سال جو ضائع ہوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقت کا پہیہ رواں رہنا ہے۔ ازل سے اس کی چال جس ترتیب سے جاری ہے ابد تک اسی طرح برقرار رہے گی۔ ماہ و سال یونہی آتے اور جاتے رہیں گے کیونکہ وقت کا کام ٹھہرنا ہے اور نہ یکساں رہنا۔ گزرے بہت سے برسوں کی طرح دو ہزار بیس بھی تلخ یادوں اور بہت سی ادھوری حسرتوں کے ساتھ رخصت ہو گیا۔ دو ہزار بیس کے آغاز میں کورونا کی وبا چین سے اٹھی اور اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دنیا کی معیشت پر اس وبا کے نہایت سنگین اثرات مرتب ہوئے اور کہا جا رہا ہے اس دھچکے کے دنیا پر اثرات مزید کئی سال رہیں گے۔

ملٹی نیشنل کمپنیوں کا کاروبار سکڑ گیا ہے، ائر لائنز کا بزنس تباہ ہو گیا اور سیاحت بالکل ٹھپ ہو کر رہ گئی لیکن میرے خیال میں اس بیماری کا سب سے مضر پہلو اس کے معاشرتی اثرات ہیں۔ بیماری کے خوف کی وجہ سے لوگ اپنے پیاروں سے دور رہنے پر مجبور ہیں۔ دوستوں اور عزیزوں کو گلے نہیں لگایا جا سکتا اور نہ کسی سے مصافحہ ہو سکتا ہے۔ یہ بیماری دو ہزار بیس میں بہت ہی پیاری اور قیمتی شخصیات کو ہم سے چھین کر لے جا چکی اور کچھ خبر نہیں کہ مزید کتنے لوگ اس کا لقمہ بنیں گے۔

دو ہزار بیس کے آغاز تک لوگوں کی حکومت سے توقعات وابستہ تھیں افسوس مگر ان میں سے کسی ایک بھی توقع اور امید پر حکومت پوری نہ اتری بلکہ سارا سال اپنے مقاصد سے دور بھٹکتی رہی۔ یہ کہنا غلط نہیں کہ عوام کا معیار زندگی بہتر ہونے کے بجائے پہلے سے بھی بدتر ہو گیا۔ یہ سچ ہے کہ ماضی میں بھی دودھ شہد کی نہریں نہیں بہہ رہی تھیں، لیکن مہنگائی و بیروزگاری سے عوام کی حالت آج جتنی اجیرن تھی اور نہ کاروباری سرگرمیاں اس قدر ماند اور بازار اتنے سنسان پہلے کبھی تھے۔ محاورتاً نہیں حقیقتاً غریب آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ناممکنات میں شامل ہو چکا ہے۔ بجلی گیس اور پٹرول کی قیمتیں آسمان چھونے لگی ہیں۔ نئی ملازمتیں تو کہاں ملنی تھیں صرف دو ہزار بیس میں ساٹھ لاکھ کے قریب برسر ملازمت لوگ بھی بیروزگاروں کی فہرست میں شامل ہوئے ہیں۔

قوموں پر عروج و زوال آتے رہتے ہیں اور خراب ملکی معاشی حالت بھی کوئی انوکھی بات نہ تھی۔ تاریخ بھری پڑی ہے جب مصائب و مشکلات سے قوموں کی بقا پر سوالیہ نشان لگ گئے۔ لیکن ان اقوام نے رونا دھونا نہیں کیا ملبے پر بیٹھ کر ماتم نہیں کرتی رہیں بلکہ عزم و ہمت اور ارادے کی مضبوطی و پختگی سے حالات کا سامنا کیا اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر ابھریں۔ ہمارے چارہ گروں کو مگر چارہ گری سے گریز رہا ورنہ ہمارے دکھ لادوا نہ تھے۔

عزم و ہمت اور خلوص نیت سے کام ہوتا تو مسائل پر قابو پانا ممکن تھا۔ گزشتہ سارا عرصہ حکومت یہی دہائی مچاتی رہی کہ پچھلی حکومتیں لوٹ کر لے گئیں۔ ہم نے جب اقتدار سنبھالا تو خزانہ خالی ملا تھا اور ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ دیکھا جائے تو آج تک کوئی حکومت ایسی نہیں آئی جس نے کہا ہو کہ جانے والے آسانیاں چھوڑ کر گئے یا ملک ہمیں بہتر حالت میں ملا۔ ہمیشہ جب ہماری حالت یہی رہی ہے تو رونے دھونے سے وقت کے ضیاع اور مزید نقصان کے سوا کیا حاصل ہونا تھا۔

واویلے پر لگائی گئی توانائی اگر معاشی میدان میں صرف کی جاتی تو آج حالات کچھ بہتر ہو سکتے تھے۔ کاروبار کا بیڑہ غرق ہونے کا بڑا سبب احتساب کے نام پر اندھا دھند لٹھ بازی بھی رہی۔ ہم ایسے شروع دن سے چیخ رہے تھے کہ احتساب کے نام پر اچھل کود کا حاصل وصول کچھ نہیں ہو گا الٹا اس سے معیشت کا بھٹہ بیٹھ جائے گا۔

سارا سال اپوزیشن نے بھی سوائے حساب برابر کرنے کی ناکام کوشش کے کوئی سنجیدہ بات نہیں کی۔ اس سال اپوزیشن جماعتوں نے پی ڈی ایم کے نام سے ایک اتحاد تشکیل دیا جس کا بنیادی مقصد حکومت کو رخصت کرنا ہے لیکن یہ رخصتی کس طرح ممکن ہو گی اس پر اتحاد میں شامل جماعتیں خود متفق نہیں ہو سکیں۔ بالفرض اگر یہ اتحاد اپنے مقصد میں کامیاب ہو بھی جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ اس سے عوام کو کیا فائدہ ملے گا؟ بیان بازی کی حد تک عوام سے ہمدردی ہر کوئی کرتا ہے مگر تعلیم صحت متفقہ معاشی پالیسی اور مضبوط بلدیاتی نظام کی بات اب تک حزب اختلاف کی کسی جماعت کے منہ سے بھی سنائی نہیں دی۔ حالانکہ صرف بلدیاتی نظام فعال کر دیا جائے تو عام آدمی کے اکثر مسائل اس کی دہلیز پر حل ہو سکتے ہیں۔ یہ کام مگر سیاسی خاندانوں کے مفاد میں نہیں کیونکہ اس طرح ایک تو ان کی اہمیت کم ہوتی ہے دوسرا متبادل قیادت ابھرنے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔

پاکستان کے عوام کی کثیر تعداد مزدور، کسان اور اسی طرح کے نچلے طبقات پر مشتمل ہے جو لکیر غربت سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جن کو پیٹ بھرنے کے لیے غذا میسر نہیں تن ڈھانپنے کو جنہیں کپڑا حاصل نہیں جن کے سر پر سائباں نہیں۔ ذاتی ایجنڈے کو پس پشت ڈال کر ان طبقات کی حالت بہتر بنانا حکومت اور حزب اختلاف کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ بھی ملک عزیز چہار اطراف سے مشکلات میں گھرا ہے۔ ان میں بہت سے چیلنجز داخلی محاذ پر ہیں اور بہت سے خارجی محاذ پر۔

وطن عزیز کی شہ رگ پر دشمن پوری طرح قابض ہو چکا ہے۔ وہاں بسنے والے ہمارے اسی لاکھ بھائیوں کو اس نے محصور کر کے ہر قسم کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر رکھا ہے اور ان نہتے و معصوم لوگوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ لیکن اپوزیشن اور حکومت کی لفظی جنگ اور اندرونی شور غوغے میں ہم ان کے لیے کماحقہ آواز نہیں اٹھا سکے۔ اب ادراک ہو جانا چاہیے ان چیلنجز سے نبرد آزما اسی وقت ہوا جا سکتا ہے جب قوم متفق و مستحکم ہو گی۔

باہمی تعاون، اخوت اور بھائی چارہ بالکل قصہ پارینہ بن چکا ہے اور اس کمزوری پر فی الفور قابو پانا وقت کی ضرورت ہے۔ حکومت قائم ہوئے عرصہ گزر چکا اب اپوزیشن مائنڈ سیٹ سے باہر نکلنا ہو گا جب تک حکمران تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملا کر ملکی بقا سلامتی اور استحکام کو نصب العین بنا کر خلوص نیت سے کام نہیں کریں گے حالات نہیں بدل سکتے۔ اتفاق رائے کے قیام کا بڑا دار و مدار حکومتی رویے پر ہے کیونکہ اگر حکومت نفرت و عقیدت پر مبنی تعصبات کو سرکاری وسائل سے بڑھاوا دیتی رہے گی تو کسی صورت اتفاق رائے نہیں ہوگا۔

دو ہزار بیس کی واحد اچھی بات یہ ہے کہ کورونا کی بیماری کے خلاف مدافعت پیدا کرنے والی ویکسین بنانے میں دنیا کو کامیابی مل گئی۔ اگرچہ اب تک یہ نہایت مہنگی ہے اور صرف ترقی یافتہ ممالک کو ہی دستیاب ہے تاہم امید ہے کہ یہ جلد غریب ممالک کو بھی ملنا شروع ہو جائے گی۔ جب تک ویکسین ہم تک نہیں پہنچتی اس وقت تک احتیاط کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ آج سے نئے سال کا سورج امید و توقعات کی کرنیں لے کر طلوع ہو رہا ہے۔ مستقبل کا علم اس ذات کی ملکیت ہے جس کے ”کن“ کہنے سے کہکشاں میں گردش پیدا ہوتی اور وقت کا گھڑیال چلتا ہے۔

لہذا کہہ نہیں سکتے نئے برس میں ہمارے لیے نیا پن ہو گا خوشخبریاں ہوں گی یا ہمارے حالات بدستور یہی رہیں گے۔ رب ذوالجلال سے دعا ضرور کر سکتے ہیں کہ نئے برس میں ہم امن و سلامتی سے رہیں، ہمارے دلوں سے نفرت و کدورت کا خاتمہ ہو، برداشت و احترام کا حوصلہ ہمیں نصیب ہو جائے اور سکون و خوشحالی اب ہمارا مقدر بنے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •