اک وصل کی خاطر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”بی بی جی مجھے آج جلدی گھر جانا ہے“
”کیوں کیا ہوا“
”آج وہ گھر پہ ہے نا اس کی چھٹی ہے۔“
چاہت کمو ’کے لہجے سے چھلک رہی تھی۔
پہلی بار بلور بی بی جی نے کسی پہ رشک کیا۔

جب میں نے ”بلور“ کی خبر سنی تو سوچا ”شاہ لطیف“ نے حرف بہ حرف درست کہا تھا کہ ”عورت معشوق نہیں عاشق ہے“ بلور میری بچپن کی سہیلی تھی۔ ہم دونوں اپنے دکھ سکھ کی باتیں کیا کرتے تھے۔ ہم پہروں ایک ساتھ بیٹھے رہتے۔ مجھے اس کی باتیں بہت دلچسپ لگتی تھیں۔ اٹھتے وقت وہ مجھے تاکید کرتی

” کسی کو بتانا ناں“ بس اپنے تک ہی رکھنا ”
میں ہنس پڑتی۔ ”پہلے کب کسی کو بتایا کچھ“
” ہاں ہاں مجھے معلوم ہے نہیں بتاتی ہو مجھے ویسے ہی تاکید کی عادت ہے۔“

سنا ہے بہار کے دنوں میں تیز ندی کے شگاف سے ایک مردانہ مفلر اور ایک دوپٹہ اک دوسرے سے لپٹا ہوا ملا تھا۔

میں چشم تصور میں ان دونوں کو آپس میں جڑے دیکھ سکتی تھی۔

میں نے دکھ سے سوچا میری سہیلی بلوری کس کرب سے گزری اور کچھ کہے سنے بنا اپنی دنیا میں جیتی رہی، اور ایک روز چپ چاپ چلی گئی۔ سنا تھا ایک مردانہ مفلر اور اس کا دوپٹہ ہم رنگ ہو گئے تھے۔

بلور مٹی سے برف کے مجسمے میں تجسیم ہوئی اور پھر پانی کے ساتھ پانی ہو گئی۔ شاید اپنے آپ سے واصل ہونے کا اس کے پاس یہی ایک ذریعہ تھا۔ اس نے اپنی صورت کا محبوب تراشا اور اس سے ملنے اس کے پیچھے چل دی۔

بلور جنم سے ہی حسین تھی۔ ماں باپ کی اکلوتی اور لاڈلی اولاد تھی۔ میرے جیسے لوگ اس کے نصیب پر رشک کیا کرتے تھے۔ اس کے والد ایک بہت بڑی ریاست کے نواب تھے۔ وہ بڑے ناز نخروں میں پلی بڑھی تھی۔ وہ سب کی آنکھوں کا تاراتھی۔ گلابی گالوں چمکتی پیشانی اور روشن تارا سی آنکھوں والی بلوری اس کے گھنگھریالے سنہرے بالوں نے اس کے حسن کو چار چاند لگا دیے تھے۔

اس کا لہجہ بے حد دلنواز تھا۔ میٹھی زبان سے جب باتیں کرتی تو سننے والوں کو محسوس ہوتا جیسے ان کے قرب میں شہد اور دودھ کی نہریں جاری ہو گئیں ہوں دودھ اور شہد کی نہریں اپنے پن کے احساس سے بھری ہوتی تھیں۔ وہ سب کو پہلی نظر میں اپنا بنا لیتی تھی۔

ہمارا گھر ان کے محل سے ملحقہ دوسری پہاڑی پر تھا۔ میری ماں بتاتی تھی جب سے وہ پیدا ہوئی تھی دیکھنے والوں نے اسے سر آنکھوں پہ بلکہ پلکوں پہ بٹھایا تھا۔

اس کی خوش قسمتی تھی کہ ایک رئیس سے شادی ہوئی۔ شادی کے بعد شوہر نے بھی اسے اپنے دل کی رانی بنا کے رکھا۔ وہ حور کے پہلو میں غلام سے دکھائی دیتے تھے دنیا داری میں وہ ایک معتبر شخصیت تھے۔ دن بھر میں ہزار بار اپنی رانی کے حسن کو سلامی دیتے اور اس کا بے حد خیال رکھتے اور احترام کرتے تھے۔

یہ سب میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اس کی زندگی میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا مگراندر بے چینی تھی۔

اس داخلی خلا نے کب اس کے من میں گھاؤ لگایا کچھ اندازہ نہیں، سنا ہے اس کے ماموں پر بھی باہر کی چیزوں کے اثرات تھے۔

دولت عزت محبت سب اس کی باندیاں تھیں۔ اولاد بھی اسے اپنی رانی ماں مانتی تھی۔

چاہے جانے کی بجائے خود سے کسی کو چاہنے کی آرزو کب اس کے دل میں بسی اور پروان چڑھی، اس بارے میں تو مجھے نہیں پتا مگر کچھ اندازہ ہے کہ یہ گرہ کیسے پڑی، اس کے رشک کی کہانی شاید ایک جملے سے شروع ہوئی تھی۔

ایک روز اس کی ایک ملازمہ نے اس سے جلدی گھر جانے کی اجازت چاہی،
”بی بی جی
”مجھے آج جلدی گھر جانا ہے“
”کیوں کیا ہوا“
”آج دلبر کی چھٹی ہے“
میرے دلبر کی دیہاڑی نہیں لگی۔ وہ آج گھر پہ ہے میں جلدی جاؤں گی تو اس کا جی بہل جائے گا ”

کمو نے اک عجیب چاہ سے کہا تو وہ ٹھٹھک گئی۔ کمو کے لہجے میں محبت کی بارشیں تھیں۔ کمو اپنی مالکہ سے سارے راز کہہ دیتی وہ دل کی اتنی اچھی تھی۔

کمو نے محبت بھری پسند کی شادی کی تھی۔
”کمو تم اسے کتنا چاہتی ہو؟“
” بیگم صاحبہ ساری دنیا سے زیادہ“
”پھر بھی کتنا“

” بتاؤ تو سہی“ اور کمو کے چہرے پہ محبت کے رنگ بکھر گئے، اپنے محبوب شوہر کا ذکر کرتے ہوئے اس کا انگ انگ ناچنے لگا۔

بلوری نے اپنے من کو ٹٹولا وہاں سرد اور تاریک رات کا پہر تھا۔ ایسی چاہت کے جگنو تو کہیں نہیں دیکھے تھے۔

اچانک اس کا جی چاہا کہ کاش وہ بھی عام سی صورت اور مرتبے والی کمو ہوتی کسی سے کھل کے عشق کرتی، کسی کی محبت سے بھری رہتی اور اس پہ نثار ہو جاتی۔ اس نے بچوں کو اچھی تربیت دی مگر اپنے بچوں کے لیے ایک ایسی چاہت کا دیپ تو نہیں جلا پائی تھی جیسے باقی ماؤں کے جیون میں ہوتا ہے

اس کے من میں ایک الہڑ پجارن اچانک انگڑائی لے کر جاگ اٹھی۔ روح میں ایک دیا ساروشن ہوا اس نے خود کو پتنگے کی صورت دیکھا جو روشنی پہ جل مرا۔

آس پاس کوئی تو ہوتا اتنا سندر جس کو وہ اپنے من مندر میں محبوب کے تخت پہ بٹھاتی۔ ایک ایک کر کے سارے نام مسترد کرتی گئی۔ ایسی چاہت کہ جس پہ وہ نثار ہو جائے اس کا خواب بن گیا۔ اس کے اندر محبت کے شرارے جلنے لگے۔ کسی کو شدت سے چاہنے کی آرزو نے سر اٹھایا اور دل کے پورے آنگن میں آرزو کی ہری بیل پھیلتی گئی۔

ایسے ہی بند آنکھوں سے
ٹوٹ کر چاہنے کی آرزو
مگر کسے؟

اس کے شوہر کے چہرے پہ بھی ایسے ہی رنگ بکھرتے تھے جب وہ بلور کو بلاتے تھے جیسے وہ عاشق ہوں وہ بھی ان کی طرح عاشقی کا مزہ چکھنا چاہتی تھی۔ بلور نے بہت بار سوچا کہ وہ اپنے عاشق شوہر کو ہی اپنا محبوب مان لے۔ وہ جی جان سے ان کا خیال تو رکھتی تھی مگر اس کا بے تاب پگلا دل اپنے عشق میں مبتلا شوہر کو محبوب بنانے پہ راضی نہ ہوا۔ اس معاملے میں دل بادشاہ تھا۔
وہ جتنا اس پہلو پہ سوچتی اتنی ہی دکھی ہو جاتی۔
چند ماہ بعد اسے لگا۔
وہ اس دنیا کی سب سے غریب عورت ہے جس نے کبھی ڈھنگ سے کسی کو چاہا ہی نہیں۔
وہ جب سے دنیا میں آئی تھی۔ اسے چاہا جا رہا تھا۔ اس کا من چاہتا تھا وہ بھی ایسے ہی کسی کو چاہے
اس نے اپنی ایک اور سہیلی کا تذکرہ بھی رشک سے کیا تھا۔

سرگم ہماری مشترکہ سہیلی تھی جو کسی کو شدت سے چاہتی تھی۔ جب وہ اپنی ہمراز سہیلی کے سامنے اپنے محبوب کے گن گاتی بلور حیرت اور رقابت سے اسے دیکھتی رہتی اور غمزدہ ہو جاتی۔

کیا وہ فقط چاہے جانے کے لیے پیدا ہوئی۔ اسے محسوس ہوا یہ اس کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے۔ اسے اپنا آپ اس حوالے سے بہت حقیر اور کمتر لگنے لگا۔

ہر وہ شخص جس کی زندگی میں اس کا کوئی محبوب ہوتا وہ اسے رشک سے دیکھنے لگی تھی اور خود سے الجھنے لگی اور کبھی کبھار مجھ سے بھی میری زندگی میں چاہت اس طرح کیوں نہیں آئی۔

میں کسے چاہوں؟

ایک روز موسم سرما میں بہت برف باری ہوئی۔ دور دور تک سفید برف تھی برف ہی برف۔ وہ تمام عمر برف سے مانوس رہی بچپن میں اس سے کھیلتی رہی تھی۔ ہم بچپن میں بھی مل کر برف کے بت بنایا کرتے تھے۔

ایک پہراس نے برف اکٹھی کی اوریخ ہاتھوں سے اس نے ایک برف کا مجسمہ بنایا (سنو مین)
محبت کی حدت سے برف کا مجسمہ۔
اور پھر اس محبت کی حرارت میں شمع کی طرح پگھلنے لگی۔ اس کے مومی تن پہ ننھے ننھے موتی اکٹھے ہونے لگے۔

اس نے سفید براق مجسمے کی آنکھوں کو روشن کرنے کے لیے اپنے گلے کی مالا سے دو موتی چرائے اب مجسمہ دیکھنے لائق تھا۔ وہ ان آنکھوں میں اپنے پریت کاسرمہ لگاتی، جو سرمہ وہ اپنی آنکھوں میں لگاتی وہی سلائی اس کی آنکھوں میں بھی پھیر دیتی اور پہروں اسے محبت سے دیکھتی رہتی۔ اس نے اپنے بنائے ہوئے محبوب مجسمے کے گلے میں بھورے اور سرخ چیک والا من پسند مفلر پہنایا جو اس کے پاس جانے کب سے پڑا تھا اور اسے ایک گرم چادر اوڑھا دی۔ ایک روز اس نے اپنے محبوب مجسمے سے ملانے کے لیے مجھے دعوت دی۔ ہم بہت ہنسے اور میں نے اس سب کو اس کی معصومیت سے تعبیر کیا۔ وہ بہت مسرور تھی۔ مجھے محسوس ہوا جیسے وہ اس محبت کی چادر میں کہیں گم ہے۔

سردیوں کا موسم اسے بہت حسین لگ رہا تھا۔ وہ سرگم اور کمو سے زیادہ اپنے محبوب کی محبت سے سرشار ہو چکی تھی۔

جب وہ سوتی تو تصور میں اپنے عارض کے نیچے ہاتھ رکھ کے اپنے ہاتھوں کی ہتھیلی سے اس محبت بھرے ٹھٹھرتے لمس کو چھو لیتی جس کے سینے میں آگ کا الاؤ روشن تھا۔

اس نے اپنے محبوب کے لیے گیت لکھے اور ساز بجایا اور اس کے سامنے دیوانہ وار رقص کیا۔ جس روز اس کا محبوب اس کے پچھلے آنگن میں برف کے تختے پر تخت نشین تھا۔

وہ بہت دیر تک اس کے پاس بیٹھی رہی۔
آہستہ آہستہ وہ اس سے باتیں کر نے لگی اور اسے لگا وہ اس دنیا کی سب سے خوش نصیب عورت ہے۔

”کمو اور سرگم کے محبوب سے زیادہ حسین ہے میرا محبوب“ ۔ وہ مان سے کہتی، اپنے محل میں اترائی اترائی پھرا کرتی جیسے ہواؤں میں اڑ رہی ہو۔

موسم سرما بیت رہا تھا اور وہ من ہی من میں حقیقت کے غم سے شمع کی طرح پگھلنے لگی۔ بالآخر موسم بہار کا سورج نکلا۔ سورج کی حرارت سے سب کی جان میں جان آئی مگر اس نے دیکھا

اس کے محبوب کا وجود پانی میں تبدیل ہو نے لگا تھا۔ وہ قطرہ قطرہ پانی میں تحلیل ہوتی برف کو دیکھتی رہی اور نمناک آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔ دونوں طرف بوندیں گرنے لگیں۔

اس نے سوچا، اس کی ماں نے اپنی بیٹی کو اپنا معشوق بنایا تھا۔ اور شاید اس کی نانی نے بھی بلور کی ماں کو یاپھر ماموں کو، اگر ماؤں کے پاس نرینہ اولاد ہو تو وہ زیادہ تر اپنی نر اولاد کو ہی محبوب بناتی ہیں بعض اوقات علانیہ بعض اوقات چپکے چپکے۔

وہ سمجھ چکی تھی کہ عورت محبت نچھاور کیے بغیر ادھورا محسوس کرتی ہے، وہ خوش ہوئی اس کے پاس جذبوں کا بہتا دریا ہے۔ ان جذبوں کے بل پر اس نے اپنی کہانی لکھی، اپنے ہاتھوں سے اپنا محبوب تخلیق کیا تھا۔ محبوب فانی تو نہیں ہوتا۔ اس نے سوچا میرا محبوب پانی سے بنا ہے اس سے وصل کا ایک ہی طریقہ ہے میں پانی ہو جاؤں جس روزبرف سے بنے مجسمے کا، آخری قطرہ پانی بن کر قریبی ندی میں اتر گیا وہ بھی ننگے پاؤں بھاگتی گئی اور اک وصل کی خاطر ندی کے پانیوں سے ہمکنار ہو گئی۔

یہ قیامت کی رات تھی۔ محل اچانک سونا ہو جائے گا۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ راجکماری بلور محل میں نہیں تھی۔

کچھ دنوں کے بعد بہار کے وسط میں قریبی ندی کے شگاف سے ایک نشانی ملی۔ اس کے مجسمے کے گلے کا مفلر اور بلوری کا دوپٹہ ہم رنگ ہو چکا تھا۔ وہ پانی کے ساتھ پانی کیوں ہو گئی۔ سب حیران تھے اس نے خودکشی کیوں کی۔ کوئی نہیں جان پایا کہ یہ خودکشی نہیں تھی وصل کی اک صورت تھی۔

Latest posts by دعا عظیمی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •