مدوجزر، کرنیں، شگوفے اور پچھتاوے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ گھر ایک ایک کر کے اپنے مکینوں سے خالی ہو گیا۔ ایک دن میں اس کا درد بانٹنے اس کے باہر جا پہنچا۔ دروازے کا تالا کھول کر اندر داخل ہوا۔ یہ زندگی کے اتار چڑھاؤ کا حصہ ہے۔ لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں۔ اگر زندگی موقع دے تو کچھ سامان ساتھ لے جاتے ہیں۔ باقی وہیں رہ جاتا ہے۔ بالکل اس گھر کی طرح جو اس وقت خالی اور بکھرا ہوا تھا۔

میں نے خاموش کمروں میں جھانکا۔ سامان کے ساتھ بہت سی کتابیں بھی الجھی ہوئی تھیں۔ مجھے یہ خیال آیا کہ کہ انہیں ایک کمرے میں جمع کر کے ترتیب سے لگا دوں۔ ابھی میں اپنی سوچوں میں گم تھا کہ میری نظر پاکٹ سائز کی ایک کتاب پر پڑی۔ سرخ، سبز اور نارنجی رنگ کے سادہ سے سرورق پر جلی حروف میں لکھا تھا ’مدوجزر‘ ۔ گویا انسانی صورت حال پر یہ اس گھر کا مجھے جواب تھا۔ میں نے کتاب اٹھالی اور اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔

سہ پہر کا وقت تھا۔ گلیوں میں معمول سے زیادہ رش تھا۔ گھر پہنچ کر میں نے کتاب کا مطالعہ شروع کر دیا۔ یہ شفیق الرحمان کے افسانوں کی کتاب تھی۔ میں پڑھتا رہا اور میری طبیعت کا اضمحلال ٹوٹتا رہا۔ میں اس گھر کا درد بانٹنے گیا تھا۔ اور اب وہ اس کتاب کے ذریعے میرے زخموں پر مرہم رکھ رہا تھا۔ ہاں یہ سب زندگی کے اتار چڑھاؤ کا حصہ ہے۔

پھر میں تعلیم کی غرض سے لاہور آ گیا۔ یہ شہر میرے لیے بالکل اجنبی تھا۔ کچھ نئے مراسم بنے۔ کچھ قریبی جگہوں سے واقفیت بڑھی۔ میرے شعور کے ساتھ ساتھ اس شہر کی وسعت میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ یونیورسٹی کی مصروفیات اور ہوسٹل کی گہما گہمی سے وقت نکال کر اکثر شہر کے تاریخی مقامات کی سیر کے لئے نکل جاتا۔ انارکلی، فوڈ سٹریٹ، مسجد وزیر اور شاہی قلعے کے رستے ماپ لئے۔ بیشتر شہر اب بھی بیگانگی کی دھند میں ڈوبا ہوا تھا۔

مطالعہ کے لئے کچھ وقت مختص کیا۔ یہاں گھر کی لائبریری کو بہت مس کیا۔ خود کتابیں جمع کرنا شروع کر دیں۔ بک فیئرز اور پبلشرز کے شورومز پر جانا ایک عادت بن گئی۔ اس کے ساتھ پرانی کتابوں کے اتوار بازار اور فٹ پاتھ پر سجی کتابوں کو کنگھالنے کا بھی اپنا مزہ تھا۔ وہیں ایک روز میری نظر ایک پرانی کتاب پر پڑی۔ ہتھیلی میں رکھ کر گرد صاف کی تو اس کا نام واضح ہو گیا۔ کرنیں از شفیق الرحمان۔ خرید کر گھر لے آیا اور پڑھنا شروع کر دی۔ اب میرے لیے یہ شہر اجنبی نہ تھا۔ آگہی کی کرنوں سے شہر کا چپہ چپہ روشن ہو چکا تھا۔

تعلیم کے بعد ملازمت کا آغاز ہو گیا۔ میں اپنی کتابوں کے ساتھ ایک فلیٹ میں شفٹ ہو گیا۔ ایک روز دفتر سے بوجھل قدموں کے ساتھ گھر پہنچا۔ دروازہ کھولا تو اس کے خالی پن کا رہ رہ کر احساس ہونے لگا۔ میں اپنوں سے کتنا دور تھا! کچھ ضروری سامان کے ساتھ۔ کتابیں میری رفیق تھیں۔ ایک ترتیب سے شیلف میں سجی ہوئی تھیں۔ وہاں سے شفیق الرحمان کی دو کتابیں جھانک رہی تھیں۔ شگوفے اور پچھتاوے۔

میں نے کافی کا ایک کپ تیار کیا اور بالکنی میں آ گیا۔ کافی کی تیز مہک اور کبوتروں کی غٹرغوں کے ساتھ باہر کا نظارہ کرنے لگا۔ بچے بے فکر میدان میں کھیل رہے تھے۔ کچھ لوگ سامنے گھروں کی چھتوں پر محو گفتگو تھے۔ زندگی اپنے شگوفوں اور رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر تھی۔ مگر دل میں کچھ پچھتاوے تھے جن کا مداوا نہیں ہو سکتا تھا۔

مدوجزر، کرنیں، شگوفے اور پچھتاوے سے اقتباسات:

سنا ہے تم اس قدر حسین ہو کہ تمہارے چہرے پر نظریں نہیں جمتی۔ تم سادگی میں لپٹی ہوئی، ایک محجوب، معصوم سی کلی تھیں۔ اب ایک شگفتہ پھول بن کر رعنائیاں تم پر نچھاور ہوتی ہوں گی ۔ سنا ہے تمھاری آنکھوں میں ایک نرالا فسوں ہے۔ تمہاری لٹیں چاند سی پیشانی پر پریشان ہو جاتی ہیں۔

تمہارے لباس میں اس رات کتنے رنگ تھے۔ تم دہکتا ہوا شعلہ معلوم ہو رہی تھیں۔ تمہارے آویزے دو انگارے دکھائی دے رہے تھے۔ تمہارا ہار چنگاریوں سے پرویا ہوا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے تم چاندنی کی پہلی کرن کے ساتھ زمین پر اتری ہو۔

وہ تارے دیکھ رہی ہو؟ وہ لمبی لمبی پلکیں اٹھائے انہیں دیکھنے لگی۔ میں اس کے جگمگاتے ہوئے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ جب اس نے بڑی بڑی مسحور کن نگاہوں سے مجھے دیکھا تو میں پریشان ہو گیا۔ نہ جانے ان نگاہوں میں کیا پیغام تھا؟

آسمان پر دمکتے ہوئے تارے یوں ہی نہیں جھلملاتے۔ ان کے بھی اشارے ہیں۔ رمزیں ہیں۔ کہتے ہیں ان تاروں کا ہماری زندگی سے کوئی تعلق ہوتا ہے۔

بات در اصل یہ ہے کہ میں مدت سے کہنا چاہتا ہوں کہ۔ یہی کہ۔ یہی کہ یہ تارے بہت چمکتے ہیں۔ نہیں تاروں کی بات نہیں۔ بات کچھ اور ہے۔ یہی کہ مجھے اتنے دنوں سے تم سے۔ مجھے تم سے۔ ایک شکایت ہے۔ کہ تم اتنے سادہ لباس کیوں پہنتی ہو؟

پھول بے جان نہیں ہوتے۔ یہ ہماری طرح سانس لیتے ہیں۔ ہنستے ہیں، غمگین ہوتے ہیں۔ چنبیلی کے پھول اداس رہتے ہیں۔ نرگس کے پھول ہمیشہ کسی کے منتظر ہوتے ہیں۔ چھوئی موئی کی کلیاں بے حد شرمیلی ہیں۔

اس حسن میں صحراؤں میں یکا یک نظر آ جانے والے سراب کی کشش تھی۔ شاید اسے نظر بھر دیکھنے کے لیے اس نے اتنا طویل سفر طے کیا تھا۔ کچھ احساسات جو زبان سے ادا نہیں کیے جا سکتے انھیں موسیقی ادا کر سکتی ہے۔ کاش کہ یہ خواب حقیقت بن جائے۔ اب وہ چہرہ اوجھل نہیں ہوگا۔ اس نے سراب کو پا لیا تھا۔

جنگل میں سناٹا تھا۔ جھیل کی سطح پر میں نے اداسی دیکھی۔ درختوں کے کانپتے ہوئے سائے دیکھے۔ پتوں کی سرسراہٹ میں سرد آہیں سنیں۔ وہ آنکھیں شاید مجھے کبھی حیرت سے نہ دیکھیں۔ ان ہونٹوں کی لرزش جیسے کبھی محسوس نہ کر سکوں۔ شاید یہ سب نرا واہمہ تھا۔

میں بے حد اداس تھا جیسے کچھ کھو گیا ہو۔ شاید زندگی کا دار و مدار محض حادثوں پر ہے۔ یونہی اتفاق سے ہم ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔ پھر ایک حادثہ ہمیں دور پھینک دیتا ہے۔ زندگی کی دوڑ بدستور جاری رہتی ہے۔

زندگی کا دار و مدار ان خطوط پر ہے جنہیں تقدیر کا ہاتھ اندھا دھند کھینچ رہا ہے۔ بہت سے خطوط ایک دوسرے کے متوازی ہوتے ہیں اور ہمیشہ دور دور رہتے ہیں۔

آرزوئیں دم توڑ جاتی ہیں، خواب کچلے جاتے ہیں۔ دل ٹوٹ جایا کرتے ہیں، کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایک لہر آتی ہے اور سمندر میں پھینک دیتی ہے۔ دوسری لہر کنارے پر چھوڑ جاتی ہے۔ کتنا عجیب ہے زندگی کا مدوجزر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •