ڈھاکہ والوں کی کچھ بھالو یادیں


\"\"آج پینتالیس سال ہو گئے۔ دسمبر کا مہینہ ہر بار ایک عجیب اداسی سے دو چار کر دیتا ہے۔ ایک ایسی اداسی جس کے بے ذائقہ پن کو ٹھیک ٹھیک بیان کرنا میرے لئے ممکن ہی نہیں۔ کہتے ہیں دوست کے مر جانے سے زندہ دوست کی زندگی کا ایک حصہ بھی مر جاتا ہے۔ بات تو صحیح ہے، مگر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ زندہ رہ جانے والوں کی بے بسی اس گھڑی اور دیدنی ہوتی ہے جب جانے والا غم و اندوہ کا ترکہ تو چھوڑ جائے، لیکن جس صدمہ کو اس کی جدائی نے جنم دیا ہے وہ پیچھے رہ جانے والوں کے لئے ٹرمینل بیماری جیسا طے شدہ صدمہ ہو۔ یہ اس لئے کہ تقسیم کے بعد حیدرآباد، سندھ میں آ بسنے والے قابل اجمیری کے الفاظ میں: وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا دسمبر 1971ء کا واقعہ کیوں رونما ہوا؟ اس موضوع پر جو بھی حقائق سامنے آئے، ان سے ہماری غیر حقیقت پسندانہ فوجی حکمت عملی سے لے کر اکثریتی رائے کو تسلیم نہ کرنے کے رویوں تک کئی نیم روشن اسباب پر نظر پڑتی ہے۔ پھر بھی کیا ان عسکری تجزیوں، صحافیانہ مطالعوں اور سوانحی تحریروں سے ان حقائق کی پوری تصویر سمجھ میں آتی ہے جو تار یخ اور جغرافیہ کا رخ پھیر دینے والے ایک ہمہ گیر سقوط پر منتج ہوئے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ صرف جزوی سچائیاں ہیں جن کا دفاع کرتے رہنے میں ہمارا یا ہم میں سے کچھ لوگوں کا کوئی مادی یا نفسیاتی مفاد پوشیدہ ہے؟ اس آخری سوال کا جواب دینے کے لئے اس نسل کو جو عمر کے لحاظ سے سرکاری طور پر بزرگی کا رتبہ حاصل کر چکی ہے، جعلی تمکنت کا لبادہ چاک کر کے اپنی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنا پڑے گا:

پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

ذاتی بات کروں تو یہ جعلی تمکنت سے زیادہ مصنوعی اطمینان کا کیس لگتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ تینتالیس سال پہلے آبائی شہر سیالکوٹ کے جناح اسلامیہ کالج کا ایک ہونہار ٹائپ طالب علم بی اے کا امتحان دے کر رزلٹ کے انتظار میں والدین کے پاس واہ چھاؤنی میں چھٹی گزار رہا ہے، جہاں اس کے ابا اسلحہ ساز کارخانے میں ایک درمیانے سے انتظامی منصب پہ فائز ہیں۔ ا بھی معاشرہ ’بیکورڈ ‘ ہے اور پنجاب \"\"یونیورسٹی میں ممتحنوں کے پیچھے بھاگنے کا رواج عام نہیں ہوا۔ اس لئے فارغ اوقات میں راولپنڈی صدر سے دو دو روپے میں خریدے گئے پیپر بیک ناول اور آرڈنینس کلب لائبریری سے حاصل کی گئیں ’ نقوش ‘ والے محمد طفیل کی کتابیں (آپ، جناب، صاحب، محترم اور مکرم ) ایک ایک کر کے ذوق مطالعہ کی تسکین کا سامان فراہم کر رہی ہیں۔ پسندیدہ ادبی شخصیات کے خاکے، تحریر کا بولتا ہوا لہجہ، اچھے کاغذ پہ صاف ستھری چھپائی، یہ سب ہے تو چسکے دار۔ پر جسم و جاں کی کیفیت یوں ہے جیسے کیف و نشاط اور درد و کرب کی لہریں ساتھ ساتھ چل رہی ہوں۔ وجہ یہ کہ رات کو پہلے پہل براؤن آؤٹ، پھر مسلسل بلیک آوٹ۔ مشرقی محاذ کے نواح میں متعین غیر ملکی نامہ نگار صوبہ بدر، مصدقہ اور نیم مصدقہ ذرائع سے ملنے والی خبروں کا تضاد، افواہیں اور قیاس آرائیاں۔ آخر ہم کس کی جنگ لڑ رہے ہیں؟ ہمارے گھر والوں نے بی بی سی ریڈیو لگانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے، لیکن میں اور میرا بھائی بچ بچا کر اردو سروس باقاعدگی سے سن رہے ہیں۔ شائد ہمارے یقین میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ اس لئے ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والا سچ کچھ سمجھ میں آتا ہے، کچھ نہیں آتا۔

اسی حال میں ایک شام نیوز ریڈر شکیل احمد کی آواز گونجتی ہے، مگر روائتی گھن گرج کے بغیر ’’ ملک کے مشرقی محاذ پر لڑائی بند ہو گئی ہے اور بھارت کی فوجیں ڈھاکہ شہر میں داخل ہو گئی ہیں‘‘۔ اس مرحلہ پہ پہنچ کر میری ڈائری کے اندراجات ختم ہو جاتے ہیں۔ البتہ حافظے کے البم میں جنگ سے پہلے اور بعد کی کچھ تصویروں کے خدوخال ابھی مدہم نہیں ہوئے۔ سب سے پہلے بچپن کا ایک گروپ فوٹو، جس میں تین بھائیوں کے سانولی رنگت والے چہرے ہیں، مگر بلا کے ہنس مکھ۔ نام ہیں شاہ جہاں، غیاث اور معظم۔ دونوں چھوٹے بھائیوں کو، جو کرکٹ کے اچھے کھلاڑی ہیں، ہم واہ چھاؤنی کے پرائمری اسکول نمبر5 کے ساتھی بالترتیب ’ گیا ‘ اور ’ موجو ‘ کہہ کر بلاتے ہیں، لیکن بڑا بھائی رعب دار شخصیت کا مالک ہے، اس کے ساتھ کوئی فری ہونے کی جرات نہیں کرتا۔ یادوں کے اسی صفحہ پر ہمارے ہائی اسکول کے ہم جماعت سعید فٹ بالیا کی مسکراتی ہوئی شبیہہ بھی ہے۔ پھر ایک بے نام سے باریش بڑے میاں دکھائی دیتے ہیں، شکل مولانا بھاشانی سے ملتی جلتی ہے۔ جب بھی ہمیں کھیل کود میں مشغول دیکھتے ہیں تو دونوں ہاتھ خوشی سے فضا میں بلند کر کے بنگالی زبان میں ’ بھالو ‘ کا نعرہ ضرور لگاتے ہیں۔ اس لفظ میں ’ لو ‘ کی آواز ’ کو ‘ کے وزن پہ ہے اور ’ راضی خوشی ‘ کے معنی دیتی ہے۔ پھر ہم کہتے ہیں ’کوتو واڑی؟‘ جواب ملتا ہے ’واڑی سولہ ایریا‘۔ٖ

واہ چھاؤنی ہی میں سول انجینئرنگ والے عالم صاحب ہیں، درازقد، دھوپ کا چشمہ لگائے ہوئے، جن سے جمعہ کی نماز سے واپسی پر \"\"  ملاقات ہوتی ہے اور وہ مسلسل گپ لگاتے ہوئے چنار روڈ تک ہمارے ساتھ واپس آیا کر تے ہیں۔ وہی چنار روڈ جس کے ایک سرے پہ ہر دلعزیز ہیڈ ماسٹر ’پوپٹ صاحب ‘ والا اسکول ہے۔ پانچ سال پہلے کینیڈا سے ایک دوست کی معرفت عالم صاحب کا سلام ملا تو طبیعت ہری ہو گئی۔ یہ نہ سمجھیں کہ میرے اس البم میں ساری تصویریں صرف ہنستے کھلکھلاتے چہروں کی ہیں۔ ایسا نہیں، بلکہ اگر آپ مجھے وطن دشمنی کا طعنہ نہ دیں تو بتاتا چلوں کہ مشرقی بازو کے میرے اس وقت کے بہت سے ہم قوم ایسے ہیں جو عارضی طور پر مغربی پاکستان میں وارد ہوئے اور ہمارے شاوینزم کا شکار بنے۔ میں اوروں کی بات نہیں کرتا، لیکن اپنے ہی گھر میں ایک فوجی بزرگ سے یہ حقیقی یا فرضی قصہ قہقہوں کی گونج میں سن چکا ہوں کہ کس طرح پاکستان بننے کے ایک سال بعد ان کے کورس میں شامل بنگالی کیڈٹ کاکول کی سردی سے گھبرا کر پی ایم اے سے بھاگ گئے تھے۔ برسوں بعد 1960 ء کی دہائی کے آخر میں مسٹر لطف الکبیر تو مجھے کبھی نہیں بھولیں گے جو ڈھاکہ کے نواح میں قائم پاکستان آرڈنینس فیکٹری، غازی پور کے ویلفیئر آفیسر کے طور پر ٹریننگ حاصل کرنے کے لئے واہ میں مقیم تھے۔ چائے پر آئے تو انہوں نے ہمارے سرکاری گھر، برتنوں اور صوفہ سیٹ کو ایک پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ غور سے دیکھا اور ہم لوگوں کا رویہ بھی خوامخواہ سرپرستانہ سا ہو گیا تھا۔ اسی طرح ابا نے ایک دفعہ اپنے ایک سینئر افسر کی غیرموجودگی میں یہ کہہ کر ان کے پس منظر کا ’ توا ‘ لگانے کی کوشش کی تھی کہ عبدالقادر مشرقی پاکستان کے ایک ایسے گاؤں کا رہنے والا ہے جہاں ڈاک خانہ بھی نہیں۔ انہیں یاد نہ رہا کہ سیالکوٹ کے جس گاؤں میں خود پیدا ہوئے، وہاں آج بھی پوسٹ آفس نہیں۔ یوں بھی انسان کی بڑائی کا دارومدار کیا ڈاکخانے کی قربت پہ ہوا کرتا ہے؟

حافظے کے اسی البم میں ہمارا نیو ہاسٹل، گورنمنٹ کالج کا ساتھی محمد دیان بھی ہے، جس کے بارے میں اب صرف اتنا یاد ہے کہ اس کے \"\"ماں باپ دھان منڈی، ڈھاکہ کی ایلی فینٹ اسٹریٹ میں رہتے تھے۔ وہی دھان منڈی جو شیخ مجیب الرحمان کا مسکن رہی اور جہاں اور بہت کچھ ہوا، تاہم 1972ء کی ابتدا میں جب ہمارا ایم اے کا سیشن شروع ہوا تو ہاسٹل کے محب وطن عناصر اس سلجھی طبیعت والے لڑکے کا باتوں باتوں میں جو حشر کرتے اس کی افادیت کبھی سمجھ میں نہ آ سکی۔ تب تک بنگلہ دیش وجود میں آ چکا تھا، ریڈیو پہ ’ دیو رگڑا، اینھاں نوں دیو رگڑا ‘ قسم کے ولولہ انگیز ترانوں کو چپ لگ چکی تھی، اورجنگ ختم ہو جانے کے بعد بیگم پروین عاطف اور مسز فضل حق جنگی قیدیوں کی واپسی کے لئے تحریک چلانے ہی والی تھیں، مگر زمینی حقائق سے بے نیاز زندہ دلان کا چلن آج بھی وہی ہے کہ اگرچہ ہارتے جائیں، مگر للکارتے جائیں مجھ سے پوچھیں تو بیک وقت ہارنے اور للکارنے کا یہی رویہ سقوط ڈھاکہ کے المیہ کا عنوان قرار پائے گا۔ پنجاب بھر میں 1971 کی لڑائی سے پہلے میں نے ایک ہی شخص کو اس رویہ سے بالاتر دیکھا۔۔۔ ہمارے جناح اسلامیہ کالج، سیالکوٹ کے استاد زمرد ملک مرحوم جنہوں نے ڈھاکہ میں ملٹری ایکشن شروع ہونے کے اگلے دن، 26 مارچ کو تشویش بھرے لہجہ میں ایک اور ہم جماعت کی موجودگی میں مجھ سے کہا تھا ’ اب نکلے گا ہمارا جنازہ اور ہم خود ہی اس کا تماشہ دیکھیں گے۔‘

ایک شام پہلے جب فوجی کارروائی کے آغاز پر ریڈیو پہ جنرل یحیی خان کی تقریر سنی تو میں اور میرا ہم جماعت جمیل کوثر مرے کالج سیالکوٹ میں ایک انٹر کالجئیٹ مشاعرے میں شریک تھے، جس کی کارروائی قوم کے نام صدر کے خطاب کے پیش نظر ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہو ئی۔ اپنے استاد کے منصفانہ موقف کے زیر اثر میں اور میرا یہ ہم جماعت کالج میں علیحدگی پسند کے طور پر حقارت کی نظر سے دیکھے گئے اور ہمارا پینل اسٹوڈنٹس یونین کے علاوہ اکنامکس اور پولیٹیکل سائنس سوسائٹی کے الیکشن بھی ہار گیا۔ بہر حال، جب دسمبر کی ایک سوگوار شام کو اس وقت کے سربراہ مملکت کی ٹی وی پر آخری ’ بے چہرہ ‘ تقریر سنوائی گئی (کسی وجہ سے ان کی شکل نہیں دکھائی گئی تھی) اور بھارتی فوجیں ڈھاکہ شہر میں داخل ہو گئیں تو مجھے دکھ تو بہت ہوا، مگر حیرت دوسروں سے کم ہوئی۔ وجہ یہ کہ ہر بڑی جنگ دو محاذوں پر لڑی جاتی ہے۔ ا یک تو فوجی محاذ جس کے لئے خارجہ پالیسی سے لے کر لاجسٹکس تک خدا جانے کن کن \"\"عوامل کا خیال رکھنا پڑتا ہے، مگر اس سے بڑی لڑائی وہ ہے جو آپ باطن کے اندر مورچہ بند ہو کر لڑتے ہیں اور در اصل اسی پہ آپ کی جیت منحصر ہوتی ہے۔ میں عسکری تجزیہ نگار نہیں۔ پر یہ تو ہے کہ ستمبر 1965 ء کی لڑائی بھی اپنے پیچھے بہت سے سوال چھوڑ گئی تھی، مگر ہم اپنی نظروں میں اس لئے سرخرو ہوئے کہ قوم نے اسے بقا کی جنگ سمجھ کر اپنے باطن کے خوف پہ قابو پا لیا تھا۔ باطن کے خوف پر قابو پانے کی ترکیب دفتری اردو انگریزی پر مبنی سرکاری بیانات سے نہیں ملا کرتی۔ ہاں، ادراکی اور جذباتی دونوں سطحات پر ہمیں پورا یقین ہونا چاہئے کہ ہم حق پہ ہیں، اس لئے ہم ضرور کامیاب ہوں گے۔ لمحہ موجود میں اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے ہمیں سقوط ڈھاکہ کی تاریخ کو ری وزٹ کرنا پڑے گا، کیونکہ اسی میں ماہ دسمبر کی اداسی کے وہ تمام راز پوشیدہ ہیں جن پہ ہمارے تجزیوں نے ابہام کا پردہ ڈال رکھا ہے۔

Facebook Comments HS