کیا صرف انسان ہی خود غرض ہوتے ہیں

خود غرضی ہی کچھ ایسی یہاں ہر شجر میں ہے
اتل اجنبی نے تو شاید انسانوں کی جبلت می رچی ہوئی خود غرضی کو نشانہ بنانے کے لئے اشجار کو بطور استعارہ استعمال کیا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ پودے جیسے ہی ”ونٹر از کمنگ“ کا اشارہ پاتے ہیں تو ایک سکیم کے تحت ہارمونز کا ہیر پھیر شروع کر دیتے ہیں جس سے پتوں کا ٹہنیوں کے ساتھ کنکشن بتدریج کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے اور پودے یہ کنکشن ختم ہونے سے پہلے پتوں میں موجودد غذائی اجزا کو اپنی تحویل میں لینا بالکل نہیں بھولتے۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ پودے تو بڑے خود غرض ہوتے ہیں کہ جب تک پتے سورج کی توانائیوں کو قید کر کے انہیں مہیا کرتے رہے، پودے بھی انہیں پانی اور منرلز بڑی گرم جوشی سے مہیا کرتے رہے لیکن جیسے ہی جاڑے کی آمد محسوس کی فوراً بھانپ گئے کہ اب یہ سودا مہنگا پڑے گا اور نہ صرف تعلقات توڑ لییے بلکہ ریسورسز پر قبضہ کرنا بھی نہیں بھولے، خود غرض کہیں کے!
لیکن آپ خود ہی سوچیں اگر آپ درخت یا پودا ہوتے تو آپ کیا سٹرٹیجی اپناتے، کیا آپ سردیوں میں پتوں کے ساتھ تعلق کو جوڑے رکھنے اور اپنے ریسورسز ضائع کرنے کو ترجیح دیتے یا درختوں کی طرح اس تعلق کو توڑ کر حالات سازگار ہونے کا انتظار کرتے اور جیسے ہی حالات سازگار ہوتے آپ دوبارہ ہارمونز کا ہیر پھیر کرتے اور آن کی آن میں نئے پتے پیدا کرلیتے جو پرانے پتوں کی نسبت زیادہ ایفیشنٹلی آپ کی خدمت میں جت جاتے؟ یقیناً آپ درختوں کی اس سٹریٹیجی کو ہی اپناتے اس لیے درختوں کو خودغرض کہنا چھوڑیں اور ان کی عقلمندی کی داد دیں۔
یہ تو پتوں کا بیان تھا، اب آ جائیں جڑوں کی طرف، آپ جانتے ہی ہیں کہ پودے سورج کی انرجی کو پتوں میں قید کر کے خوراک میں تبدیل کرتے ہیں، لیکن اس کے لیے انہیں پانی اور منرلز کی جو ضرورت ہوتی ہے وہ تو زمین ہی پورا کرتی ہے۔ اب اگر کسی پودے کو بھی ”مرزے یار“ کی طرح زمین میں ”سنجیاں گلیاں“ مل جائیں تو وارے نیارے ہو جاتے ہیں اور اپنی مرضی سے جدھر چاہے اپنی جڑوں کے ٹیوب ویلز بچھا کر اپنی ضروریات کو پائپ بیک کر لے، لیکن آپ جانتے ہیں کہ مرزے یار کے لئے سنجیاں گلیاں ”ہجرے شاہ مقیم کی جٹی“ کی عرض تو ہو سکتی ہے حقیقت نہیں۔
ایسی صورت حال میں پودے کیا سٹریٹیجی اپناتے ہیں، سائنس کی دنیا کا بہت اہم سوال رہا ہے۔ آپ ان حالات میں کیا سٹریٹیجی اختیار کرتے؟ یہ بات ذہن میں رہے کہ جڑوں کو پھیلانے اور مینٹی نینس کے لئے انرجی اور میٹیریل کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی بھی کامیاب انویسٹمنٹ کی طرح، پودے کے اخراجات کم اور فوائید زیادہ ہونے چاہئیں۔ ریسرچرز نے گیم تھیوری (a way to analyze and optimize decision) سے امداد مستعار لیتے ہوئے اس عقدے کو وا کرنے کی کوشش کی ہے۔
ایک خیال تو یہ ہے کہ دونوں پودے زیادہ سے زیادہ جڑیں پھیلا کر ریسورسز حاصل کرنے کی کوشش میں سانحہ اشتراک یعنی ”ٹریجڈی آف کامنز“ کا شکار ہو جائیں گے اور نتیجے کے طور پر اخراجات، فوائد سے بڑھ جائیں گے۔
کچھ سائنسی مقالوں میں یہ بات ثابت بھی ہوئی کہ ایسے پودے جو ساتھ ساتھ اگیں ان میں جڑوں کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے بنسبت ان پودوں کے جو اکیلے اکیلے اگ رہے ہوں، لیکن کچھ ریسرچ پیپرز میں اس کے بالکل مخالف نتائج بھی ملے۔ اس کنٹروورسی کو حل کرنے کے لئے سائنسی جریدے ”سائنس“ میں ایک مقالہ شائع ہوا ہے جس میں نتیجہ نکالا گیا ہے کہ پودے ان حالات میں بھی بڑے خود غرض واقع ہوئے ہیں۔ جب وہ محسوس کرتے ہیں کہ قریب ہی کوئی اور پودا بھی ہے جو زمین سے پانی اور نیوٹرینٹس حاصل کر رہا ہے تو وہ بڑی عمدہ سٹریٹیجی اپناتے ہیں۔
وہ زیادہ سے زیادہ جڑیں بناتے تو ہیں لیکن دور دراز اور دوسرے پودے کی سمت کی بجائے اپنے قریب قریب۔ اس طرح وہ دوسرے کے حصے کے ریسورسز پر قبضہ کرنے پر توانائیاں خرچ کرنے کی بجائے اپنے ریسورسز کے ایفیشنٹ استعمال اور حفاظت پر توانائیں خرچ کر کے زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں، کیا یہ خود غرضی نہیں ہے، کہ بقول ”شخصے“ خود غرضی کی کئی اقسام ہیں جن میں بے غرضی سب سے خطرناک ہے۔


