شیخو اور اس کا ہرن مینار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برصغیر کے علاقہ جہانگیر پورہ اور موجودہ پاکستان میں صوبہ پنجاب کے ضلع شیخو پورہ میں واقعہ ہرن مینار کی بنیاد عظیم مغل شہنشاہ نورالدین محمد جہانگیر نے رکھی۔ جہانگیر کی ماں اسے پیار سے شیخو بابا کہتی تھی اور اسی مناسبت سے اس نئے شہر کا نام شیخوپورہ رکھا گیا۔ جہانگیر کے دور حکومت ( 1605 ء تا 1627 ء) میں شیخوپورہ کو شاہی شکارگاہ کی حیثیت حاصل تھی کیونکہ جہانگیر پورہ کا علاقہ شکار کے حوالے سے برصیغر میں خاصی شہرت کا حامل تھا۔ سرسبز و شاداب جنگلات میں انواع و اقسام کے جانور پائے جاتے تھے۔ مغل بادشاہوں کا ایک خاصا یہ تھا کہ جس مقام پر اپنا قدم جماتے تھے وہاں اپنی کوئی نا کوئی نشانی چھوڑ آتے تھے۔

مغل بادشاہوں نے تعمیرات کے سلسلے میں کہیں اپنا رنگ بسایا تو کہیں اس میں مقامی رنگ کی خوبصورتی سے آمیزش کی۔ اس بات کی عمدہ دلیل میں جہاں تاج محل، شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد، مقبرہ جہانگیر، شالیمار باغ، لال قلعہ موجود ہیں وہیں پر ایک ہرن مینار جیسا شاہکار بھی اپنا وجود رکھتا ہے۔

یہی وجہ تھی کہ انگریز حکومت نے ہمیشہ دل کھول کر برصیغر پاک و ہند میں واقع عمارات کی تعریف کی ہے۔ ہرن مینار کی تعمیر کو برطانوی حکومت نے انسان کا جانور سے محبت کا عملی نمونہ قرار دیا ہے۔ ہرن مینار کی تعمیر کا واقعہ اپنی ایک خاص اور انوکھی اہمیت رکھتا ہے۔

شہنشاہ جہانگیر نے شکار کے دوران ایک ہرن پکڑا جو ان کی طبیعت کو بھایا اور انھوں نے اسے شاہی جانوروں کے ساتھ شامل کرنے کا حکم دیا۔ یہ ہرن بہت معصوم اور خوبصورت تھا۔ جہانگیر اسے پیار سے ہنس راج کہتا تھا۔ ہنس راج نے چند ہی ہفتوں میں جنگلی خصلتیں چھوڑ کر پالتو جانوروں کی سی عادتیں اپنالیں اور جہانگیر کی آنکھ کا تارا بن گیا۔ 1607 ء میں ہنس راج ایک طبعی موت مر گیا۔ اس کی موت کا جہانگیر کو بہت دکھ ہوا اور وہ اس کے غم میں کئی روز تک مغموم رہے۔

1608 ء میں شہنشاہ جہانگیر نے ہنس راج کی قبر پر ایک بلند و بالا مینار تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ جہانگیر کے شاہی ماہر تعمیرات نے سارا کام نہایت دلچسپی اور دلجمعی سے کیا اور قبر کا پتھر بھی جہانگیر کے حکم سے ہرن کی شکل کا بنوایا گیا۔ ہرن کی قبر پر ایک کتبہ عہد جہانگیری کے مشہور خطاط ملا محمد مینا کشمیری نے کندہ کیا۔

مینار کا نقشہ بھی ایک خاص انداز سے ترتیب دیا گیا۔ مینار کے اندر داخل ہونے کا راستہ مشرق کی جانب سے ہے۔ اندرونی سیڑھیوں کی تعداد ایک سو کے قریب ہے۔ اندر سے گھومتی بل کھاتی ہوئی سیڑھیاں اس کی چھت پر جا نکلتی ہیں۔ سیڑھیاں چونے کے پتھر سے تیار کی گئی ہیں۔ مینار کے سامنے مشرقی جانب ایک وسیع و عریض تالاب ہے۔ تالاب کے اردگرد چونے کے پتھر سے تعمیر شدہ خوبصورت چبوترے ہیں۔ تالاب کے وسط میں ہشت پہلو بارہ دری ہے۔ تالاب سے بارہ دری تک ایک پختہ راستہ جاتا ہے۔

مختصراً یہ کہ ہرن مینار شیخو بابا کی ہنسراج سے محبت کا بے مثال اور منہ بولتا ثبوت ہے۔ برصغیر کی تہذیبی خصوصیات میں یہ بات ازل سے ہی شامل رہی ہے کہ یہاں کے مکین انسانوں کے ساتھ ساتھ دوسری مخلوقات سے بھی محبت اور انسیت رکھتے ہیں۔ ہرن مینار اس محبت اور انسیت کی بہترین مثال ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •