مولانا طارق جمیل، کرونا اور زمینی حقائق
کرونا وائرس کی دوسری لہر نے جہاں پوری دنیا کو بری طرح سے متاثر کیا ہے وہیں اس مہلک وبا کی لپیٹ میں طارق جمیل بھی آ گئے اور گزشتہ دنوں انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ صحت یابی کے بعد انہوں نے اپنے آفیشل یوٹیوب اکاؤ نٹ پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی جس میں انہوں نے عوام کو کرونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات اختیار کرنے پر زور دیا ان کا کہنا تھا کہ ”کرونا کی پہلی لہر کے دوران میں نے ایک ویڈیو اپ لوڈ کروائی تھی لیکن مجھے اس وقت پتا نہیں تھا کہ کرونا کیا ہوتا ہے۔
اس دفعہ مین خود اس کی لپیٹ میں آیا ہوں اور اللہ نے اپنے فضل و کرم سے مجھے صحت شفاء اور عافیت بخشی۔ تقریباً 10 دن ہسپتا ل میں رہنا پڑا اور منگل والے دن میری گھر واپسی ہوئی۔ اب میری آپ سے یہ اپیل ہے کہ یہ ایک بلا ہے، یہ ایک آفت ہے اور اللہ کی طرف سے کوئی امتحان ہے ہمیں ایس او پیز پر مکمل طور پر عمل کرنا چاہیے کوئی بھائی بہن ماسک کے بغیر باہر نہ نکلے اور ایک دوسرے سے 6 فٹ کا فاصلہ رکھیں۔ یہ وبا بڑی عمر کے لوگوں کو جلد لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
میں جب ہسپتال میں تھا تو میں نے کئی جنازے اٹھتے دیکھے اور کئی کو صحت یاب ہوتے دیکھا۔ میں اس حالت میں زیادہ لمبی بات نہیں کر سکتا اور اللہ کے واسطے میری آپ سے اپیل ہے کہ اس وبا سے بچنے کی تدبیر کریں کیونکہ جان کی حفاظت فرض ہے“ جس وقت وہ یہ ویڈیو اپلوڈ کروا رہے تھے ان سے صحیح طور پر بولا بھی نہیں جا رہا تھا ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ شاید ابھی بھی اس مہلک وبا کے آفٹر افیکٹ کے زیر اثر ہیں مگر انہوں نے ہمت کر کے اپنی بات لوگوں تک پہنچائی اور حقائق سے آگاہ کیا۔
ان کی عوام میں بہت زیادہ مقبولیت ہے اور امید کی جاتی ہے کہ یہ ویڈیو پیغام عوام میں آگاہی کا سبب بنے گا۔ اب ذرا حقائق کی دنیا میں جھانکتے ہیں اور اس وبا کی سنگینی کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب تک کروڑوں لوگ اس وبا کا شکار ہوچکے ہیں، کچھ صحت یاب ہوئے اور کچھ نامعلوم سفر پر روانہ ہوئے۔ اس وبا کے آگے بندھ باندھنے کے لیے مختلف میدانوں اور لیبارٹریز میں انسانی کاوشیں جاری ہیں اور آخر کار ایک دن یہ کاوشیں رنگ لیں آئیں گی اور انسان اس وبا کا سرا ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائے گا کافی حد تک کامیابی حاصل ہو چکی ہے۔
بس تھوڑا سفر اور باقی ہے کچھ کڑوی باتوں پر غور کرنا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا اور مایوسی کے گہرے بادلوں نے آخر چھٹنا ہی ہوتا ہے مگر کچھ باتیں اور رویے ضرور یاد رہتے ہیں اور تاریخ کے نہ ختم ہونے والے تسلسل کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جب کرونا کی پہلی لہر آئی تھی تو اس وقت حقائق کی دنیا سے کچھ sane voices بلند ہو رہی تھیں کہ یہ وبا بہت خطرناک ہے اور خود کو تقدیر اور ایمانیات کے رحم و کرم چھوڑنے کی بجائے با ہوش طریقے سے ضروری ایس او پیز پر عمل پیرا ہوں۔
حکومتی اعلان کی روشنی میں مساجد، خانقاہیں اور بازار تک بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا تھا کیونکہ ایسا کرنا وقت کی ضرورت تھی اور انسانی جانوں کو بچانا مقصود تھا۔ اس ہنگامی صورتحال میں ہوش مندی سے کام لینے کی بجائے ہمارے علماء کرام نے ریاست کو آڑے ہاتھوں لیا اور اپنے مشاغل دین کو ہر صورت میں جاری رکھنے کا اعلان کر دیا تھا۔ حتٰی کہ مولانا طارق جمیل نے بھی وزیراعظم عمران خان کے کرونا ریلیف فنڈ کے لائیو ٹیلی تھون کے دوران اپنے خیالا ت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”کرونا کے پھیلنے کی وجہ میڈیا کی جانب سے بولے جانے والے مسلسل جھوٹ ہیں اور خواتین کا لباس اور ان کا ننگے سر رہنا ہے“ ان کے اس بیان کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بہت ردعمل ہوا، صحافیوں اور خواتین کی کثیر تعداد نے اس بیان پر بہت زیادہ احتجاج کیا تھا۔
آخر کار مولانا کو معافی مانگنا پڑی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا اس قسم کے رویے سماج میں کوئی مثبت کردار ادا کرتے ہیں؟ حقیقت پسندانہ رویہ ہی سماج میں بہتری پیدا کر سکتا ہے۔ آپ اپنے میدان میں جو کردار ادا کرنا چاہتے ہیں وہ ضرور کیجیے اور جس فیلڈ میں آپ کو مہارت ہے اس میں آپ اپنا کردار بخوبی نبھائیں مگر اپنے سچ کو دوسروں پر مت تھوپیں اور بطور انسان ہمیں ایک دوسرے کے سچ کا احترام کرنا چاہیے۔ آج ہم سائنسی حقائق کے دور میں جی رہے ہیں اور علم لاتعداد شاخوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔
سپیشلائزیشن کے اس دور میں صرف ایک ہی میدان میں مہارت حاصل کی جا سکتی ہے مختلف میدانوں میں طبع آزمائی اب ناممکن ہے۔ اب طرح طرح کے مختلف سوالوں کا جواب دینے کے لیے ہر میدان کے ماہرین موجود ہیں۔ نئے سائنسی انکشافات کی موجودگی میں منقولات کی گرفت ڈھیلی پڑتی جا رہی ہے، عقلی اور معقولی علوم، عقائد اور یقین پر حاوی ہوتے جا رہے ہیں۔ مختلف قسم کی سچائیوں کے اس دور میں فقط ایک سچ پر اکتفا کرنا اب ممکن نہیں رہا۔
ہمارے بڑے بڑے سوالوں کا جواب اب ہماری روایتی فکر نہیں دے سکتی۔ ٹیلی سکوپ، خورد بین اور دور بین کے اس دور میں ہمیں ان حقائق کو بھی تسلیم کرنا چاہیے جنہیں آج جدید آلات کی مدد سے دیکھنا ممکن ہو چکا ہے۔ ہمیں مذہبی سچ کے ساتھ ساتھ سائنسی سچ کو بھی کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے تاکہ ہم انسانی کاوشوں سے پوری طرح مستفید ہو سکیں۔ اس کے لیے ہمیں اپنی انا کے خول سے باہر نکلنا ہوگا اور اپنے نقطہ نظر میں مختلف سچائیوں کی چاشنی شامل کرنا ہوگی۔ انسانی سوچوں کے آگے بندھ باندھنے کی بجائے ہم آہنگی کا ایک پل تعمیر کرنا ہوگا تاکہ انسانی سوچوں اور کاوشوں کا دامن وسیع تر ہوتا چلا جائے۔


