عالمی وبا اور پروان چڑھتی پاک روس دوستی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان ہمیشہ سے بیماری پیدا کرنے والے عوامل سے نبرد آزما رہا ہے۔ قدرتی طور پر انسانی جسم کا مدافعتی نظام جسم پر حملہ آور ہونے والی امراض سے لڑنے میں مدد گار ہوتا ہے۔ لیکن بعض متعدی امراض ایسی سنگین صورت حال اختیار کر جاتی ہیں کہ وہ جان لیوا بن جاتی ہیں۔ 14 ویں صدی کے وسط میں یورپ میں طاعون کی وبا پھیلی۔ جس کے باعث دنیا کی ایک تہائی آبادی لقمہ اجل بنی۔ اس کے علاوہ چیچک، خسرہ، انفلوئنزا، ملیریا، ہیضہ اور تپ دق جیسی جان لیوا وبائی امراض انسانی بقا کے لئے سنگین خطرہ رہی ہیں۔

انسان نے اکثر وبائی امراض کو شکست دینے کے لئے ویکسین تیار کر لی ہے مگر آج بھی بیشتر وبائی امراض کا علاج دریافت نہیں ہو سکا۔ اکثر وبائی امراض دیگر جانداروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہیں۔ 1980 کی دہائی میں ایچ آئی وی ایڈز بن مانسوں سے پھیلا، 2004 میں ایوئین فلو کا باعث پرندے تھے اور 2009 میں سور کی وجہ سے سوائن فلو پھیلا۔ حال ہی میں حملہ آور ہونے والے کرونا وائرس کی شکل میں نسل انسانی کو بہت بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔

یہ وائرس چمگادڑوں سے انسان میں منتقل ہوا۔ کرونا وائرس بخار اور کھانسی کے ساتھ نظام تنفس کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کرونا وائرس نے اب تک سات کروڑ سے زائد انسانی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ چین کے علاوہ دیگر ممالک میں کرونا وائرس کے حملے بعد مارچ 2020 میں عالمی ادارہ صحت نے اسے عالمی وبا قرار دے دیا۔ اس صدی میں دوسری جنگ عظیم کے بعد کرونا وائرس انسانیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں فروری 2020 میں پہلی بار کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ اور اب یہ تعداد ساڑھے چار لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

کرونا وائرس کی وبا عالمگیر سطح پر پہنچنے کے بعد پوری دنیا کے ممالک نے اپنے تئیں اس وبا سے نمٹنے کے لئے اقدامات کا آغاز کر دیا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو بھی طبی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی کمی کے باعث لاکھوں متاثرین کو مطلوبہ طبی امداد حاصل نہیں ہو رہی۔ کرونا وائرس پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر عالمی ادارہ صحت کی ہدایت پر زیادہ تر ممالک میں لاک ڈاؤن لگا دیا گیا اور تمام بین الاقوامی پروازوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔

کرونا وائرس نے انسانی طرز زندگی کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ کرونا وائرس نے صحت کے ساتھ عالمی سطح پر معاشیات کو بھی بد حال کر دیا ہے۔ تجارت اور نقل و حرکت پر پابندی نے ہر انسان کے معاشی معاملات کو انفرادی طور پر متاثر کیا۔ مشرق سے مغرب تک کروڑوں افراد کو بے روز گاری کا سامنا ہے۔ سکول، کالج اور یونیورسٹیوں کی بندش کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں بھی بند کر دی گئیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی پابندیوں نے بالخصوص متاثر کیا ہے۔

متاثرین میں وائرس کی تشخیص کے لئے ٹیسٹنگ کٹس کی کمی اور ہسپتالوں میں مریضوں کے اضافے نے ہمارے نظام صحت پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔ معاشی، سماجی، تعلیمی اور نفسیاتی طور پر اس وائرس سے متاثر ہونے والے تمام انسان ویکسین کی انتظار میں ہیں کہ کب وہ اپنی زندگی اپنے معمول کے مطابق گزار سکیں۔ ہمارے پاس وائرس کے علاج یا ویکسین کے حوالے سے کوئی تجربہ نہیں اور نہ ہم یہ طے کر سکتے ہیں کہ دنیا کی معیشت اس سے کتنی تباہ ہوگی اور کب ٹھیک ہو جائے گی۔

اس حوالے سے روس کی حکمت عملی قابل تحسین ہے کہ روسی سائنسدان اور ماہرین طب کرونا وائرس کے علاج اور ویکسین کی تیاری کے لئے اپنے شب و روز وقف کرتے رہے۔ اور بالآخر اگست 2020 میں انہوں نے کرونا وائرس کے خلاف ویکسین تیار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ نومبر 2020 میں روس کے قومی تحقیقی مرکز برائے وبائی امراض نے مقامی طور پر تیار کردہ ویکسین کا تجربہ کیا اور اسے 92 فیصد کامیاب نتائج ملے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکی کمپنیPFizer کی تیار کردہ ویکسین کی شرح کامیابی 90 فیصد ہے۔

یہ روسی سائنسدانوں کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان میں کرونا وائرس کی بگڑتی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے روس نے پاکستان کو ویکسین کی فراہمی کی پیشکش کی ہے۔ روس کی پاکستان کو ویکسین کی پیشکش اس کی انسان دوستی کا ثبوت ہے۔ یہ امر بلاشبہ تسکین بخش ہے کہ روس نے باہمی رفاقت کو تقویت دینے کے لئے پاکستان کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ پاکستان اس پیشکش کو قبول کرنے کے بعد ویکسین کے بر وقت حصول کے لئے روس کے ساتھ مختلف ذرائع سے بدستور رابطے میں ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے روسی پیشکش کے متعلق وزارت صحت کو پیغام دے دیا ہے اور امید کی جا رہی ہے 2021 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان میں کرونا وائرس کی ویکسین کی باقاعدہ مہم کا آغاز کر دیا جائے گا۔ پاکستان اور روس کے تعلقات بتدریج بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔ سفارتی اور اقتصادی روابط میں اضافے بعد باہمی تعلقات میں گرم جوشی دیکھنے میں آئی ہے۔ روس کا پاکستان کے لئے اقتصادی، سیاسی اور دفاعی تعاون یہ ظاہر کرتا ہے روس اور پاکستان آنے والے وقت ایک مضبوط اتحادی بن سکتے ہیں۔ اس خطے کی ایک بڑی طاقت اور ہمارا برادر ملک چین بھی پاک روس دوستی کا خواہاں ہے۔ روس کی جانب سے ویکسین کی حالیہ پیشکش کے بعد باہمی اعتماد سازی میں اضافہ ہو گا۔ پاکستان، روس کی جانب سے بڑھائے گئے دوستی کے ہاتھ کو تھام کر ترقی کی نئی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد ارسلہ خان

محمد ارسلہ خان پاکستان میں روس کے اعزازی قونصل ہیں

muhammad-arsallah-khan has 3 posts and counting.See all posts by muhammad-arsallah-khan