آنسو ایک جنگل کے

جیسے ہی شیرنی نے جنگل میں قدم رکھا، اُس کے سامنے وہ جنگل تھا، جو برسوں پہلے مجبوری کے باعث اسے چھوڑنا پڑا تھا۔ اس نے جنگل کی لہلہاتی ہوئی گھاس کو چوما، گو کہ شیر گھاس کی طرف دیکھتے بھی نہیں، لیکن جذبات پر ذہن کی نگرانی ہو نہیں پاتی۔ اس کی آنکھوں سے اشک رواں تھے جس کا اسے علم نہیں تھا کیوں کہ شیر روتے نہیں ہیں۔

 سامنے بڑی تعداد میں خرگوش، پرندے، بطخیں اور ہرن تھے جو اس کی واپسی کا جشن منا رہے تھے۔ وہ خوشی میں دیوانہ وار رقص کر رہے تھے۔ اس نے آ سمان کی طرف منہ کرکے اپنے دونوں ہاتھ فضا میں بلند کیے جیسے خدا کا شکر ادا کر رہی ہو۔

اس جنگل کی تاریخ بھی عجیب تھی۔ کئی سال پہلے انسانوں نے ایک بڑے جنگل کو کاٹ کر یہ جنگل بنایا تھا، اور پھر جنگل کے نظام سے بے پرواہ ہو گئے۔ جنگل میں جانور کئی سال تک ایک بے یقینی کا شکار رہے کہ اس جنگل کا مستقبل کیا ہو گا۔ پھر ایک دن شیرنی کا باپ جسے سب شیر بابا کہتے تھے، اس نے جانوروں کے اصرار پر جنگل کے نئے قوانین ترتیب دیے، جن کے مطابق کمزور جانوروں کا خیال رکھا جائے گا اور خونخوار جانور اپنی مرضی سے خرگوشوں اور ہرنوں کا شکار نہیں کرپائیں گے۔ خرگوشوں، زیبراوں بارہ سنگھوں اور ہرنوں کو جنگل کا ہرا بھرا حصہ ان کی ملکیت میں دے دیا گیا تھا، جہاں وہ آرام سے اپنی مرضی کی گھاس یا جڑی بوٹیاں کھا سکتے تھے۔ شیر نے عقابوں کے قبیلے کے سردار کو پیغام پہنچا دیا تھا کہ ان کے قبیلے کے افراد اب خرگوشوں یا پرندوں کو شکار نہیں کر سکیں گے، انھیں صرف سانپوں کے شکار کی اجازت ہو گی۔

شیر بابا کے یہ قوانین بھیڑیوں کو بالکل پسند نہیں تھے، جنھیں جنگل کی چوکیداری کا کام دیا گیا تھا۔ یہ کام انھیں اس لیے دیا گیا تھا کہ وہ جھنڈ کی صورت میں منظم ہو کر شکار پر حملہ کرتے ہیں۔ پہلی صف میں وہ بھیڑیے ہوتے ہیں جو شکار کا پیچھا کرتے، پھر اُن کے پیچھے حملہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ آخر میں اُن کا سردار چلتا ہے جو تمام کارروائی کی نگرانی کرتا ہے۔ شیر نے اُنھیں جنگل کے داخلی اور خارجی علاقوں کی حفاظت پر تعینات کیا تھا۔ چیتے جنہیں جنگل کے حساب کتاب کا کام سونپا گیا تھا، وہ بھی جنگل کے موجود ہ نظام سے ناراض تھے۔

 وقت گزرتا رہا شیر بابا کے خلاف چیتوں اور بھیڑیوں نے ایک خفیہ اتحاد بنا لیا تھا، جس کی خبر فاختہ نے شیر بابا کو دی تھی، جس کا کام بابا کو اطلاعات فراہم کر نا تھا، مگر شیر بابا نے فاختہ کی بات کو کوئ اہمیت نہیں دی کیوں کہ اُس جنگل کے جانوروں کا اعتماد حاصل تھا۔

شیر جب بھی سیر کو نکلتا تھا، جنگل کے تمام چھوٹے بڑے جانور ایک جلوس کی شکل میں اس کے ساتھ ہوتے تھے، جانوروں کے اس اعتماد نے اسے نہ صرف خود سر بلکہ بے پرواہ بنا دیا تھا، اسی لیے جب فاختہ نے اُسے سازش کی خبر دی تو اس نے اس کا تمسخر اڑایا، فاختہ بے چاری اپنا سا منہ لے کر ایک پیڑ پر اداس ہو کر بیٹھ گئی۔

شیر بابا تو بس اپنی شیرنی بیٹی کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو تا تھا۔ایک بوڑھا بارہ سنگھا بھی شیرنی کے ساتھ کھیلتا تھا اور اسے رانی بی بی کہہ کر بلاتا تھا۔ تھوڑی دیر میں یہ نام پورے جنگل میں مشہور ہو گیا۔ شیر بابا بوڑھے بارہ سنگھے کے اپنی بیٹی کے لیے اس خطاب سے بہت خوش تھا۔ بارہ سنگھے کی درخواست پر شیر نے بارہ سنگھے کے بیٹے شوکیدا کے سینگوں کو اپنے دانتوں سے رگڑ کر تیز کیا لیکن تھوڑی دیر بعد اُسے احساس ہوا کہ شوکیدا کو اُس کے دانتوں سے تکلیف ہوتی ہے، اس نے یہ کرنا چھوڑ دیا۔ کچھ سوچ کر اُس نے یہ کام رانی کودے دیا، جس کے دانت ابھی اتنےنوکیلے نہیں تھے، جتنے بابا کے تھے۔

 وقت گزرتا رہا، شیرنی اب جوان ہو گئی تھی۔ وہ شام بہت اداس تھی آ سمان پر گہرے بادل تھے بجلی بار بار چمک رہی تھی۔ بوڑھے بندر درختوں پر بے چینی سے ادھر ادھر لٹک رہے تھے۔ شیر بابا بھی تھوڑی دیر کے لیے اپنی کچھار سے نکلا پھر اپنی مخصوص بے پرواہی سے ایک جمائ لیتے ہوئے واپس کچھار میں چلا گیا۔

رات گہری اور کچھ غصیلی سی ہو رہی تھی۔ شائیں شائیں کرتی تیز ہوائیں چھوٹے خرگوشوں کا دل دہلا رہی تھیں۔ ا چانک رات کے اندھیرے میں کئی بھیڑیے نمودار ہوئے جن کی آ نکھوں میں وہ چمک تھی جو شکار پر حملہ کرنے سے پہلے ہوتی ہے۔ ان کے چیخنے کی آوازوں میں آج زیادہ شور تھا۔ شور سن کر شیر بابا باہر نکلا، جیسے ہی وہ باہر نکلا، سازش کے عین مطابق بن مانس نے شیر کو قید کرنے کے لیےایک خاص بنایا ہوا جال درخت کے اوپر سے پھینکا۔ جیسے ہی شیر جال میں بند ہوا، جنگل کے سب سے طاقتور بھینسوں نے جال کو اپنے لوہے جیسے سینگوں پر اٹھا لیا اور اس طرف بھاگے جہاں شیر کو رکھنا تھا یہ جنگل کا سب سے اندھیرا حصہ تھا، جہاں عام جانور جاتے نہیں تھے۔ کہنے والے کہتے ہیں دور پرے جنگل میں رہنے والے سفید ہاتھیوں کو بھی شیر بابا پسند نہیں تھا اور بھیڑیوں نے ان کی ایما پر یہ کام کیا تھا۔

صبح جب جانور اٹھے تو انھیں رات والی واردات کا علم ہوا۔ انھوں نے شیر کے غم میں جلوس نکالنے کی تیاری کی، مگر اب وقت بدل چکا تھا شیر کے قریبی دوست زیبرا، گیدڑ، اور کتے جلوس میں شامل نہیں تھے، صرف بارہ سنگھے، ہرن، خرگوش اور شتر مرغ شامل تھے۔ جلوس جب نکلا تو چیتوں اور بھیڑیوں نے اس پر حملہ کر دیا، جلوس میں شامل کئی جانور چیتوں اور لکڑ بھگوں کی خوراک بن گئے، باقی جان بچا کے بھاگ گئے۔ بوڑھے بارہ سنگھے نے نوجوان شیرنی کو اُس کے باپ کی قسم دے کے دوسرے جنگل کی طرف بھاگ جانے کامشورہ دیا تا کہ جب وقت مناسب ہو تو وہ دوبارہ آ سکے، اس وقت اس کی جان بہت قیمتی تھی۔ شیرنی شدت غم سے نڈھال تھی لیکن اس نے اس کی ہدایت پر عمل کیا کیو ں کہ بابا بوڑھے بارہ سنگھےپر بہت اعتماد کرتے تھے۔ جب شیرنی دوسرے جنگل کی طرف جا رہی تھی تو شوکید ا اس کے پیچھے چل رہا تھا، اس کی آنکھوں سے آ نسو رواں تھے، لیکن شیرنی کی آنکھوں میں تپش اور غصے کی ایک لہر تھی۔

شیر بابا کو کئی دنوں تک بھوکا رکھا گیا، بھیڑیے چاہتے تھے کہ شیر یہ اعلان کر دے کہ آج سے جنگل کے بادشاہ بھیڑیے ہوں گے، مگر شیر کا یہی کہنا تھا کہ چوکی دار مالک نہیں ہو سکتا ہے۔ کئی دنوں کی بھوک کے بعد شیر مر گیا۔

بھیڑیوں نے بن مانس سے کہا شیر کی لاش کوجنگل کے سب سے لمبے اور مضبوط درخت پر لٹکایا جائے تاکہ شیر کے ہمدردوں کے لیے یہ نشان عبرت بنے۔ بھیڑیوں کا سردار ایک کالے رنگ کے مضبوط جسم کا بھیڑیا تھا جو اپنی جسامت سے دور سے پہچانا جاتا تھا۔

شیر بابا کے مرنے کے کچھ عرصے کے بعد بھیڑیوں کو احساس ہوا کہ جنگل ان کے قابو میں نہیں آ رہا ہے اور اسے ایک شیر ہی سنبھال سکتا ہے۔ انھوں نے دوسرے جنگل سے ایک شیر کا بچہ منگوایا اور اس کی تربیت کی۔ کچھ دنوں کے بعد اسے جنگل کا انتظام دے دیا۔ شروع، شروع میں نئے شیر نے اپنے پرورش کرنے والوں کی ہر بات پر عمل کیا، مگر دھیرے دھیرے اُسے احساس ہونے لگا کہ جنگل کا بادشاہ شیر ہی ہے، دوسرے نہیں۔ اس نے اپنے اصول نافذ کرنے شروع کر دیے جس سے اس کے محسنوں کے کان کھڑے ہو گئے، قبل اس کے وہ ان کے لیے بڑی مصیبت بنتا، انھوں نے اسے جنگل بدر کر دیا اور دوبارہ جنگل کا انتظام سنبھال لیا۔

 اُدھر نئے شیر کی سمجھ میں آ گیا تھا کہ جنگل میں دوبارہ آ نے کے لیے اسے شیرنی کے ساتھ سمجھوتہ کرنا ہو گا۔ اس نے شیرنی کو ملاقات کا پیغام دیا، جسے شیرنی نے، جس کے اب تین بچے ہو چکے تھے، قبول کر لیا۔

بھیڑیوں کو جب اس معاہدے کا علم ہوا تو انھوں نے بھی شیرنی کو معاہدے کی پیشکش کر دی، جسے شیرنی نے قبول کر لیا۔ شیر کو یہ بات پسند نہیں آئی لیکن اس کے ساتھیوں نے اسے سمجھایا کہ کسی بھی صورت میں جنگل کا انتظام شیروں کو ملنا چاہیے چاہے اس کے لیے معاہدہ ہی کیوں نہ کیا جائے اور ویسے بھی شیرنی اور اس کے باپ کی بہت قربانیاں ہیں اس کی مخالفت نہ کی جائے ورنہ اس سے بھیڑیوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ شیر یہ سن کر خاموش ہو گیا۔ جیسے ہی معاہدے کی خبر جنگل کے چھوٹے جانوروں کو ملی انھوں نے مختلف ذرائع سے شیرنی کو وقت سے پہلے پہنچنے کے پیغام بھیجنے شروع کر دیے۔

معاہدے کے مطابق شیرنی کو ایک مخصوص وقت میں جنگل میں داخل ہونا تھا مگر چھوٹے جانوروں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث شیرنی نے وقت مقررہ پر آ نے سے پہلے جنگل میں داخل ہونے کا اعلان کر دیا۔ دوسرے جنگل میں بھیڑیوں اور کچھ اس کے ہمدردوں نے شیرنی کو وقت سے پہلے جنگل آ نے سے منع کیا، لیکن بابا کی شیرنی نے کسی کی بات نہیں سنی۔

 اور آج شیرنی جنگل میں تھی۔ کان پڑے آ واز نہیں سنائی دے رہی تھی، جنگل میں جانوروں کا یہ ہجوم یا تو اس کے باپ کے استقبال کے لیے ہوتا تھا یا آج اس کے لیے تھا۔ ناچتے گاتے ہرنوں، خرگوشوں، بطخوں، مرغیوں اور دوسرے چھوٹے جانوروں نے وہ جشن برپا کیا تھا کہ شیرنی کو ایک قدم اٹھانے میں ایک، ایک گھنٹا لگ رہا تھا۔ شوکیدا اور اس کے ساتھی شیرنی کے آس پاس تھے جیسے اس کی پہریداری کر رہے ہوں۔ کئی گھنٹوں تک یہ جلوس چلتا رہا، ابھی آدھا جنگل بھی طے نہیں ہوا تھا کہ اچانک چیتوں نے جلوس پر حملہ کر دیا اور جنگل نے یہ پہلی بار دیکھا کہ چیتوں سے ڈر کے بھاگنے کے بجائے ہرنوں، بارہ سنگھوں اور خرگوشوں نے ان سے مقابلہ کر نا شروع کر دیا۔ ان کے ذہن میں ایک ہی بات تھی انھیں رانی کو بچانا ہے۔ سیکڑوں خرگوش، بارہ سنگھے اور ہرن مارے گئے یا زخمی ہو گئے لیکن انھوں نے شوکیدا کو اتنا وقت دے دیا تھا کہ وہ رانی کو بچا کے لے جائے۔

رانی کو جاتے دیکھ کے چیتے بھی واپس چلے گیے کیوں کہ انھیں لگا کہ اگر سارے جانور شیرنی کو بچاتے ہوئے مر گئے تو وہ کھائیں گے کسے۔

اگلے دن رانی ان سب کے گھر گئی جو مارے گئے تھے یا زخمی ہو گئے، وہ اتنی زور سے دھاڑ رہی تھی کہ پورے جنگل میں صرف اس کی آواز گونج رہی تھی وہ چیتوں کو ون ٹو ون لڑنے کا پیغام دے رہی تھی، لیکن کوئی چیتا مقابلے کے لیے باہر نہیں نکلا۔ وہ بار بار للکار رہی تھی، وہ بھیڑیوں کو بھی پیغام دے رہی تھی کہ وہ حملہ آ ور چیتوں کو اس کے حوالے کر دیں ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔ جنگل خاموش تھا، رانی دھاڑ رہی تھی۔ اس کی دھاڑوں سے آ سمان کا سینہ پھٹ گیا اور بہت زور کی بارش ہوئ۔ جنگل کے بوڑھے جانوروں کا کہنا تھا یہ بارش قدرت نے شیرنی کی آ نکھوں میں اپنے مرے ہوئے ساتھیوں کی یاد میں تیرتے ہوئے آ نسووں کو چھپانے کے لیے کی تھی، کیوں کہ شیر روتے نہیں ہیں اور قدرت بہادروں کے آ نسووں کی پردہ پوشی کرتی ہے۔ بارش سے بے پرواہ شیرنی پانی میں چھپ چھپ کرتے ہوئے چلتے ہوئے مستقل دھاڑ رہی تھی

بھیڑیوں نے اگلے دن شیرنی کو افسوس کا پیغام بھجوایا، جسے شیرنی نے یہ کہ کر رد کر دیا کہ وہ کسی اس چیتے کو نہیں چھوڑے گی جو حملے میں شامل تھا۔

ادھر دوسرا شیر بھی جنگل میں داخل ہو چکا تھا، لیکن اب وہ شیرنی کا حلیف تھا، اس نے جنگل پر شیرنی کا حق تسلیم کر لیا تھا۔

 شیرنی جنگل میں کیا آئی، ہر روز جنگل میں منگل ہونے لگا، جانور مستقل جلوس نکال رہے تھے، پھر ایک دن شیرنی نے جنگل کے عین وسط میں بڑے جلسے اور جلوس کا اعلان کر دیا۔ شیر نے بھی جنگل کے دوسرے حصے میں اپنے حمایتی جانوروں کو جمع کیا ہوا تھا اور وہ بھیڑیوں کے خلاف بات کر رہا تھا، مگر سب کی نگاہیں شیرنی کے جلسے اور جلوس پر تھیں۔ بھیڑیوں نے شیرنی کو پیغام دیا کہ وہ جلسہ نہ کرے، کیوں کہ اس کی جان کو خطرہ ہے، مگر وہ کہاں ماننے والی تھی، اسے یاد تھا کہ کس بے دردی سے بھیڑیوں نے اس کے باپ کی جان لی تھی۔

جلسہ بہت کامیاب تھا چھوٹے جانور شیرنی کے آ گے پیچھے تھے مگر شوکیدا اپنے فرض سے غافل نہیں تھا وہ ایک محتاط فاصلے سے جانوروں کو شیرنی سے دور رکھنے میں کامیاب تھا۔ اچانک برفانی چیتوں کے ایک گروہ، جسے چیتوں نے پہاڑوں سے منگوایا تھا، انھوں نے شیرنی پر حملہ کر دیا۔ ایک بڑی جسامت والے برفانی چیتے نے شیرنی کی گردن پر ایسے حملہ کیا کہ اس کے نوکیلے دانت اس کی گردن میں اتر گئے، شوکیدا رانی کو بچانے کے لیے بے جگری سے لڑا، اس نے اپنے نوکیلے سینگوں سے کئی چیتوں کو زخمی کیا، شیرنی نے بھی بھر پور مقابلہ کیا۔ اچانک درختوں پر چھپے ہوئے چیتوں نے اُن دونوں پر حملہ کر دیا ایک چیتے نے شوکیدا کے سینگ پکڑ لیے، دوسرے نے اُس کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ اندھا شوکیدا بے جگری سے لڑتا رہا۔ اُس کے دونوں ہاتھ اور پیر کٹ چکے تھے لیکن اس نے اپنا منہ شیرنی کے سر پر ایک ڈھال کی طرح اس کی گردن پر رکھ دیا۔

تھوڑی دیر میں ایک چیتے نے یہ ڈھال شیرنی کی گردن سے اٹھا کر اپنے دانتوں میں چبا ڈالی۔

اُدھر برفانی چیتے کے دانت رانی کی گردن میں مزید گہرے اُترنے لگے۔اس کی آ نکھوں میں آ خری سفر کے اندھیرے تیزی سے آنے لگے۔ دھیرے، دھیرے اس کی دھاڑ غراہٹ میں تبدیل ہونے لگی۔ سفید چیتے کے دانت اس کی گردن میں مزید اتر گئے۔اس کی آنکھوں میں اپنے بچوں کی تصویریں گھومنے لگیں

 اپنی ٹوٹی سانسوں میں وہ

 آخری بار دھاڑی بل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آٓ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آ۔۔۔ بخخخخخخخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
حسن جاوید کی دیگر تحریریں