الوداع! رسول بخش درس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی سے براستہ ریل جو بھی حیدرآباد گیا ہے اس نے کبھی نا کبھی گاڑی کی کھڑکی سے جھمپر کو ضرور دیکھا ہوگا۔ یہ ایک چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن ہے جہاں اب شاذ و نادر ہی ٹرینیں رکتی ہیں مگر اس کی خوبصورتی پر رتی برابر بھی فرق نہیں پڑا۔

کراچی سے آتے ہوئے ریلوے اسٹیشن سے پہلے مشرق کی طرف کینجھر جھیل کا نیلگوں پانی دور سے چمکتا دکھائی دیتا ہے۔ ریلوے ٹریک سے جھیل تک پھیلے کھجور کے درخت اور کنارے پر واقع قدیم شیو کا مندر ایک طلسمی منظر بنا دیتے ہیں۔

جھمپیر میں ریلوے اسٹیشن سمیت شہر میں بے شمار برگد کے گھنے پیڑ بھی نظر آئیں گے۔ رسول بخش درس بھی اسی شہر کا ایک تناور برگد تھے جس کی شخصیت قداوراور مضبوط تھی جبکہ جڑیں زمین کی گہرائیوں میں تھیں۔

رسول بخش درس

وطن کی مٹی سے جڑے رسول بخش درس کی شخصیت کے گوناگوں پہلو تھے۔ وہ بیک وقت سندھی ادیب، افسانہ نویس، مضمون نگار، قوم پرست رہنما، موسیقی کے دلدادہ اور مہمان نواز تھے۔

وہ کسی کو جانیں یا نا جانیں، مگر جو کوئی ان کی اوطاق پر آیا محبتیں سمیٹ کر گیا۔ رسول بخش درس کو دوستی نبھانا بھی خوب آتا تھا۔ اور وہ دوستوں کا مشکل وقت میں کبھی ساتھ نہیں چھوڑتے تھے۔

رسول بخش درس سندھ دھرتی سے بے پناہ محبت کرنے والے قوم پرست تھے جنہیں اپنے علاقے کوہستان میں ادبی، سماجی اور سیاسی طور پر سب سے منفرد حیثیت حاصل رہی۔

انہوں نے بطور استاد محکمہ تعلیم میں اپنی خدمات سرانجام دیں، ساتھ ہی لکھنے پڑھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ افسانوں کے علاوہ انہوں نے  کوہستان کی مختلف شخصیات پر دو خاکوں کی کتابیں تحریر کیں۔ یہ کردار عام رواجی تھی، جیسے چرواہا، کھوجی اور سازندہ وغیرہ، یہ سارے کردار ان ہی کی طرح مٹی سے جڑے ہوئے تھے۔ جن میں نا مصنوعی بناوٹ تھی اور نا ہی ملاوٹ۔

رسول بخش درس نے بے شمار افسانے لکھے، ان کی کئی کہانیوں پر ڈرامے بھی تشکیل دیے گئے۔ ان کی افسانوں پر مشتمل چار کتابیں شایع ہوئیں۔

رسول بخش درس کو سندھی افسانہ نگاری میں منفرد حیثیت حاصل ہے۔ ان کے افسانوں میں جہاں مایوسی نہیں ملتی وہیں عورت کی تذلیل اور قتل وہ غارت گری بھی نہیں ہوتی۔ رسول بخش درس کی کہانیوں میں ہیروئن کبھی قتل نہیں ہوتی بلکہ زندہ رہتی ہے۔

اپنے افسانوں میں سماج کو جینے کی امنگ اور عورت کو زندگی دینے والا یگانہ ادیب ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بچھڑ گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •