سی پیک: چین کی قرض فراہمی سے قبل پاکستان سے اضافی ضمانتیں طلب کرنے کی تردید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین نے ‘سی پیک’ منصوبے کے لیے پاکستان کو قرض کی فراہمی سے قبل اضافی ضمانتیں طلب کرنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے ان رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان چاؤ لیجیان نے بیجنگ میں پیر کو ایک نیوز بریفنگ کے دوران ان رپورٹس کو بھی بے بنیاد قرار دیا کہ بیجنگ ‘چین پاکستان اقتصادی راہداری’ (سی پیک) منصوبوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کے وعدوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔

چاؤ لیجیان نے کہا کہ عالمی کساد بازاری کے باوجود چین کی طرف سے ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو’ (بی آر آئی) اور سی پیک منصوبوں کے لیے فراہم کردہ مالی وسائل میں اضافہ ہوا ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے ایک مقامی انگریزی اخبار ‘ایکسپریس ٹریبیون’ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چین نے پاکستان کی کمزور اقتصادی صورتِ حال کے پیشِ نظر سی پیک کے تحت ‘ایم ایل ون’ منصوبے کے لیے چھ ارب ڈالر قرض دینے سے قبل پاکستان سے اضافی ضمانتیں طلب کی ہیں۔ ‘ایم ایل ون’ کراچی سے پشاور تک ریلوے لائن کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق حال ہی میں پشاور سے کراچی نئی ریلوے لائن ‘ایم ایل ون’ اور پہلے سے موجود 1800 کلو میٹر طویل ریلوے ٹریک کو بہتر کرنے کے لیے پاکستان کی طرف سے سستے قرضوں کی خواہش کے برعکس چین نے اس منصوبے کے لیے ایسے قرضے فراہم کرنے کی پیش کش کی جو تجارتی نوعیت کے ہوں گے۔

سی پیک پاکستان کی اقتصادی ترقی کا ذریعہ بنے گا؟

لیکن چین کی وزارتِ خارجہ نے ان رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان لیجیان نے کہا کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا کے باوجود سی پیک منصوبوں پر کام جاری ہے۔

چاؤ لیجیان نے کہا کہ چین کی طرف سے ‘بی آر آئی’ اور سی پیک منصوبوں کے لیے فراہم کردہ مالی وسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال کے پہلے نو ماہ کے دوران ‘بی آر آئی’ کے شراکت دار ممالک کے لیے غیر مالی شعبوں میں چینی کی سرمایہ کاری میں 30 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے بقول بیجنگ نے کرونا وائرس سے نمٹنے اور معیشت کی بحالی کے لیے بی آر آئی کے شراکت دار ممالک کو ہر ممکن حد تک اعانت فراہم کی ہے۔

اس معاملے پر اقتصادی امور کے تجزیہ کار اور صحافی فرحان بخاری کہتے ہیں کہ سی پیک کے تحت کئی منصوبوں کے لیے چین کے فراہم کردہ قرضوں کے لیے پاکستان کی حکومت نے ضمانت دے رکھی ہے۔ ان کے بقول ‘ایم ایل ون’ منصوبے کے لیے چین کی جانب سے اضافی ضمانت طلب کرنے کی کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

فرحان بخاری کا کہنا ہے کہ یہ کہنا مبالغہ ہو گا کہ سی پیک منصوبوں میں کوئی تبدیلی آ رہی ہے یا چین اور پاکستان کے بنیادی تعلقات کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے ‘ایم ایل ون’ منصوبے کو چین اور پاکستان کی دوستی کی عمدہ مثال قرار دیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ جدید ذرائع مواصلات کی تعمیر کے ساتھ یہ منصوبہ ملک میں صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے بقول یہ منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے جو ملک کی بندرگاہوں کو زمینی راستوں سے مربوط کرے گا اور اس منصوبے سے پاکستان کو بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی برآمدات پہنچا کر قیمتی زرمبادلہ حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

سرکاری میڈیا کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان نے یہ گفتگو ‘ایم ایل ون’ منصوبے کے بارے میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس کے دوران کی۔

عمران خان کہا کہ اگرچہ ‘ایم ایل ون’ منصوبہ سی پیک منصوبوں میں اخراجات کے لحاظ سے مہنگا ترین پروجیکٹ ہے لیکن یہ پاکستان اور چین کے تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ کرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 908 posts and counting.See all posts by voa