معیشت کو سہارا دینے کے لیے بھی امریکہ بہادر اپنے خزانوں کے منہ کھول دیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود امریکہ میں تنخواوں میں عدم مساوات، نسلی تعصب، بھوک اوربے گھری کے مسائل سر اٹھا رہے ہیں۔ ابھی حال میں الیکشن میں ناکامی کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے الیکشن نتائج منانے سے انکار کرتے ہوئے عدالت جانے اور وائٹ ہاؤس نہ چھوڑنے کا عندیہ دیا تھا۔ جو امریکہ کی سیاسی روایت کے منافی عمل ہے۔ چند برس پہلے صدارتی امیدوار الگو ر چند سو ووٹوں سے شکست کھاکر امریکہ کے صدر بننے سے رہ گئے تھے۔

کسی نے الگور کو مشورہ دیا تھا کہ آپ الیکشن نتائج منانے سے انکار کر دیں، جب کرسی صدارت چند سو ووٹوں کے فاصلے پر ہو تو یہ ایک معقول مشورہ تصور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن الگور نے یہ مشورہ یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ اگر میں ایسا کروں گا تو امریکہ کے زوال کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ اگر ہم صدر ٹرمپ کے بیانات اور غذائی قلت کا شکار امریکہ کے ایک چوتھائی بچوں کو دیکھیں تو یوں محسوس ہو تا کہ جیسے امریکہ سیاسی سماجی و معاشی پستی کا شکار ہو رہا ہے۔

چونکہ امریکہ ایک مضبوط معاشی و عسکری طاقت ہے اس لیے سیاسی سماجی و معاشی محاذوں پر پسپاہی کا نقارہ بجتے بجتے بجے گا، ا س عالم و رنگ و بو میں تغیر کو ثبات ہے، عالمی بساط پر نئے کھلاڑی زیادہ مستعدی سے اپنی چالیں چل رہے ہیں، حریف، حلیف بن رہے ہیں نئے معاشی معاہدوں نے کمزور ملکوں کے لیے امید سحر پیدا کر دی ہے۔ الیکٹریکل گاڑیاں کی آمد سے پیڑول پر انحصا ر کم ہو گیا ہے، پیڑول کی طلب میں کمی کئی ملکوں کے معاشی نظام کے لیے زہر قاتل ہے، زمانہ کروٹ لے رہا ہے نئی عالمی طاقتیں جنم لے رہی ہیں۔ جبکہ امریکہ میں نسلی تعصب، بے گھری، بھوک تنخواوں میں عدم مساوات جیسے مسائل سر اٹھا رہے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •