ناصر کاظمی اور سانحہ بنگال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"\"جب شعور نے آنکھ کھولی تو اس وقت ادب میں آئیڈیالوجی اور کمٹمنٹ کا بہت چرچا تھا۔ مگر بہت سے شاعر اور ادیب آئیڈیالوجی کا پرچم اٹھانے سے انکاری تھے۔ اس زمانے میں ناصر کاظمی کے اس فقرے کو بہت شہرت ملی تھی کہ بانسری کو کس آئیڈیالوجی نے جنم دیا تھا۔ تاہم ناصر کا حساس دل اپنے گردو پیش سے بے خبر نہیں تھا۔ منیر احمد شیخ کا کہنا ہے کہ ’ ناصر کاظمی کی شاعری میں اس کا عہد سانس لیتا دکھائی دیتا ہے…. مگر یہ عجیب بات تھی کہ ملک میں بڑے بڑے سیاسی واقعات اور تبدیلیاں رونما ہوئیں مگر ناصر کاظمی نے سیاست کو کبھی موضوع گفتگو نہ بنایا۔ ٹی ہاؤس کی میزپر سیاسی بحثوں میں بڑی گرماگرمی ہو جاتی، جبڑے پھیل جاتے اور مزاج برہم ہو جاتے مگر ایک مرتبہ ایسا نہیں ہوا کہ ناصر کاظمی نے سیاست پر بات کرنی پسند کی ہو…. وہ سیاسی گفتگو کو تضیع اوقات سمجھتاتھا مگر چپکے سے کسی شام ایسی غزل کہہ کے لے آتا تھا کہ سیاسی صورت حال اس کے شعروں میں سانس لے رہی ہوتی۔\”

ناصر کی وفات سے کوئی تین ہفتے پہلے پی ٹی وی نے ان کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا تھا۔ اس میں جب انتظار حسین نے ناصر سے سوال پوچھا کہ آج کل تو ادیب سے سوال یہ کیا جاتا ہے کہ بھئی تمہارا کمٹمنٹ کیا ہے تو ناصر نے جواب دیا: بات یہ ہے کہ یوں تو سوال پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ آج کل تم صحیح کہہ رہے ہو کہ یہ بات خاص طور پر کیا جاتا ہے مگر کمٹمنٹ میں نے اس طرح بعض بیانات کی صورت میں تو شاید بہت کم کیا ہو لیکن میرے کلام میں آپ کو…. میرا تو خیال ہے کہ میں نے جو لفظ لکھا ہے کمٹمنٹ سمجھ کر لکھا ہے۔ پاکستا ن کی پچیس سالہ تاریخ کو آپ دیکھیں اور میرے کلام کو دیکھیں تو ضرور اس میں وہ چیزیں دھڑکتی ہوئی نظر آئیں گی۔

آج سولہ دسمبر کی وہی اداس شام ہے اور میں گھر میں اکیلا ہوں۔ اس لیے فیصلہ کیا کہ یہ دن ناصر کے ساتھ بسر کیا جائے۔ پھر مناسب معلوم ہوا کہ قارئین کے ساتھ بھی ان اشعار کو شئیر کیا جائے جو ناصر نے ہماری تاریخ کے اس خوں چکاں (1971ء) برس میں کہے تھے۔ ان کی اسی سال کی ایک غزل، جس پر مہینہ یا تاریخ درج نہیں مگر ایسے لگتا ہے کہ فروری یا مارچ کے شروع میں لکھی گئی ہے، کا ایک شعر درج کر تا ہوں

یہ خاص و عام کی بے کار گفتگو کب تک\"\"

قبول کیجیے جو فیصلہ عوام کریں

مگر اصحاب غرض کو عوام کا فیصلہ ہی تو قبول نہیں تھا اور وہ اس سے گریز کی راہیں تلاش کر رہے تھے۔

انتظار حسین لکھتے ہیں کہ ” اس کنارے گولی چلی اور اس کنارے ناصر ہسپتال پڑا تھا۔ یہ دونوں واقعے اس طرح آگے پیچھے گزرے ہیں کہ میں انہیں اپنے ذہن میں الگ الگ نہیں کر سکتا“۔ بیماری کی حالت میں بھی شاعر کے قلم سے لہو ٹپک رہا تھا۔ گولیاں چلنے کے بعد اس کی شاعری میں ان دلدوز واقعات کا عکس جھلک رہا ہے۔ اس برس کی غزلوں اور اشعار کو زمانی ترتیب سے پیش کر رہا ہوں۔

 15 اپریل

دھواں سا ہے جو یہ آکاش کے کنارے پر

لگی ہے آگ کہیں رات سے کنارے پر

یہ کالے کوس کی پرہول رات ہے ساتھی

کہیں اماں نہ ملے گی تجھے کنارے پر

صدائیں آتی ہیں اجڑے ہوئے جزیروں سے

کہ آج رات نہ کوئی رہے کنارے پر

یہاں تک آئے ہیں چھینٹے لہو کی بارش کے

وہ رن پڑا ہے کہیں دوسرے کنارے پر

یہ ڈھونڈتا ہے کسے چاند سبز جھیلوں میں

پکارتی ہے ہوا اب کسے کنارے پر

اس انقلاب کی شاید خبر نہ تھی ان کو

جو ناؤ باندھ کے سوتے رہے کنارے پر\"\"

ہیں گھات میں ابھی کچھ قافلے لٹیروں کے

ابھی جمائے رہو مورچے کنارے پر

بچھڑ گئے تھے جو طوفاں کی رات میں ناصر

سنا ہے ان میں سے کچھ آ ملے کنارے پر

اس غزل کے پندرہ دن بعد ناصر نے وہ مشہور غزل لکھی جو دیوان کی آخری غزل ہے

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے

وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے

وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں

جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے

میں ان کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر

وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے

عمارتیں تو جل کے راکھ ہو گئیں

عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے

یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا

زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے\"\"

پانچویں مہینے میں ایک ہی تاریخ کی یہ دو غزلیںملاحظہ کیجیے

22 مئی

جنت ماہی گیروں کی

ٹھنڈی رات جزیروں کی

سبز سنہرے کھیتوں پر

پھواریں سرخ لکیروں کی

اس بستی سے آتی ہیں

آوازیں زنجیروں کی

مجھ سے باتیںکرتی ہے

خاموشی تصویروں کی

۔۔۔۔۔۔

دیس سبز جھیلوں کا\"\"

یہ سفر ہے میلوں کا

راہ میں جزیروں کی

سلسلہ ہے ٹیلوں کا

کشتیوں کی لاشوں پر

جھمگھٹا ہے چیلوں کا

رنگ اڑتا جاتا ہے

شہر کی فصیلوں کا

دیکھ کر چلو ناصر

دشت ہے یہ فیلوں کا

20 جون

کب تک بیٹھے ہاتھ ملیں

چل ساتھی کہیں اور چلیں

اب کس گھاٹ پہ باندھیں ناؤ

اب یہ طوفاں کیسے ٹلیں

اب یہ مانگیں کون بھرے

اب یہ پودے کیسے پھلیں

تجھ کو چین ملے ناصر

تیرے دکھ گیتوں میں ڈھلیں

 اور 5ستمبر کی یہ غزل جو شاید اس کی زندگی کی آخری غزل ہے:

رات ڈھل رہی ہے\"\"

ناؤچل رہی ہے

لوگ سو رہے ہیں

رت بدل رہی ہے

آج تو یہ دھرتی

خوں اگل رہی ہے

خواہشوں کی ڈالی

ہاتھ مل رہی ہے

جاہلوں کی کھیتی

پھول پھل رہی ہے

انتظار حسین نے ناصر کاظمی کے بارے میں کیا خوبصورت بات کہی ہے کہ اس نے اپنے عہد کواداس ہونے کے آداب سکھائے۔ آج میں بھی ناصر کی شاعری پڑھ کر اداس ہونے کے آداب سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ تاہم ناصر کاظمی کی آواز میں یہ شعر بھی سنائی دے رہا ہے:

وقت اچھا بھی آئے گا ناصر

غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply