عمران خان اور سیاسی جماعتیں‎

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان کو جب نوے کی دہائی کے آغاز میں سیاست کے میدان میں اتارنے کی تیاری کی جا رہی تھی حبیب لبیب جناب ضیغم خان اس ابھرتی ہوئی سیاسی شخصیت کا انٹرویو کرنے کے لیے لاہور تشریف لائے۔ وہ اس وقت انگریزی ماہنامے ہیرالڈ کے لیے کام کرتے تھے اور سیاستدان کی حیثیت سے یہ عمران خان کا پہلا بڑا انٹرویو تھا۔ ضیغم خان کے قیام کے دوران میں روزانہ رات گئے تک عمران خان کے ممکنہ سیاسی کردار پر گفتگو ہوتی۔ میرا اصرار تھا کہ جہالت اور تکبر سے گندھی یہ شخصیت سیاست کے لیے انتہائی ناموزوں ہے اور کرپشن کے خلاف ان کے نظریات خواہ وہ کتنے ہی حقیقی اور دلربا کیوں نہ لگیں پاکستان کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کا سبب تو بن سکتے ہیں ان کو حل کرنے کا ذریعہ نہیں۔ ہمارے چند دوستوں کو ان شخصیات پر بھی اعتراض تھا جنہوں نے عمران خان کو سیاست کی راہ دکھائی تھی۔ یہاں میری مراد 1988 میں پیپلزپارٹی کے خلاف بننے والے اسلامی جمہوری اتحاد کے خالق حمید گل مرحوم سے ہے۔

عمران خان بہر طور سیاست میں آگئے۔ ابتدائی چند انتخابات میں ناکامیوں کا سامنا کرنے کے بعد 2018 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد وہ پہلی مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بنے اور جس عہدے پر وہ آج کی تاریخ تک متمکن و سرفراز ہیں۔۔۔  سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوکر ان کی حکومت تحلیل کرنے کے لئے آج کل جدوجہد کر رہی ہیں۔ اور غالبا یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ فوج کے حاضر سروس جرنیلوں کا نام لے کر ان پر عمران خان کی پشت پناہی کا الزام بھی لگ رہا ہے۔

آپ کو یاد ہوگا کہ 2017 سے لے کر 2018 کے انتخابات تک جس طرح الیکٹیبلز جوق درجوق تحریک انصاف کی جانب ہانک دیئے گئے تھے اور عین انتخابات کے دن نتائج کے اعلان میں جو تاخیر ہوئی تھی ان سب کا الزام بھی براہ راست فوج پر لگ چکا ہے۔ ہر گھڑی تیار اور کامران آئی ایس پی آر آج کی تاریخ تک ان الزامات کے جواب میں خاموش ہے۔ فوج کے چند سابق اہلکاروں کے نام بھی متعدد بار لیے جا چکے ہیں۔ تحریک انصاف کی مقبولیت میں بے پناہ اضافے کا سبب بننے والا 2011 میں مینار پاکستان پر منعقد ہونے والے جلسے میں عوام کی بڑی تعداد کی شمولیت کا سہرا بھی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ شجاع پاشا کے سر باندھا جاتا ہے۔ اس سب کے بعد بھی تحریک انصاف کی حکومت اپنے پہلے ڈھائی سال مکمل کر چکی ہے۔ ان برسوں میں کئے گئے وعدوں کی تکمیل تو ایک طرف رہی ملک ہر میدان میں ایک ناکام ریاست کا منظر پیش کر رہا ہے۔ کوئی سیاستدان یا تجزیہ نگار حکومت کی ناکامی پر جو بھی تبصرہ کرے اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن عمران خان اگر خود ناکامی کا اعتراف کریں تو حکومت کی ناکامی پر بحث کرنا پھر لاحاصل ٹھہرتا ہے۔

اب سیاسی جماعتیں پھر میدان میں ہیں۔ وبا کے موسم کا خیال کئے بغیر عوام کو جلسے اور جلوسوں میں شرکت کی دعوت دی جا رہی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں عوام کی شرکت اگرچہ بہت بڑی نہیں تھی تاہم مایوس کن بھی ہرگز نہیں تھی۔

اب تک کی تمام کوشش میں سیاسی جماعتوں کا اصرار دو باتوں پر ہے۔

1. عمران خان فوج کی حمایت سے برسراقتدار آئے ہیں۔ فوج ان کی حمایت سے اگر دستبردار ہو جائے تو یہ حکومت چند دنوں کی مہمان ہو گی۔ پرانی سیاسی جماعتیں دوبارہ انتخابات کے ذریعے حکومت میں آکر حالات بہتر کر دیں گی۔

2۔ عمران خان ایک نااہل اور ناکام سربراہ حکومت ہیں۔ ان کی ٹیم کارکردگی اور تجربے کے اعتبار سے ناقص ہے اور کار حکومت چلانے کی صلاحیت ان میں مفقود ہے۔

سیاسی جماعتوں کے اٹھائے گئے دوسرے نکتے پر تو بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس حکومت کی ناکامی ہمارے سامنے ہے۔ عمران خان بذات خود سیکھنے کی صلاحیت سے عاری انسان ہیں اور یہ بات کسی سیاسی کارکن کے تجزیہ کے طور پر نہیں نفسیات کے ایک طالب علم کی حیثیت سے عرض کر رہا ہوں۔ ان کے بارے میں اس خاکسار کی یہ رائے اس دن سے ہے جب سے ان کو کارزار سیاست میں دھکیلنے کی گفتگو شروع ہوئی تھی۔ ان کی ہر گفتگو کلیشے سے شروع ہوکر کلیشے پر ختم ہوتی ہے۔ وہ کسی بھی معاملے کو گہرائی سے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ قائداعظم، ذوالفقار علی بھٹو، اور بے نظیر کے برعکس ان کا مطالعہ ناقص حد تک محدود ہے۔ ان کی ہر گفتگو کرکٹ ورلڈ کپ، شوکت خانم اسپتال اور یونیورسٹی بنانے میں کامیابیوں یا سیاسی مخالفین کے خلاف دشنام پر مبنی ہوتی ہے۔ اس دشنام طرازی میں استعمال ہونے والے الفاظ اور اسلوب اخلاقی طور پر نچلی سطح کا ہوتا ہے۔ اپنی حکومت کے موجودہ بحرانی دور میں بھی آپ ان سے کوئی مختلف اور نیا طرز عمل تو درکنار نیا طرز بیان اور نئے الفاظ بھی نہیں سن پائیں گے۔

لیکن کیا عمران خان کی مقبولیت کا انحصار سراسر فوج کی پشت پناہی پر ہے (سیاسی جماعتوں کا اٹھایا گیا پہلا نکتہ) آپ کو یاد ہوگا کہ 2018 سے پہلے کے انتخابات میں ناکامی کے باوجود بھی ان کے جلسوں میں عوام کی ایک بڑی تعداد شریک ہوتی تھی۔ کسی سیاسی لیڈر کی عوام میں مقبولیت اور انتخابات میں کامیابی دو مختلف مظاہر ہیں اور ان کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ گو انتخابات ہار چکے ہیں مگر انہوں نے دو ہزار سولہ کی نسبت 2020 میں زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ کیا ووٹرز کی اس اضافی تعداد کو ان کی مقبولیت میں اضافہ نہیں سمجھا جانا چاہئے؟ مگر یہ اضافہ انہیں انتخابات نہیں جتوا سکا۔ اسی لئے عرض کر رہا ہوں کہ سیاسی راہنما کی مقبولیت اور انتخابات میں اس کی کامیابی دو مختلف چیزیں ہیں۔ نفسیات کے طالب علم کی حیثیت سے عمران خان کے بارے میں اپنی رائے عرض کر چکا لیکن کیا اس سے میرے لیے یہ ممکن ہوگا کہ میں ان کی عوامی مقبولیت کا انکار کر دوں؟ یہ یقیناً ممکن نہیں ہے۔

سیاسی جماعتوں کی اپنی مصلحتیں، مفادات اور بیانیے ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کے لیے شاید یہ ضروری ہو کہ وہ عمران خان کی مقبولیت کا سارا کریڈٹ فوج کے کھاتے میں ڈال دیں لیکن یہ ایک ناقابل قبول سیاسی پوزیشن ہے۔ میں نے پہلی مرتبہ “غیر سیاسی” لوگوں کو عمران خان کے لیے جذباتی ہوتے دیکھا ہے۔ گالیاں دیتے، لڑتے، اپنے قریبی احباب سے قطع تعلق کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کہیں کہ اس سے قبل عوام کا یہی رویہ ذوالفقارعلی بھٹو کی جانب بھی تھا۔ مگر یہاں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو سے یہ محبت سیاسی کارکنوں، دانشوروں، جمہوریت پر یقین رکھنے والوں اور آمریت کے خلاف جدوجہد کرنے والوں سے مخصوص تھی۔ بھٹو کے لیے کوڑے کھانے والوں، قید کی صعوبتیں برداشت کرنے والوں، پھانسی چڑھ جانے والوں اور نوکریوں سے ہاتھ دھونے والوں کی فہرست اٹھا کر دیکھئے یہ سب سیاسی طور پر انتہائی باشعور افراد تھے۔ عمران خان کی مقبولیت اس کے بالکل برعکس سیاست، سیاسی عمل اور سماجی حرکیات سے ناواقف افراد تک محدود ہے۔ شاید یہی سبب ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو سے محبت کرنے والے سیاسی کارکنوں جیسے لوگ آج بھی ان کی جماعت میں نہیں ہیں۔ وہ چند ایک (مثلا معراج محمد خان) جو تحریک انصاف میں گئے بھی، وہاں رک نہ سکے۔

سوال پھر وہی ہے کہ عمران خان کی مقبولیت کا راز کیا ہے اس خاکسار کی رائے میں عمران خان کی مقبولیت کے اسباب اور جواز پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے فراہم کیے ہیں۔

مجھے معلوم ہے ایک مرتبہ پھر مجھے یاد دلایا جائے گا۔ ماضی کے واقعات دہرائے جائیں گے کہ کس طرح فوج نے کس وقت کیا کیا تھا۔ مجھے یاد دلایا جائے گا کہ ضیا الحق کے مارشل لا کے بعد بینظیر بھٹو کو پہلی بار کن شرائط پر حکومت ملی تھی۔ آئی جے آئی کس نے بنوائی تھی۔ . اسلم بیگ اور غلام اسحاق خان نے کیا کیا تھا. 80 کی دہائی میں بین الاقوامی حالات کیا تھے۔ خاص طور پر افغانستان میں کیا ہو رہا تھا۔ خطے میں امریکی دلچسپیوں کے محور کون سے امور تھے۔

یہ سارے حقائق تسلیم۔ لیکن ان سارے تجربات سے نتیجہ نکالنے، سبق سیکھنے، نئے راستے نکالنے اور نیا لائحہ عمل ترتیب دینے کی ذمہ داری کس کی تھی؟ صرف اور صرف پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی۔ بین الاقوامی طاقتوں اور پاکستانی فوج کی ملی بھگت سے پاکستان کا سیاسی منظرنامہ تشکیل پاتا ہے یہ حقیقت سڑک پر کیلے بیچنے والے کو بھی معلوم ہے چہ جائیکہ اقتدار کی غلام گردشوں میں مٹرگشت کرنے والے سیاستدان۔ لیکن اس صورت حال میں ملک کے سیاسی ارتقا کے لیے راستہ نکالنے کی ذمہ داری بھی سیاستدانوں پر ہی عائد ہوتی ہے نہ کہ ایک پھل فروش پر۔

ایسی صورتحال میں عموما سیاستدان یا تو مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں (جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے کیا) یا پھر پہلے سے مختلف راستہ نکالتے ہیں. ناکام حکمت عملی کو چھوڑ کر نئی صورتحال پیدا کرتے ہیں (جیسا کہ میثاق جمہوریت کے ذریعے کرنے کی کوشش کی گئی جسے خود سیاسی جماعتوں نے فقیدالمثال ناکامی سے ہمکنار کیا)۔ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر کہیے کیا گذشتہ تیس برسوں میں سیاسی جماعتوں نے ان دونوں میں سے کوئی بھی ایسا کام کامیابی سے کیا ہو جس سے عوام واقف رہے ہوں۔ عوام نہ تو پس پردہ ہونے والی سیاسی چالوں سے واقف ہوتے ہیں اور نہ انہیں اس سے کوئی سروکار ہوتا ہے۔ عوام کی رائے سیاستدانوں کی بصیرت، حالات کی درست نباضی اور اس کی روشنی میں مستقل طرز عمل اختیار کرنے سے تشکیل پاتی ہے۔

عوام اس سیاستدان سے جڑ جاتے ہیں جو چاہے کتنا ہی کودن کیوں نہ ہو مگر ان کے مسائل کو چاہے غلط ہی سہی مگر نام دے سکے۔ مسائل کو عوام کے لیے شناخت کرسکے۔ ان کے مسائل کی وجوہات ڈھونڈ کر انہیں قابل ابلاغ طریقے سے بتا سکے۔ مسائل کے ذمہ داروں کے نام گنوا سکے۔ غلط ہی سہی مگر عوام کے لیے سادہ الفاظ میں ان کے مسائل کی ایک ممکنہ اور قابل قبول تشخیص کر سکے۔ درست مگر دور افتادہ اور ناقابل تفہیم تشریحات کرنے والے سیاست میں عموما ناکام رہتے ہیں۔ عوام کے لئے سادہ اور قابل فہم تشریحات زیادہ قابل قبول ہوتی ہیں۔ برطانیہ کے جیرمی کوربن اور امریکہ کے برنی سینڈرز لاکھ درست ہوں مگر ناکام رہتے ہیں۔ ان کی ناکامی کا سارا ملبہ کارپوریٹ سیکٹر اور کارپوریٹ میڈیا پر ڈالنا ایک معقول تجزیہ کے لئے شاید درست نہ ہو۔ مقبول سیاست دان عوام کی مایوسی اور غصے کو سمجھتے ہیں۔ شعوری یا لاشعوری طور پر امریکہ کے ڈونلڈ ٹرمپ، ہندوستان کے نریندر مودی برطانیہ کے بورس جانسن اور پاکستان کے عمران خان نے اس مایوسی اور غصے کو سمجھا، اس کو نام اور سمت دی ہے۔

یہ بات مانی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں عوام کی مایوسی اور غصے کا سبب شاید سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کی بجائے بدنظمی پر مبنی یہ نظام رہا ہو جو یہاں کئی دہائیوں سے رائج ہے۔ مگر اس صورتحال میں سیاسی قائدین نے کیا اس بات کا جائزہ لیا کہ عوام میں جمع ہوتی مایوسی اور غصہ کیا رنگ دکھائے گا۔ یہ کس طرح صورت پذیر ہوگا۔ اس کے بارے میں عوامی تشریحات کس طرح تشکیل پائیں گی اور یہ غصہ کس وقت اور کس کے خلاف نکلے گا۔

گزشتہ تیس برس میں سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے سے عوام اور ان کی تشکیل پاتی ذہنی حالت یکسر غائب ہے۔ ایسی صورتحال میں عمران خان آتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ عوام کی خراب صورت حال کی ذمہ دار کرپٹ سیاسی اشرافیہ ہے۔ یہاں ان کی مراد ضیا الحق کے بعد معرض وجود میں آنے والی وہ سیاسی اشرافیہ ہے جو عوام سے دوری، سیاسی جوڑ توڑ اور مالی بے قاعدگیوں جیسے عنوانات سے پہچانی جاتی ہے۔ عمران خان کی سیاسی اشرافیہ کے بارے میں اس سادہ تشریح نے عوام کے دل میں گھر کر لیا۔ غلط یا صحیح کی بحث کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھیے… لیکن کیا سیاسی اشرافیہ نے ایک دوسرے کے خلاف لگائے گئے الزامات اور بنائے گئے مقدمات سے عمران خان کی بات کو سچ ثابت نہیں کیا؟

بے نظیر بھٹو اور نوازشریف کیا فوج اور بین الاقوامی سیاست کی ترجیحات سے ناواقف تھے؟ خطے میں کیا ہو رہا تھا؟ بین الاقوامی سیاست پاکستان سے کیا چاہ رہی تھی سیاسی جماعت اور ان کے قائدین ان سب سے کیا بے خبر تھے؟ طالبان کو منظم کرتے وقت سیاسی قیادت کیا اس کے دور رس اثرات سے ناواقف تھی؟ کیا سیاسی قیادت طالبان کے پیچھے موجود ہاتھوں کی نشاندہی کرنے کے بجائے ان سے اپنے جلسوں پر حملہ نہ کرنے کی اپیل نہیں کر رہی تھی؟ بے نظیر بھٹو سمیت کس سیاستدان نے طالبان کے ہاتھوں 80 ہزار معصوم شہریوں کی شہادت کی وجہ بتائی؟ کس نے پاکستان کی سڑکوں اور گلیوں میں خون کی ارزانی کا نوحہ لکھا اوراس خون میں لتھڑے ہوئے ہاتھوں کو بے نقاب کیا؟ غلط یا صحیح، یہ عمران خان تھے جنہوں نے کہا کہ ان حملوں کے پیچھے امریکہ اور پاکستانی فوج کی حکمت عملی ہے۔

اب آپ لکھتے رہیں کہ یہ بات غلط تھی۔ لاکھ شور مچائیں کہ عمران خان پشاور میں سکول پر ہونے والے حملے کے بعد یکایک چپ کیوں ہو گئے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ڈرون حملوں کے خلاف بولنے والے وہ واحد مقبول سیاستدان تھے۔ وہ اس وقت بول رہے تھے جب سب خاموش تھے۔ خاموشی میں غلط سے غلط اور مدھم سے مدھم آواز بھی سنی جاتی ہے۔ جب ساری سیاسی جماعتیں منہ میں دہی جمائے بیٹھی تھیں۔ غلط ہی سہی۔ کسی کے اشارے پر ہی سہی۔ صرف عمران خان تھے جو بول رہے تھے۔ اپنے اس طرز عمل سے سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین نے جو پبلک سپیس Public Space پیدا کی اس کو عمران خان نے اپنی سادہ، سطحی مگر قابل ابلاغ تشریحات سے پر کر دیا۔ یہ تشریحات عوام کے لئے قابل فہم تھیں اور یہی تشریحات ان کی عوام میں ان کی مقبولیت کا سبب بنی ہیں۔ فوج عمران خان کو اقتدار میں لانے کی ذمہ دار ہو سکتی ہے ان کی کلی مقبولیت کی نہیں۔

 سیاسی جماعتوں نے ایک اور غلطی تین نئے پیدا ہونے والے طبقات کو نظر انداز کرکے کی۔ دیہاتوں سے شہروں میں منتقل ہونے والے افراد، آبادی میں بڑھتا ہوا نوجوانوں کا تناسب اور بیرون ملک رہنے والے پاکستانی، یہ تین طبقات عمران خان کی ابتدائی مقبولیت کا ذریعہ ثابت ہوئے۔ یہ طبقات مسائل سے نسبتاً بہتر آگاہ ہوتے ہیں۔ ان پر چاہے سطحی ہی سہی مگر رائے رکھنا چاہتے ہیں۔ اخبار پڑھتے ہیں، خبریں سنتے ہیں، اور سب سے اہم بات یہ طبقے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں لہذٰا دوسروں پر اثر انداز ہونے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔ دیگر سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا پر اپنے قائم کردہ مراکز سے وہ نتائج حاصل نہ کر سکیں جو عمران خان نے بغیر پیسے خرچ کیے سوشل میڈیا کے ذریعے حاصل کر لیے۔

کیا عمران خان کی مقبولیت ملک اور پاکستانی معاشرے کے لیے دور رس مثبت نتائج پیدا کرے گی؟ اس کا جواب یقینا نفی میں ہے۔ کیا سیاسی جماعتیں موجودہ فکری دیوالیہ پن کے ساتھ عمران خان کی مقبولیت میں خاطر خواہ کمی لا سکیں گی؟ اس کا جواب بھی یقیناً نفی میں ہے۔

سیاسی جوڑ توڑ فوج کے ساتھ پس پردہ ساز باز کے ذریعے حکومت میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ انتخابات میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ الطاف حسین کی طرح عمران خان کو منظر سے غائب بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسا کرنے سے عمران خان کی حمایت کرنے والے افراد کو سیاسی طور پر یتیم تو کیا جا سکتا ہے ہے عمران خان سے متاثر اور ان کے سطحی بیانیے کے نتیجے میں تشکیل پانے والے ذہن کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور سانحہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے پاس اس مسئلہ کا حل تو ایک طرف رہا اس کا شاید ادراک بھی نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •