بھارت میں کسان تحریک اور بی جے پی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت میں 2014 سے برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنے چھ سالہ دور اقتدار میں سب سے بڑے مسئلے کا سامنا کسان تحریک کی شکل میں کرنا پڑ رہا ہے۔

اگرچہ بی جے پی اس وقت بھارت کی سب سے طاقت ور سیاسی جماعت ہے اور مودی کی قیادت میں اس نے دو ملکی سطح کے انتخابات اور کئی ریاستی انتخابات میں کام یابی حاصل کی ہے۔ اس کے مقابلے میں سب سے پرانی جماعت کانگریس کوئی اچھی کارگردگی نہ دکھا سکی تو اب کسانوں نے خود اپنے بل بوتے پر بی جے پی کی حکومت کو للکارا ہے۔

یاد رہے کہ آزاد بھارت کی تقریباً پون صدی کی تاریخ میں پہلے نصف حصے میں یعنی 1980 کے عشرے کے اواخر تک کانگریس بھارتی سیاست پر کم و بیش تنہا حاوی رہی ہے لیکن اس کے بعد گزشتہ تیس پینتیس سال میں کوئی بھی جماعت اس قابل نہیں ہو پائی تھی کہ وہ اتحادیوں کے بغیر مرکزی حکومت بنا سکے۔ 2019 میں 1984 کے بعد پہلی مرتبہ یہ ممکن ہوا کہ ایک جماعت یعنی بی جے پی نے نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت تشکیل دی۔

اس جیت نے بی جے پی کے ہندو مذہبی اور سخت قوم پرستانہ موقف میں مزید جان ڈالی دی اور راشٹریہ سیوک سنگھ اور ویشوا ہندو پریشد کے تنگ نظر ہندو بڑی تعداد میں بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ پچھلے چھ سال میں بی جے پی کی حکومت نے تعلیمی نظم کو خاص طور پر تاریخ کی تعلیم کو یک طرف ہندو قوم پرستی کے نقطہ نظر کے مطابق توڑ مروڑ کر رکھ دیا ہے اور دیگر مذاہب کو منفی تناظر میں پیش کیا جانے لگا ہے۔

بی جے پی بھارتی قوم میں اتحاد کی بات نہیں کرتی بلکہ ہندوؤں میں یک جہتی کی بات کرنے لگی ہے۔ لیکن اب کسانوں نے خاص طور پر خواتین نے بی جے پی کی بالادستی کو للکارا ہے۔ خواتین بڑی تعداد میں شاہین باغ میں بھی جمع ہوتی ہیں اور کسان تحریک میں بھی متحرک ہیں۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ خواتین کسی ایک فرقے یا برادری تک محدود نہیں ہیں بلکہ سب کے حقوق کے لئے بات کر رہی ہیں۔

اب اس طرح کی تحریکوں میں اگر کسانوں کے خلاف زرعی قوانین پر بات ہوتی ہے تو طالب علم بھی اس جدوجہد کی حمایت میں نکل آتے ہیں جن میں بڑی تعداد خواتین کی ہوتی ہے۔ جب کسانوں نے گاؤں سے نئی دہلی تک پیدل سفر شروع کیے تو دہلی کے اندر طالب علم ان کی حمایت میں مظاہرے کرنے لگے۔ اس کے مقابلے کے لئے بی جے پی اور آر ایس ایس کے نوجوان سماجی میڈیا پر جھوٹی خبروں کا ایک طوفان مچائے رکھتے ہیں۔ ایسا حال ہی میں ایک ویڈیو کے بارے میں ہوا، جس میں دکھایا گیا تھا کہ پولیس ایک بوڑھے کسان کو لاٹھی سے مار رہی ہے، جب کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے یہ ویڈیو سماجی میڈیا پر لگائی تو بی جے پی کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ، امیت مالویہ نے ایک اور ویڈیو شیئر کی جس میں پولیس نے لاٹھی تانی ہے مگر بوڑھے کسان کو مارا نہیں۔

اس پر فیس بک نے انہیں تنبیہ کی کہ امیت مالویہ نے اصل ویڈیو میں رد و بدل کر کے لگائی ہے۔ اس پر بی جے پی کے امیت مالویہ نے کوئی معذرت نہیں کی اور نہ اس کی وضاحت کی کہ جھوٹی ویڈیو کیوں لگائی گئی۔ اسی طرح بی جے پی نے لو جہاد کا ایک نیا قانون متعارف کرایا ہے جس کے تحت بین المذاہب شادیوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اس قانون کے نافد ہونے کے فوراً بعد ہی اس پر عمل شروع کر دیا گیا اور اتر پردیش میں پولیس نے ایک مسلم لڑکے کو ایک ہندو لڑکی سے تبلیغ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

لو جہاد کی اصطلاح استعمال کر کے قدامت پسند ہندو بین المذاہب شادیوں کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی بین المذاہب شادیوں کی بھارت کے سیکولر آئین کے تحت مکمل اجازت رہی ہے اور یہ افراد کا ذاتی معاملہ رہا ہے کہ وہ کس سے شادی کرتے ہیں اور اس میں ریاست کو دخل دینے کا کوئی حق نہیں تھا۔ مگر اب نئے قانون کے تحت اسے خاص طور پر، مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

لیکن اچھی بات یہ ہے کہ یہ قانون ابھی مرکزی اسمبلی سے نہیں منظور ہوا اور اتر پردیش کے بعد چار مزید ریاستیں ایسے قانون بنا رہی ہیں لیکن وہ پورے بھارت پر لاگو نہیں ہوں گے۔

یو پی کے اس قانون کے تحت ”جبر یا دھوکے“ کے ذریعے مذہب تبدیل کرانے پر ملزم کو دس سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اور ایسے جرم ناقابل ضمانت ہوں گے۔ مزید چار ریاستوں میں مدھیہ پردیش، ہریانہ، کرناٹک اور آسام شامل ہیں۔ ان پانچوں ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہونے کے باعث یہاں مسلمان مخالف جذبات کو خاص طور پر ہوا دی جا رہی ہے۔

بی جے پی کی ان سب حرکتوں کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا چاہتی ہے۔ مثلاً پچھلے کئی ہفتوں سے ملک بھر سے آئے کسان دارالحکومت نئی دہلی میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور یہ مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے لیکن مودی حکومت لوگوں کو فروعی مسائل میں الجھا کر اپنی نا کامی چھپا رہی ہے۔ اسی دوران کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹس ٹروڈو نے بھی بھارتی اہل کاروں کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پر امن احتجاج پر تشدد نہیں ہونا چاہیے۔ اس پر بھارتی وزارت خارجہ کو آگ لگ گئی اور اس نے ٹروڈو کے بیان پر سخت اعتراض کیا اور اسے غلط قرار دیا اور غیر ضروری مداخلت کہا۔

کینیڈا میں تقریباً پانچ لاکھ سکھ آباد ہیں جو ان دنوں اپنے مذہبی رہ نما گرونانک کا جنم دن منا رہے تھے۔ کینیڈا میں بھارت کے بعد سکھوں کی سب سے بڑی آبادی ہے۔

بھارت میں کسانوں کا احتجاج زرعی اصلاحات کے نئے قانون کے خلاف ہے جس کی کسان مخالفت کر رہے ہیں اور انہیں کانگریس کی حمایت حاصل ہے۔ مودی سرکار پر الزام ہے کہ اس نے زرعی اصلاحات کے قانون کے بارے میں کسانوں کو اعتماد میں نہیں لیا اور نہ ہی ان سے سیر حاصل مذاکرات کیے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ اگر کوئی بھارتی نژاد غیرممالک میں اہم عہدے حاصل کر لے تو اس پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور اگر وہی بھارت کی کسی پالیسی پر تنفید کرے تو اسے پسند نہیں کیا جاتا۔ مثلاً حال ہی میں بھارتی نژاد نیرا ٹنڈن جنہیں نومنتخب صدر جو بائیڈن نے اپنی اقتصادی ٹیم میں شامل کیا۔ پچاس سالہ نیرا ٹنڈن ایک تھنک ٹینک کی سربراہ ہیں اور ہیلری کلنٹن کی مشیر رہی ہیں۔ انہوں نے صدر اوباما کے دور میں صحت کے قانون کو منظور کرانے میں مدد کی تھی۔ اس نیرا ٹنڈن کی نام زدگی پر بھارت میں خوشی کا اظہار کیا گیا۔ لیکن اگر کوئی غیر مناسب زرعی قوانین کی بات کر دے تو اس کو بھارتی معاملات میں مداخلت کہا جاتا ہے۔ اب دہلی کی سرحد پر ملک کی کئی ریاستوں سے آئے کسانوں کو دھرنا دیے لگ بھگ مہینے ہو چکے ہیں۔ کسان کئی ہفتوں کا راشن اپنے ساتھ لائے ہیں اور اپنے مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھنے کا ارادہ بنائے ہوئے ہیں۔ یہ ہزاروں کسان مختلف جگہوں پر پھیلے ہوئے ہیں اور دہلی میں داخل ہونے کی کوشش میں ان کے پولیس سے تصادم بھی ہوئے ہیں۔ مثلاً ہر یانہ دہلی سرحد تک آنسو گیس اور تیز دھار پانی استعمال کیا گیا جس سے سردی میں کسانوں کے مسئلے پیدا ہوئے۔

دراصل ستمبر کے تیسرے ہفتے میں بھارتی پارلیمان نے تین قانون منظور کیے جس میں سے ایک زرعی تجارت اور پیداوار کا قانون ہے۔ دوسرے کو کسانوں کے تحفظ کا قانون قرار دیا گیا ہے اور تیسرے میں ضروری اشیا کا ذکر ہے مگر ان کی تفصیل میں کسانوں کے خلاف دفعات موجود ہیں جنہیں وہ غیر منصفانہ قرار دے رہے ہیں اور اس میں کسانوں کا استعمال ہوگا۔

دہلی کے وزیر اعلی کیجری وال کسانوں کی حمایت کر ہے ہیں۔ نئے قوانین کے تحت نجی خریداروں کو یہ اجازت ہو گی کہ وہ مستقبل میں فروخت کرنے کے لئے براہ راست کسانوں سے ان کی پیداوار خرید کر ذخیرہ کر لیں جبکہ پرانے طریقے میں صرف حکومت کے متعین ساہوکار ہی پیداوار خرید سکتے تھے اس کے علاوہ ٹھیکے داری کے نئے قوانین پر بھی کسانوں کو اعتراض ہے جس کے تحت کسانوں کو وہی اجناس اگانا ہوں گی جو کسی ایک مخصوص خریدار کی مانگ کو پورا کریں گی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں کسانوں کا احتجاج کیا رنگ لاتا ہے ایک بات تو مثبت ہے کہ کسان اپنے حقوق کے لئے نکل آئے ہیں ایسی تحریک کے بعد حکومت کو جھکانا ممکن ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •