قومی ترانہ
پاک سر زمین شاد باد
بڑے جوش اور جذبے سے پڑھا جاتا ہے۔ لیکن اکثریت اس کا مطلب جانے بغیر ہی اس کو پڑھتی اور سنتی ہے۔ یہ ترانہ بنیادی طور پر ایک دعا ہے جو ہم اپنے وطن، اپنی پاک سر زمین کو دیتے ہیں۔ آئیے آج اس کے پس منظر اور معنی پر بھی غور کریں۔ پاکستان کے ترانے کو تیار ہونے میں سات سال لگے۔ سب سے پہلے اس ترانے کی دھن ”احمد جی چھاگلہ“ نے 21 اگست، 1949 میں ترتیب دی۔ پھر مشہور و معروف شاعر حفیظ جالندھری صاحب نے جون، 1952 میں اس ترانے کو تخلیق کیا۔
اس کے بعد 1954 میں اس وقت کے گیارہ معروف گلوکاروں نے اس ترانے کو گایا۔ جن میں احمد رشدی، کوکب جہاں، رشیدہ بیگم، نجم آرا، نسیمہ شاہین، زوار حسین، اختر عباس، غلام دستگیر، انور ظہیر اور اختر وارث علی شامل ہیں۔ پہلی مرتبہ پاکستان کا یہ قومی ترانہ 13 اگست، 1954 کو ریڈیو پاکستان سے نشر کیا گیا۔ اس ترانے کا دورانیہ ایک منٹ اور 20 سیکنڈ ہے۔ سارا ترانہ فارسی زبان میں ہے، اور اس میں صرف ایک لفظ اردو کا ہے۔ ”پاک سر زمین کا نظام“ اس میں لفظ ”کا“ اردو زبان کا ہے۔
پاک سر زمین شاد باد۔ اے پاک سر زمین تو ہمیشہ شاد اور آباد رہے۔
کشور حسین شاد باد۔ اے ہماری خو بصورت سلطنت، تو ہمیشہ خوش و خرم رہے۔
تو نشان عزم عالیشان۔ تو ہماری بلند ہمتی (عزم) کا نشان ہے۔
ارض پاکستان، مرکز یقین شاد باد۔ اے پاک سر زمین، اے ہمارے یقین اور ایمان کے مرکز، تو ہمیشہ شاد و آباد رہے۔
سر شار اور آباد رہے۔ اے ہمارے حسین و جمیل وطن! خدا کرے کہ تو ہمیشہ خوش و خرم، آباد اور پر رونق رہے۔ اے پاکستان کی زمیں! تیرا وجود ایک نہایت ہی عظیم اور بلند ارادے کی یادگار ہے۔ تو ہمارے ایمان و یقین کا مرکز ہے۔ اللہ کرے کہ تو ہمیشہ خوشیوں سے سرشار اور آباد رہے۔
پاک سر زمین کا نظام، قوت اخوت عوام۔ اس پاک سر زمین کا نظام (نظم و نسق) عوام کی باہمی محبت، بھائی چارے اور قوت کی بدولت ہے۔
قوم ملک سلطنت، پائندہ تابندہ باد۔ خدا کرے کہ ہماری قوم، ملک اور سلطنت ہمیشہ زندہ اور روشن رہے۔
شاد باد منزل مراد۔ اللہ کرے کہ یہ ملک شاد و آباد رہے اور اپنی منزل مراد پا لے، اپنے مقاصد کی تکمیل میں کامیاب ہو۔
اس کی اصل طاقت و قوت ہے۔ اللہ کرے کہ یہ قوم، یہ ملک اور سلطنت ہمیشہ قائم رہے اور رہتی دنیا تک جگمگاتی رہے۔ اے پاک دھرتی تو ہماری تمناؤں اور امیدوں کی آخری منزل ہے۔ اس لئے ہماری دعا ہے کہ اللہ تجھے ہمیشہ خوش و خرم اور آباد رکھے۔
پرچم ستارہ و ہلال، رہبر ترقی و کمال۔ ہمارا یہ چاند اور ستارے والا پرچم، ہماری ترقی اور بلندی کے لئے راہنما ہے۔
ور ہمارے مستقبل کی جان بھی ہے۔
سایۂ خدائے ذوالجلال۔ یہ پرچم ہم پر ہمیشہ اللہ صاحب جلال و عظمت کا سایہ بن کر لہراتا رہے۔
ایک طرف زمانۂ حال میں ہماری شان کو ظاہر کرتا ہے اور یہ پرچم ہمارے مستقبل کی بھی جان ہے۔ اور یہ پرچم اس عظیم مملکت پر ہمیشہ خدائے ذوالجلال کا سایہ بن کر لہراتا رہے گا۔


