کورونا میں واٹس ایپ حکیموں کی پُھرتیاں
صبح صبح موبائل کھولا تو واٹس ایپ فیملی گروپ پر چاچا کا ایک میسج آیا ہوا تھا۔ وہ میسج کچھ یوں تھا کہ ”آج ایک مشکل اور خطرے والا دن ہے اس میسج کو 17 لوگوں کو بھیجیں اور خطرے سے بچئیے“ ۔ ہم نے میسج پڑھ لیا اور دل ہی دل میں یہ بھی کہہ دہا کہ ”کیا جہالت ہے بھئی“ ۔ ایسے میں تیار ہو کر آفس روانہ ہوئے اور جب تھوڑی دیر بعد واٹس ایپ پر نظردوڑائی تو کیا دیکھتے ہیں کہ پورے ددھیال والوں کا یہ میسج پرسنل نمبر پر آ چکا تھا۔ مجھے غصہ آیا اور پھر میں نے گروپ میں ہی یہ بات بطور طنز لکھ دی کہ ”جو پورے دن گھر میں دبکے بیٹھے رہتے ہیں انھیں تو ویسے بھی خطرہ نہیں ہوتا البتہ بسیار خوری سے خطرہ ہو سکتا ہے۔“ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے خاندان میں ہم بد تمیز اور بد اخلاق نامزد ہو چکے ہیں۔
واٹس ایپ ایک کار آمد اپلیکیشن تو ہے مگر اس کا استعمال جس طرح پاکستان میں ہوتا ہے ایسا کہیں بھی نہیں ہوتا ہے۔ واٹس ایپ کے ظہور سے پہلے بھی ہر گھر میں دو تین بندے خود ساختہ ڈاکٹرز ہوتے تھے مگر واٹس ایپ کی آمد کے بعد وہ ڈاکٹرز حکیم اور عامل بابا کے عہدے پر بھی فائز ہو چکے ہیں۔ یہ واٹس ایپ کے کردار اب واٹس ایپ برادری کہلاتی ہے۔ اس برادری کا کام فقط فارورڈ میسجز کو بغیر تحقیق کے بھیجنا شامل ہے۔ اس سے بڑا مسئلہ اس برادری کو سمجھانا ہے، اگر آپ انہیں میسج بھیجنے سے منع کرو تو بدتمیز کہلاتے ہیں اور اگر فارورڈ میسج کا انکار کردو تو منکر۔ عجب مشکل درپیش رہتی ہے۔
یہ برادری ادھیٹر عمر افراد مبنی ہوتی ہے۔ جیسے کے اگر کوئی انکل یا آنٹی انتہائی فارغ ہوں، انھیں اسمارٹ فون استعمال کرنا آتا ہو اور فری انٹرنیٹ کی سہولت بھی موجود ہو تو وہ خاندان میں حکیم کے عہدے پرفائز ہو جاتے ہیں۔ روز کم سے کم 10 ٹوٹکے بھیجنا ان کی فراغت کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہیں اور اگر کوئی ہم مزاج شخص واٹس ایپ پر موجود ہو تو کال بھی کر لیتے ہیں اور انتہائی اعتماد سے ٹوٹکوں کے فضائل و کمالات بھی بتاتے ہیں البتہ خود ان ٹوٹکوں پر عمل نہیں کرتے ۔ اس واٹس اپ فارغ برادری میں ایک گروہ وہ بھی ہوتا ہے جو جنت کا ویزہ صرف 20 میسج فارورڈ کرنے پر دیتا ہے۔
یہ سال کورونا نے برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ خوف کورونا نے تو پھیلایا مگر کورونا سے زیادہ خوف واٹس ایپ برادری نے پھیلایا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی تحقیقی خبریں اپنی جگہ واٹس ایپ برادری کی تخریبی خبریں اپنی جگہ۔ جب پوری دنیا ویکسین بنانے کے کوششوں میں مصروف تھی اس وقت واٹس اپ برادری انواع و اقسام کی ویکسین ایجاد کر کے پھیلا بھی چکی تھی۔
کورونا کی پہلی لہر میں ہرروز ٹوٹکوں والے میسجز کا ایسا سلسلہ چلتا الامان والحفیظ ۔ من گھڑت میسجز، بے بنیاد خبروں اورعجیب عجیب سے ٹوٹکوں سے چار سو سراسیمگی کا ماحول تھا اور اس ماحول کا ڈائریکٹر کورونا ضرور تھا مگر اسسٹنٹ ڈائریکٹر واٹس ایپ برادری تھی۔
یہ برادری ہر خاندان، علاقے، آفس میں پائی جاتی ہے۔ اس واٹس ایپ برادری کو سمجھانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ البتہ ایک طریقہ ہمارے ذہن میں بھی ہے وہ یہ کہ واٹس ایپ کے میسجز پر پیسے کٹنا شروع ہو جائیں تو اس سے یہ برادری اپنی اس روش سے بھی ہٹ جائے گی، یعنی نہ رہیں گے فری کے ایم بیز ، نہ ہوں گے فارورڈ میسج۔


