پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ پہلا ٹیسٹ میچ: آخری روز ثابت قدم رہنے پر سوشل میڈیا پر پاکستانی مداحوں کی فواد عالم اور محمد رضوان کی تعریف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فواد
Getty Images
اگر آپ کل پاکستان کی پرفارمنس سے دلبرداشتہ ہو کر صبح تین بجے نہیں اٹھ پائے، تو یقیناً میچ کے سکور کارڈ پر ایک نظر آپ کے لیے ایک جھٹکے سے کم نہیں ہو گی۔

یہ احساس پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مداحوں کے لیے کچھ نیا بھی نہیں ہے، اکثر ایسے ہی کسی میچ کے دوران ٹی وی بند اور آن کرنے کے دوران انہونیاں ہو چکی ہوتی ہیں، شکست کے دہانے سے میچ میں فتح بھی حاصل کی گئی ہے اور یقینی فتح کو شکست میں بھی بدلا گیا ہے۔

نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 101 رنز سے ہرا دیا ہے، لیکن پاکستان ٹیم نے پورے دن میں 90 اوورز کے کھیل میں سے 85 اوورز تک ہمت نہیں ہاری۔

گو پاکستان یہ میچ ہار گیا، لیکن آخری دن کی کہانی اب شاید ہمت اور عزم کی کہانیوں کے طور پر ایک عرصے تک سنائی جائے گی۔

صرف 4.3 اوورز، مزید 27 گیندیں ڈرا اور شکست کے درمیان موجود تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

‘رانا صاحب، تسی گریٹ او’

’ہارنا ہے ہی تو جارحانہ کھیل کر ہارو، ڈر ڈر کے ہارنے کا کیا فائدہ؟‘

میچ کے تیسرے دن ’پاکستان کی کرکٹ 1980 کی دہائی کی جانب جاتی نظر آئی‘

’مجھے تو کل کے دن بیٹنگ گرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے، کسی سے کوئی امید نہیں’

پاکستان کا دوسری اننگز کا سکور کارڈ کھولیں تو صفر، صفر، 38، نو آپ کا منھ چڑائیں گے۔ پہلی اننگز کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی رہی تھی۔ لیکن ایک نام جس پر آ کر آپ کی نظریں ٹک جائیں گی، وہ فواد عالم کا ہے۔

11 سال کا انتظار

11 سال کا انتظار، خدا جانے میڈیا پر اب تک ان کی کرکٹ ٹیم میں واپسی کے لیے کتنی ہی مرتبہ بات کی جا چکی ہے، یہ سب اور اس میچ میں پاکستان کی صورتحال اور فواد کا پہلی اننگز میں آؤٹ ہونے کا انداز اس 102 رنز کی اننگز کو غیر معمولی بنا دیتا ہے۔

فواد کا کریز پر کھڑا ہونے کا انداز اکثر افراد کو نہیں بھاتا، وہ اسے ان کی بیٹنگ تکنیک میں سقم قرار دیتے رہے ہیں۔ لیکن آج جب فواد وکٹ کی بائیں جانب بولر کی جانب منھ کر کے کھڑے ہوئے، ہر گیند سے پہلے ایک مرتبہ سیدھے بلے سے کھیلنے کا اشارہ کیا، ہر مرتبہ گیند بلاک کرنے کے بعد باآواز بلند ‘نہیں’ کہا، تو یقیناً جنھوں نے انھیں ٹیم میں کھیلنے کا موقع نہیں دیا ان کے لیے سوچنے کا مقام آن پہنچا ہو گا۔

https://twitter.com/ICC/status/1344132897775771650?s=20

11 سال قبل 23 برس کی عمر میں ڈیبیو کرنے والے فواد عالم کا ٹیسٹ ریکارڈ دیکھیں تو یقیناً خاصے سنگدل لوگوں کے بھی دل موم ہو جائیں۔ صرف چھ، ڈیبیو پر سری لنکا کے خلاف اننگز اوپن کرتے ہوئے سنچری اور گذشتہ 17 برسوں سے فرسٹ کلاس کرکٹ میں رنز کے انبار، 56 کی اوسط، 12 ہزار سے زیادہ رنز، 36 سنچریاں۔

ملکی خزانے کو نقصان سے متعلق بدعنوانی کی کہانیاں تو ہم پچھلی دو دہائیوں میں کئی مرتبہ سن چکے ہیں، لیکن فواد عالم کو ٹیم میں نہ کھلانے کی کہانی بھی شاید اتنی ہی سنگین ہے، اور اس سے پاکستان کرکٹ کو بھی شاید اتنا ہی نقصان ہوا ہے۔

نعمان نیاز نے لکھا کہ ‘میں ان سب لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں جنھوں نے فواد عالم کو ٹیم میں شامل نہیں کیا، آپ کو شرم آ رہی ہے؟

یہ صرف ایک سنچری نہیں ہے، اس کے پیچھے موجود معنی بھی دیکھیے، خود اعتمادی، عزم اور ہمت کا مجموعہ۔ فواد یقیناً ردِعمل تو نہیں دے رہے لیکن ‘یہ سوال ضرور پوچھ رہے ہیں کہ مجھے نظر انداز کیوں کیا گیا؟’

اکثر صارفین فواد کی کہانی کو ہمت نہ ہارنے اور امید کے خوبصورت احساس کے بارے میں بات کرتے دکھائی دیے۔ احمر نقوی لکھتے ہیں: ’گذشتہ رات میں سوچ رہا تھا کہ امید کا کیا مطلب ہے اور کیا کچھ چیزوں پر اکتفا کرنے کا کوئی فائدہ ہے۔ فواد عالم نے آج یاد دہانی کروا دی کہ امید ایک ایسی چیز ہے جسے آپ کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔‘

ایک صارف فواد کی صبر آمیز کہانی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ اچھی چیزیں ان کے ساتھ ہوتی ہیں جو اپنے موقع کا انتظار کرتے ہیں۔‘

کرکٹ پر تجزیے اور تبصرے کرنے والی ویب سائٹ کرک وز نے فواد کی اننگز پر تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’فواد عالم نے اس اننگز میں صرف 15 فیصد گیندوں پر جارحانہ انداز اپنایا ہے۔ سنہ 2006 کے بعد سے صرف آٹھ پاکستانی بلے بازوں نے سنچریاں سکور کرتے ہوئے ایسا کیا۔‘

مظہر ارشد نے لکھا ’فواد وہ پہلے بلے باز ہیں جنھوں نے سنچری سکور کی، 10 سال سے زیادہ عرصے تک دوسری سنچری سکور نہیں کی، اور پھر واپس آئے اور ایک اور سنچری سکور کی۔‘

ایک صارف نے انھیں جواب دیتے ہوئے لکھا: ’ایسا ایک ہی ہے۔‘

11 سال قبل آپ کہاں تھے؟

اکثر افراد اس بارے میں سوچتے دکھائی دیے کہ 11 سال قبل ہم اپنی زندگیوں میں کیا کر رہے تھے؟ اس کے جواب میں حسن چیمہ نے ایک فہرست لگائی اور کہا 11 سال قبل سلمان بٹ پاکستان کے کپتان نہیں بنے تھے، سپین نے کبھی فٹبال کا ورلڈ کپ نہیں جیتا تھا، اور اسامہ بن لادن تب زندہ تھے اور شاید ابیٹ آباد میں یہی سوچ رہے تھے کہ ’فادی‘ (فواد عالم) کے ساتھ زیادتی ہوئی۔

صحافی عثمان سمیع الدین نے لکھا کہ 11 سال قبل میں عمر اکمل کے بارے میں یہ لکھ رہا تھا کہ عمر اکمل پاکستان کے لیے اگلے بڑے کھلاڑی بن سکتے ہیں، جبکہ میرے ساتھی فواد عالم کی اس اننگز کے بارے میں لکھ رہے تھے۔‘ آج عمر اکمل فکسنگ الزامات کے باعث پابندی کا شکار ہیں جبکہ فواد عالم کا تذکرہ ہر زبان پر ہے۔

پھر فواد عالم آؤٹ ہو گئے، بالکل ویسے ہی جیسے وہ پہلی اننگز میں ہوئے تھے۔ اس پر پوری رات جاگ کر یہ میچ دیکھنے والے اکثر مداحوں نے مایوسی کا اظہار کیا لیکن کچھ مداحوں نے لکھا کہ فواد کی یہ اننگز بھی ہمارے لیے کافی۔

فواد

Getty Images

رضوان اور نیل ویگنر کی جرات

اس دن کی کہانی بتاتے ہوئے چند کھلاڑیوں کی کہانیاں بتانا ضروری ہے۔ پہلے بات کرتے ہیں اس کھلاڑی کی جس نے نیوزی لینڈ کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا اور وہ ہیں ’پاؤں کی فریکچر ہوئی انگلی‘ کے ساتھ کھیلنے والے نیل ویگنر تھے۔

نیل ویگنر بارہا باؤنسرز کروانے والے بولر مانے جاتے ہیں جو پورا دن بولنگ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ تاہم وہ اس ٹیسٹ میں فریکچر ہوئی پاؤں کی انگلی کے ساتھ بولنگ کرواتے رہے اور آخرکار چار اہم وکٹیں حاصل کیں، جن میں سے سب سے اہم وکٹ فواد عالم کی تھی۔

ویگنر نے میچ کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ ’جب تک یہ مجھے سٹریچر پر اٹھا کر نہ لے جائیں، میں وہ سب کچھ کروں گا جو کر سکتا ہوں۔‘

رضوان اور فواد

Getty Images

ادھر رضوان کی کہانی بھی منفرد ہے۔ گذشتہ برس کے اختتام پر انھوں نے بمشکل قومی ٹیم میں جگہ بنائی تھی، اور اب وہ بابر اعظم کی غیر موجودگی میں ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کر رہے ہیں اور پاکستان کی اس سیریز میں اکلوتی جیت کے ہیرو بھی وہی تھے۔

اس میچ میں بھی انھوں نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا، اور پہلی اننگز میں جہاں پاکستان کی پوری ٹیم ایک معمولی سکور پر ڈھیر ہونے کے خطرے کا شکار تھی وہاں رضوان نے فہیم اشرف کے ساتھ مل کر عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور پاکستان کو اننگز کی شکست سے بچایا۔

رضوان بھی ایک عرصے سے پاکستان کی ٹیم کے ساتھ بطور متبادل وکٹ کیپر موجود رہتے ہیں اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں عمدہ بیٹنگ کرتے رہے ہیں۔

رضوان نے اس اننگز میں بھی فواد عالم کا اچھا ساتھ دیا اور 191 گیندوں پر 61 رنز سکور کیے اور یہ ثابت کیا کہ صبر کا پھل واقعتاً میٹھا ہوتا ہے۔

اس فتح کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ ٹیسٹ میچ رینکنگ میں سرِ فہرست آ گئی ہے، لیکن اس ٹیسٹ کے پانچویں پاکستان بلے بازوں کی ثابت قدمی ایک عرصے تک نہیں بھلائی جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17719 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp