قومی ڈائیلاگ اور احتساب


فنکشنل لیگ کے رہنما محمد علی درانی کی مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کے بعد ملک میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری گھما گھمی ایک نیا رخ اختیار کر ہی رہی تھی کہ خواجہ آصف کی گرفتاری اور مولانا فضل الرحمان کو نیب نوٹس نے حالات کو دوبارہ سے اسی جگہ واپس لاکر کھڑا کر دیا ہے۔

سینیئر سیاستدان محمد علی درانی نے شہباز شریف سے ملاقات کے دوران انہیں حکومت اور اپوزیشن میں جاری ٹکراؤ کم کرنے کے لئے قومی ڈائیلاگ پر زور دیا لیکن شہباز شریف نے انہیں سارے فیصلے پارٹی قیادت اور پی ڈی ایم کی قیادت کے سپرد ہونے کا کہہ کر معاملہ زیادہ تر مولانا فضل الرحمان کی حوالے کر دیا۔

حالیہ دنوں میں اس بڑی ملاقات کے بعد اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات حکومت کے کہنے کے بغیر نہیں ہو سکتی اور وہ محمد علی درانی کے ذریعے اپوزیشن سے این آر او لینا چاہتی ہے لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات رکوانے کے لئے وزیراعظم بھی کافی سرگرم تھے اور انہوں نے پنجاب حکومت پر بھی زور دیا کہ یہ ملاقات نہیں ہونی چاہیے لیکن اس کے باوجود یہ ملاقات ہوجانا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ سیاستدانوں کے علاوہ کوئی اور طاقت یا ادارا بھی ملک کو اس حالات سے نکالنے کے لئے قومی ڈائیلاگ پر زور دے رہا ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کے مابین سیاسی ٹکراؤ والی صورتحال کے بعد محمد علی درانی کا اچانک سیاست میں فعال ہوجانا کوئی معمولی بات نہیں، محمد علی درانی نے شہباز شریف سے ملاقات کس کے کہنے پر کی، اب یہ ایسا موضوع ہے جس سے شاید حکومت بھی کافی پریشان نظر نہیں آ رہی ہے۔

وزیراعظم بھی اپنی تقریروں میں بارہا ذکر کر چکے ہیں کہ اگر کرپٹ لوگوں کو این آر او دیا گیا تو یہ ملک کے لئے بہتر نہیں ہوگا، وزیراعظم اپنی تقریروں میں اپنے مخالفین کے بجائے اب اداروں کو کچھ زیادہ ہی مخاطب ہوتے ہیں۔ شاید انہیں بھی اب بال ان کی کورٹ سے نکل کر کہیں اور جاتی دکھائی دے رہی ہے۔

اس وقت اپوزیشن جماعتوں نے کسی قسم کے قومی ڈائیلاگ سے صاف انکار کر دیا ہے اور ان کے مطابق ان کا ہدف پی ٹی آئی کو لانے والوں سے حساب لینا اور عمرانی سرکار کو گھر بھیج کر ملک میں ایک شفاف الیکشن کروانا ہے۔

ایک طرف جہاں میڈیا کے اندر قومی ڈائیلاگ کی باتیں چل رہی ہیں، وہیں قومی احتساب بیورو کی طرف سے اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف احتساب کا شکنجہ بھی مزید سخت کیا جا رہا ہے، نون لیگ کے سینیئر رہنما خواجہ آصف کی گرفتاری اور فضل الرحمٰن کو نیب نوٹس اپوزیشن کو مزید غم وغصے میں مبتلا کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ پی ڈی ایم جماعتوں کے آپس میں اختلاف اور بے اعتمادی کی فضا بھی ان کی تحریک کو کمزور کر رہی ہے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) سے بے دخل مولانا محمد خان شیرانی اور دیگر رہنماؤں کا جے یو آئی پاکستان کے نام سے الگ پارٹی بنا لینا بھی مولانا فضل الرحمٰن کی تحریک کو کمزور کرے گا۔ پیپلز پارٹی کے سی ای سی اجلاس میں رہنماؤں کا مولانا فضل الرحمٰن اور مسلم لیگ نون پر مختلف قسم کے شکوک وشبہات کا اظہار کرنا اس تحریک کے مزید کمزور پہلو کو سامنے لارہا ہے جس کا یقیناً حکومت کو ہی فائدہ پہنچے گا۔

اس وقت کورونا وائرس کی دوسری لہر سے جہاں دنیا بھر میں اس سے بچاؤ کے لئے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں وہیں ہمارے ملک میں اپوزیشن کے احتجاج، جلسے اور حکومتی ناقص پالیسیاں اس وبا کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ بن رہی ہیں، ملکی معاشی صورتحال کی بہتری اور اس وبا سے بچاؤ کے لئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قومی ڈائیلاگ انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔

دنیا کے بڑے سے بڑے مسائل بھی بات چیت کے ذریعے ہی حل ہوتے ہیں لیکن ہمارے یہاں حکومتی وزرا اور ترجمانوں کی اپنے حریفوں کے خلاف سخت بیان بازی اور ان کے اوپر نیب کیسز پر کھل کر بات کرنا ملکی حالات کو مزید خرابی کی طرف لے جا رہے ہیں، سیاستدانوں کے علاوہ مقتدر حلقوں کو بھی اس وقت ملکی بہتری کے لئے آگے آ کر معاملات کو افہام وتفہیم سے سلجھانا ہوگا۔ اگر یہ حالات برقرار رہے تو اس سے آنے والے وقت میں ملک اور جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS