بینظیر بھٹو کی شادی


گزشتہ ماہ بختاور بھٹو کی منگنی کی خبر اور اس ماہ ان کی شادی کی خبر سنی اور پڑھی تو خوشی ہوئی کہ اس آنگن سے بھی کوئی خوشی کی خبر برآمد ہوئی۔ پے در پے شہادتوں نے بھٹو خاندان کی خوشیاں گہنا دی تھیں۔ اس واقعے سے مجھے بینظیر بھٹو کی شادی کی تفصیل یاد آ گئی جو انہوں نے اپنی خود نوشت ”دختر مشرق“ میں تحریر کی تھی۔ اور میری کوشش ہوگی کہ میں اس کو من و عن بینظیر بھٹو شہید کے الفاظ میں ہی بیان کروں۔

بینظیر لکھتی ہیں کہ مارشل لاء کے پہلے سال سے ہی مجھے رشتے آنا شروع ہو گئے تھے لیکن میں نے انکار کر دیا کیونکہ میں کس طرح شادی کی خوشی منا سکتی تھی جب میرے والد جیل میں تھے اور ان کی جان کو بھی خطرات لاحق تھے۔ ان کے سیاسی و عدالتی قتل کے بعد میں نے شادی کا خیال یکسر بھلا دیا تھا۔ 1977 سے لے کر 1987 تک متعدد رشتے آئے لیکن پاپا کی پھانسی نے مجھے ہلا کر رکھ دیا تھا اور میں ذہنی طور پر اس بندھن میں بندھنے کو تیار نہ تھی۔ ویسے بھی بھٹو خاندان میں اگر کوئی وفات پا جائے تو ایک سال تک شادی یا خوشی کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔

بینظیر ایک اور جگہ لکھتی ہیں کہ ”بچپن میں ذوالفقار علی بھٹو ہم دونوں بہنوں (بینظیر اور صنم) کو یہ کہہ کر تنگ کرتے تھے کہ میں نہیں چاہتا کہ تم دونوں بہنیں شادی کرو، لیکن تم کرو گی تو ضرور۔ لیکن میں اس دن کا انتظار کروں گا جب تم شادی کے بعد مجھے ملنے آؤ اور اگر تمہاری آنکھ میں آنسو اور آواز میں لڑکھڑاہٹ ہوئی تو میں تمہارے خاوند کو پیٹوں گا اور ہمیشہ کے لئے تمہیں اپنے گھر واپس بلا لوں گا“ باپ امیر ہو یا غریب، بیٹی کا کل سرمایہ ہوتا ہے اور بیٹیاں باپ کا فخر، مان اور کل اثاثہ ہوتی ہیں۔

بینظیر لکھتی ہیں کہ ان کے والد اور والدہ نصرت بھٹو نے پسند کی شادی کی تھی۔ اور میں بھی اس یقین کے ساتھ بڑی ہوئی تھی کہ ایک دن میں بھی اپنی پسند کے آدمی سے شادی کروں گی۔ میں چونکہ وزیراعظم کی بیٹی تھی اس لیے میرا کسی شخص کو شادی کے سلسلے میں جاننا یا ملنا آسان نہ تھا اس لیے پسند کی شادی میرے لئے ممکن نہ تھی۔ سیاسی زندگی نے مجھے اور میں نے سیاسی زندگی کو چن لیا تھا جس کی وجہ سے مجھے ارینج میرج پہ ہی سمجھوتہ کرنا پڑا۔

یہ شادی بینظیر کے لئے تو ارینج میرج تھی لیکن بہت کم لوگ یہ حقیقت جانتے ہیں کہ آصف علی زرداری کی یہ محبت کی شادی تھی۔ بینظیر لکھتی ہیں کہ جب میں نو عمر تھی تو زرداری صاحب نے مجھے سینما (جو کہ حاکم علی زرداری کی ملکیت تھا) سے داخل ہوتے اور نکلتے ہوئے دیکھا اور فریفتہ ہو گئے۔ تقریباً دو عشرے بعد جب آصف نے رشتہ بھیجا تو وہ آصف کی مرضی تھی نہ کہ اس کے والدین کی۔ آصف نے اپنے والد کو بہت پہلے بتلا دیا تھا کہ اگر آپ میری شادی کرنا چاہتے ہیں تو بینظیر بھٹو صاحبہ کے گھر ان کا رشتہ لے کر جائیں۔

بینظیر لکھتی ہیں کہ جب آصف کا رشتہ آیا تو میں نے خود بھی چھان بین کی۔ مجھے کسی نے بتایا کہ وہ پولو کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گرے تھے اور اب شاید تمام عمر لنگڑا کر چلیں۔ لیکن یہ بات جھوٹ نکلی۔ لیکن اگر یہ بات سچ بھی نکلتی تو بھی مجھے اس سے کوئی فرق نہ پڑتا کیونکہ جسمانی عیب، کردار کا عیب نہیں ہوتا۔ میں نے آصف کے قریبی شخص سے بھی بات چیت کی جس نے بتایا کہ آصف خطرناک حد تک سخی ہے اور اگر اس کا کوئی دوست مالی مشکلات کا شکار ہو تو ہر طرح سے اس کی مدد کرتا ہے۔ مجھے بھی سخاوت پسند تھی۔ ایک اور باہمی دوست نے آصف کے پکے ارادے اور وفاداری کی تعریف کی اور کہا کہ آصف دوستوں کا دوست اور دشمنوں کا دشمن ہے۔ یہ خوبیاں میرے بھائیوں میں بھی موجود تھیں اور میں اس بات سے بھی متاثر ہوئی۔

بینظیر لکھتی ہیں کہ میں نے اپنے رشتہ داروں سے وعدہ کر لیا کہ میں جون 1987 میں آصف سے لندن میں ایک دوسرے کو جاننے کے لئے ملاقات کروں گی لیکن سیاسی مصروفیات کے باعث یہ ملاقات ایک ماہ تاخیر سے 22 جولائی 1987 کو میرے کزن طارق کے گھر لندن میں ہوئی۔ جہاں نصرت بھٹو اور آنٹی مینا بھی موجود تھیں۔ میں بظاہر پرسکون لگنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن میرا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ آصف اپنی والدہ کے ساتھ فلیٹ میں داخل ہوئے تو میں نے ایک اچٹتی نگاہ آصف پہ ڈالی لیکن وہ پراعتماد لگ رہے تھے یا لگنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اور پھر وہاں روٹین کی باتیں ہوئیں اور کسی نے بھی شادی کا موضوع نہ چھیڑا۔

اس شام آصف اور میں نے آپس میں کوئی بات نہ کی۔ آصف نے ایک چشمہ پہن رکھا تھا اور میں اس کی آنکھوں کے تاثرات بھی نہ پڑھ سکی۔ میرے آصف کے بارے کوئی جذبات نہیں تھے یہاں تک کہ اگلی صبح جب آصف نے گلاب کے پھولوں کا گلدستہ، Fortnum & Mason سے آموں کی پیٹی، چیری کی پیٹی اور Marrons glacés Sweets بھجوائے ( جو مجھے بے حد پسند تھے)، تب بھی میرے آصف بارے کوئی جذبات نہ تھے۔ 24 جولائی کو جب امی نے میرا جواب پوچھا تو میں نے کہا، میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتی۔

میں نے آصف کو اپنے آکسفورڈ اور پاکستانی دوستوں سے ملوایا اور آصف ان کو پسند آیا۔ اگلے روز آصف میری فیملی کو ڈنر پر لے گئے اور سب سے خوش گپیاں کرتے رہے، اس روز مجھے آصف کا حس مزاح اچھا لگا۔ چوتھے روز مجھے شہد کی مکھی نے ہاتھ پہ کاٹا اور صبح تک میرا ہاتھ بہت زیادہ سوج گیا، آصف نے جب یہ دیکھا تو باوجود میرے احتجاج کے کار منگوائی، ڈاکٹر کے پاس لے گیا، خود دوا لے کر دی، اور مجھے یہ سب اچھا لگا کہ کوئی میری بھی پرواہ کرنے والا آ گیا ہے۔ مجھے آصف میں ایک خیال رکھنے والا انسان نظر آیا۔ اس دوران روز میرے گھر والے مجھ سے آصف کے متعلق پوچھتے رہے اور میں ٹالتی رہی۔

آخرکار میری ذاتی زندگی نے انتیس جولائی 1987 کو ایک ڈرامائی موڑ لیا اور خاندان کے اصرار پہ میں نے آصف سے شادی کے لئے ہاں کر دی۔ اور ہماری پہلی ملاقات کے ٹھیک سات روز بعد ہماری منگنی ہو گئی۔ آصف نے مجھے دل کی شکل کی انگوٹھی دی جس میں نیلم اور ہیرے جڑے ہوئے تھے۔

میں چاہتی تھی کہ میری شادی سادہ مگر پروقار انداز میں ہو۔ میں اپنے لوگوں کے لئے مثال بننا چاہتی تھی۔ یہاں پہ لوگ فضول قسم کی رسومات کو پورا کرنے کے لئے زندگی بھر کی کمائی خرچ دیتے ہیں۔ آصف کی فیملی بہت زیادہ نمود و نمائش چاہ رہی تھی لیکن میں نے آصف کو بتا دیا تھا کہ مجھے بس دو سوٹ اور دو سونے کے سادہ سیٹ دیں ایک رخصتی کے لئے اور دوسرا ولیمے کے لئے۔ میں نے آصف کو کہا کہ تمام عمر پڑی ہے زیورات دینے کے لئے اور مجھے ویسے بھی زیورات میں کوئی خاص دلچسپی نہیں۔

متمول خاندان کی دلہنیں شادی کی موقع پر کلائی سے کہنی تک سونے کے کنگن پہنتی ہیں لیکن میں نے آصف کا دل رکھنے کے لئے دونوں بازووں میں دو کنگن سونے کے اور مثال بننے کے لئے باقی چوڑیاں کانچ کی پہنیں تاکہ لوگ مثال دے سکیں کہ اگر بینظیر بھٹو اپنی شادی پہ کانچ کی چوڑیاں پہن سکتی ہے تو میری بیٹی کیوں نہیں۔

بینظیر بھٹو لکھتی ہیں کہ نکاح کے وقت میرا کزن شاد آیا اور مجھ سے سندھی زبان میں پوچھا ”منظور آ ہے“ اور میں نے کہا ”آ ہے“ اور پھر اس نے دو بار مزید یہی سوال کیا اور میں نے جواب دیا ”آ ہے، آ ہے“ میں تین دفعہ ہاں کہہ چکی تھی اور میں اب شادی شدہ عورت ہو چکی تھی اور اس خوشی میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔

بینظیر بھٹو کی شادی 18 دسمبر 1987 کو کراچی میں ہوئی۔ شادی کے دو فنکشن رکھے گئے۔ ایک میں قریبی رشتہ دار اور دوست شریک ہوئے جو کہ 70 کلفٹن پہ منعقد ہوئی اور دوسری تقریب ککڑی گراؤنڈ، لیاری، کراچی میں ہوئی جو کہ پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ پندرہ ہزار دعوت نامے پارٹی ورکرز میں تقسیم کیے گئے اور تقریباً دو لاکھ سے زائد لوگ شادی کی خوشی منانے کے لئے ککڑی گراؤنڈ میں اکٹھے ہوئے۔

جب بینظیر بھٹو کی شادی ہو گئی تو انہوں نے اپنا surname نہ بدلا اور یہ کہا کہ میں 34 سال سے بینظیر بھٹو ہوں تو اب بھی بینظیر بھٹو ہی کہلوانا پسند کروں گی۔ کیا بختاور اپنا surname بدلیں گی۔ کیا بختاور بھٹو بھی اپنی والدہ کی نقش قدم پہ چلتے ہوئے اپنی شادی کی تقریب کو سادہ اور پروقار بنائیں گی۔ کیا اب بھی پارٹی ورکرز اور جیالوں کو دعوت نامے دیے جائیں گے۔ کیا بختاور اپنی والدہ کی تقلید میں کانچ کی چوڑیاں پہنیں گی۔ ہماری دعا ہے کہ بختاور اپنی والدہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے لوگوں کے لئے مثال بنیں اور سدا خوش و آباد رہیں۔

Facebook Comments HS