سال 2020 ء میں اہم ممالک کے سیاسی مد و جزر
سال 2020 ء کئی حوالوں سے پوری دنیا کے لیے مشکلات اور مصائب کا سال ثابت ہوا۔ اس سال سب سے بڑا عالمی مسئلہ کووڈ 19 کا وبائی مرض تھا جس میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں اور کھربوں ڈالرز کے نقصانات سمیت سیاسی اور معاشرتی حوالوں سے بھی دنیا میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اس حوالے سے قارئین کے مطالعے کے لیے چند اہم ممالک کا ذیل میں مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
چین
سال 2020 ء میں چین کے شہر ووہان سے پھیلے کورونا وائرس نے دنیا کو شدید متاثر کیا اور 2021 ء میں بھی اس کے منفی اثرات قائم رہنے کے امکانات ہیں اس کے باوجود چائنا کے صدر شی چن پنگ نے چند سال قبل 2023 ء کے حوالے سے جو پروگرام شروع کیا تھا وہ اس میں کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ چین نے 2020 ء میں دو درجن سے زائد ممالک سے تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے کیے ہیں اور چند ماہ قبل ایشیا میں مشرق بعید اور بحر الکاہل سے جو معاشی معاہدہ کیا ہے، وہ اس کی ایک بڑی فتح ہے۔
ون بیلٹ ون روڈ پلان کے ذریعے بھی چائنا جارحانہ طور پر اپنی سرگرمیاں پھیلا رہا ہے۔ چین نے 2020 ء میں اپنے خلائی مشن کا بھی شاندار آغاز کر دیا ہے اور اس کا چاند کا مشن کامیاب رہا ہے۔ یاد رہے چائنا جنگ نہیں کرے گا، یہ پراکسی وار لڑے گا جس میں یہ اپنے اتحادیوں کو استعمال کرنا چاہتا ہے ۔ ہندوستان کو سرحدی تنازعے میں الجھا کر اس کی فوج کو شمالی سرحد پر مصروف رکھنا چاہتا ہے کیوں کہ وہ نہیں چاہتا کہ معاشی طور پر بھارت اس کے مقابل آئے۔ چین اپنے جدید ہتھیاروں کی تیاری میں بھی روس اور امریکا کے برابر آ گیا ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ففتھ جنریشن وار کے حوالے سے جو ٹیکنالوجی امریکا نے بنائی تھی، اس کا بھی ایک حصہ چائنا نے حاصل کر لیا ہے البتہ چین کو ہانگ کانگ میں جمہوریت پسند وں اور انسانی حقوق کے علم برداروں سے پریشانی لاحق ہے۔
ہندوستان
سال 2020 ء میں لداخ کی سرحدوں میں ہندوستان کو چین نے ناکوں چنے چبوا دیے۔ پہلی بار انڈیا نے چین کے مقابلے میں کافی عرصے تک اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت ہتھیاروں کی تیاری کے بجائے خریداری پر زیادہ زور دے رہا ہے اور اس نے چار اہم ممالک امریکا، روس، اسرائیل اور فرانس سے جدید ہتھیار اور جنگی طیارے خریدے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت اپنی معیشت کو بھی سنبھالا دینے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے نتائج قدرے مثبت آئے ہیں۔
بھارتی معیشت دانوں کے مطابق اگر بھارت کسی بڑے الجھاؤ میں نہ پھنسا تو وہ سمجھتے ہیں کہ معیشت میں ایک بڑی چھلانگ لگا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ بھارت نے کچھ عرصے قبل مشرق بعید کے اہم ملک ویتنام کو قرضہ دینے کے علاوہ اس کے ساتھ تجارتی معاہدہ بھی طے کیا ہے اور بھارت اور ویتنام نے چین کے جنوبی سمندر میں اپنی فوجی مشقوں کا بھی آغاز کر دیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بھارت اور ویتنام جلد ہی کسی دفاعی معاہدے میں شریک ہو جائیں گے۔
اسرائیل
اسرائیل نے سال 2020 ء میں جس ڈپلومیسی کا مظاہرہ کیا ہے اس میں وہ بڑی حد تک کامیاب رہا ہے۔ بحرین، متحدہ عرب امارات اور مراکش نے اسے تسلیم کر لیا ہے جب کہ ترکی نے بھی اسرائیل سے اپنے تعلقات بحال کر لیے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین تعلقات قائم کرنے کے لیے ان کے درمیان اِن ڈور بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ یہ اطلاعات بھی گردش میں ہیں کہ سلطنت عمان بھی جلد اسرائیل کو تسلیم کر لے گا
اسرائیل اس خطے میں ایک بڑی طاقت ہے ٹیکنالوجی، زراعت اور انفرا اسٹرکچر کے حوالے سے دیگر ممالک سے آگے رہتا ہے اور پورے مشرق وسطی میں اسرائیل کا پلہ بھاری نظر آتا ہے۔
ترکی
مسلم ممالک میں ترکی ایک بڑی طاقت تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کا تعلیمی معیار بہتر ہے اور یہ تمام اسلامی ممالک کے مقابلے میں ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی سبقت رکھتا ہے۔ ترکی اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ بہت اچھے رہے ہیں۔ سال 2020 ء میں اس نے فوجی مدد کر کے آذربائیجان کو آرمینیا پر جو فتح دلوائی ہے اس سے خطے میں ترکی کی ساکھ بحال ہوئی ہے۔ جاری حالات میں ترکی نے اسلحے کی خریداری اور تیاری پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہے جس کی وجہ سے اس کی معیشت قرضوں کے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے۔ ترکی اسلامی اور یورپی بلاک میں اپنا نمایاں کردار چاہتا ہے اور اس کے صدر رجب طیب اردوان کا یہ مشن ہے کہ 2023 ء کے بعد وہ سلطنت عثمانیہ کا احیا چاہتے ہیں۔
ایران
سال 2020 ء میں ایران اور اسرائیل کی کشیدگی خاصی عروج پر نظر آئی۔ ایران کے سپریم کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو امریکہ نے نشانہ بنایا اور ایٹمی سائنسدان محسن فخری زادہ بھی قتل کیے گئے جس کا ذمہ دار ایران نے اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔ ایران مشرق وسطی میں نمایاں طاقت تسلیم کیا جاتا ہے جس سے خطے کے اکثر ممالک خوف زدہ رہتے ہیں۔
امریکا
آٹھ کروڑ پاپولر ووٹ لے کر منتخب ہونے والے امریکی صدر جوبائیڈن کے حوالے سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ وہ دنیا میں جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی اظہار پر زیادہ توجہ مرکوز رکھیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق صدر ٹرمپ نے ان کے مقابلے میں سات کروڑ تیس لاکھ پاپولر ووٹ حاصل کیے ہیں جو ریپبلکن کی جانب سے ماضی میں کسی بھی صدارتی امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں سے زیادہ ووٹ ہیں، اس طرح ٹرمپ ہار کر بھی ایک تاریخ رقم کر گئے ہیں۔
ٹرمپ کے ہارنے کی ایک بڑی وجہ کووڈ 19 ہے ، کیوں کہ اس موقع پر انہوں نے غیر سنجیدہ رویے کا مظاہرہ کیا جس سے امریکا کو شدید نقصان پہنچا۔ بعض مبصرین یہ تأثر دے رہے ہیں کہ سابق صدر ٹرمپ کے غیر لچکدار رویے کی وجہ سے امریکا میں جمہوریت شدید خطرے سے دوچار ہے مگر صدارتی انتخابات میں جس جوش و خروش سے عوام نے حصہ لیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی عوام جمہوریت پسند ہیں اور جمہوریت چاہتے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ماضی کے مقابلے میں امریکا میں اس صدارتی الیکشن میں سب سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے ہیں۔
بہرحال نو منتخب صدر جوبائیڈن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مشرق وسطی کی پالیسی کے حوالے سے ایران کے ایٹمی پروگرام کو سپورٹ کریں گے جب کہ چین کے حوالے سے جوبائیڈن کی پالیسی زیادہ مختلف نظر نہیں آئے گی۔ 2020 ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں نائب صدر کے عہدے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی نے کملا ہیرس کو نامزد کیا جن کو منتخب صدر جوبائیڈن نے بھی اپنا نائب صدر نامزد کر لیا ہے۔ یہ سال 2020 ء میں امریکا کا ایک بڑا اہم واقعہ ہے کیوں کہ اگر صدر جو بائیڈن بیماری یا کسی مسئلے کی وجہ سے اپنے عہدے سے دستبردار ہو جاتے ہیں تو کملا ہیرس صدر بن جائیں گی۔
فرانس
فرانسیسی صدرایمانویل میکرون نے 2020 ء میں پیغمبر اسلامﷺ کے ہتک آمیز خاکوں کے مسئلے پر غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا اور مسلمانوں کے خلاف ایک سیاسی اور دینی محاذ تیار کر لیا جس پر تمام عالم اسلام سراپا احتجاج ہوا اور فرانس کے صدر کے خلاف مسلم دنیا میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ بیشتر مسلم ممالک نے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا۔ ایمانویل میکرون نے آزادی اظہار پر اپنا پورا زور صرف کیا اور مسلم کمیونٹی کے خلاف کیے گئے بعض اقدامات کو واپس لینے سے انکار کر دیا جس پر ان کے خلاف نکتہ چینی اور شدید تنقید کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔
دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ انتہائی نامساعد حالات کے باوجود انسان اپنی بقا اورترقی کے لیے ہر ممکن جدوجہد کرتا رہا ہے اور آج کی جدید دنیا میں بھی اس کی جدوجہد جاری ہے جس کی مثال ہمیں سال 2020 ء میں بھی واضح نظر آتی ہے۔ نئے سال 2021 ء کے حوالے سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ بھی سال 2020 ء سے مختلف نہیں ہو گا۔


