پاکستان میں ریڈیو کا کاروبار کرنے والا شخص بالی وڈ میں ڈراؤنی فلموں کا سب سے بڑا برانڈ کیسے بنا؟

اقبال پرویز - فلم صحافی، ممبئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رامسے برادرز

چونکہ رامسے برادرز کے والد فتح چند رام سنگھانی کا نام لینا انگریزوں کو مشکل لگتا تھا، اس لیے انھوں نے انھیں رامسے نام دے دیا۔ فتح چند کے سات بیٹوں نے مل کر رامسے کو انڈین فلموں میں ہارر کا سب سے بڑا برانڈ بنایا۔

رامسے بھائیوں نے فلمی پردے پر ایسا خوف بکھیرا کہ وہ اس قسم کی فلموں کے ماہر بن گئے۔ 70 اور 80 کی دہائی میں رامسے بھائیوں نے تقریباً 45 فلمیں بنائیں۔ انڈین فلمی صنعت میں یوں دیکھا جانے لگا کہ رامسے برادرز ہیں تو ہارر ہے، اور ہارر ہے تو رامسے برادرز ہیں۔

آج کی نوجوان نسل کو ستری، بھول بھولیا، لکشمی جیسی فلمیں پسند ہیں جنھیں ہارر کامیڈی کے نام سے دیکھا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل رامسے بھائیوں کی ہارر فلموں کو عجیب بھی پاتی ہے۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہر دور میں ناظرین کی پسند بھی بدلتی جاتی ہے لیکن ماضی میں رامسے بھائیوں نے ہارر فلموں کو ایک غیر معمولی مقام پر پہنچا دیا تھا۔ وہ ایک ایسا نام بن گئے جنھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

شیام رامسے کی بیٹی ساشا شیام رامسے نے رواں دور اور ماضی کی ڈراؤنی فلموں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا: ’آج کل آگہی بڑھ گئی ہے۔ انٹرٹینمینٹ کے بہت سارے ذرائع آ گئے ہیں جہاں لوگ مختلف قسم کی فلمیں دیکھتے ہیں۔ آج کل دس برس کا بچہ بھی کہہ دیتا ہے کہ یہ ٹھیک نہیں لگ رہا لیکن ماضی کا دور مختلف تھا۔ اس دور میں ہماری فلموں کو بہت کامیابی حاصل ہوئی۔ آج بھی لوگ انھیں دیکھتے ہیں۔ میں کئی ایسی ہاوٴس پارٹیز میں جا چکی ہوں جہاں لوگ رامسے بھائیوں کی پرانی ڈراؤنی فلمیں لگا کر ایک ساتھ دیکھتے ہیں۔ ہم نے حال ہی میں ایک دوست کے گھر فلم ویرانہ دیکھی۔‘

فتح چند رام سنگھانی

ہارر فلموں میں غیر معمولی مقام

رامسے بھائیوں کے ساتھ پرانا مندر سمیت تین فلموں میں کام کرنے والی اداکارہ آرتی گپتا سُریندر ناتھ بتاتی ہیں کہ ’پرانا مندر کے لیے آج بھی لوگ پاگل ہیں۔ ہدایت کار مدھُر بھنڈارکر اور انوراگ کشیپ جیسے لوگ اس فلم کے مداح ہیں۔ کشیپ تو پُرانا مندر کی ٹی شرٹ بنوا کر پہنتے ہیں۔‘

رامسے برادرز کی تین ہارر فلموں میں کام کرنے والی اداکارہ کُنیکا لال کا خیال ہے کہ اس وقت ٹیکنالوجی کی کمی تھی۔

’اس وقت سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا جیسے پلیٹ فارم نہیں تھے تاہم اب لوگ ہالی وُوڈ سمیت پوری دنیا کی فلمیں دیکھتے ہیں اور ان سے فلموں کا موازنہ کرتے ہیں۔ آج ٹیکنالوجی ہی نہیں لوگوں کی پسند بھی بدل چکی ہے، جس کی وجہ سے ماضی کی فلموں کے مناظر بچکانہ لگتے ہیں۔ لیکن اس دور کی ٹیکنالوجی اور پسند کے اعتبار سے وہ فلمیں بہترین تھیں اور اچھی بھی لگتی تھیں۔ اس دور میں لوگ واقعی رامسے برادرز کی فلمیں دیکھ کر ڈرتے تھے۔‘

رامسے بھائیوں نے ہارر فلموں میں ایسا مقام بنایا کہ اب ان کی زندگی پر فلم بنانے کے لیے اجے دیوگن جیسے اداکار اور پروڈیوسر نے فلم بنانے کے حقوق حاصل کیے ہیں۔ رامسے بھائیوں کی زندگی پر بننے والی فلم سے آج کے نوجوان بھی ان کی زندگی اور ہارر برانڈ رامسے برادرز کے بارے میں جان سکیں گے جنھوں نے ان کی فلمیں کبھی نہیں دیکھی ہیں۔

سات بھائیوں میں سے ایک تُلسی رامسے کے بیٹے دیپک رامسے نے بتایا کہ ’وہ رامسے برادرز پر ایک بڑی فلم یا ویب سیریز بنانے جا رہے ہیں۔ اجے دیوگن کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ فلم ہو گی یا کوئی ویب سیریز۔ اسے 2021 میں ریلیز کرنے کا منصوبہ ہے۔‘

اس مقام تک پہنچنے کے لیے رامسے برادرز کے والد فتح چند رامسے نے بنیاد رکھی تھی۔ پاکستان کے لاہور اور کراچی شہروں میں فتح چند کا ریڈیو کا کاروبار تھا۔ تقسیم ہند کے دوران وہ اپنے خاندان کو لے کر بمبئی چلے گئے۔

بمبئی میں انھوں نے ریڈیو کی دکان کھولی۔ فتح چند رامسے کے سات بیٹے تھے جن میں سے کچھ کو ریڈیو بنانا اچھی طرح آتا تھا۔ ان کی ایک درزی اور کپڑوں کی دکان بھی تھی۔ گھر کی روزی روٹی چلانے اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس سب کچھ تھا لیکن فتح چند نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بیٹے ان دکانوں کو چلائیں یا یہ کام کریں۔ فتح چند کو فلموں کا بہت شوق تھا۔

1954 میں ریلیز ہونے والی فلم ’شہید اعظم بھگت سنگھ‘ سمیت انھوں نے چند فلموں میں پیسے لگائے اور پھر سنہ 1964 میں فلم ’رستم سہراب‘ بنائی۔

دیپک رامسے کہتے ہیں کہ ’اس تاریخی فلم کو بنانے میں وقت لگا اور پیسے بھی زیادہ لگے۔ اس لیے کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا۔ اس وقت دادا جی کو تکلیف اس بات کی ہوتی تھی کہ ہدایتکار اور ٹیکنیشین اپنے طریقے سے کام کرتے تھے۔ دادا جی کو لگا کہ کوئی اپنا ہوتا جو ان کے ساتھ پوتا تو بہتر ہوتا۔ تب انھوں نے اپنے بیٹوں کو تربیت دینی شروع کر دی۔‘

فلم بینر

بیٹوں کو فلمیں بنانے کی تربیت

فتح چند رامسے اپنے پورے خاندان کو لے کر کشمیر گئے اور دو ماہ کے لیے ہاوٴس بوٹ بُک کی۔ وہاں انھوں نے اپنے بیٹوں کو ایک کتاب پڑھائی جس کا نام تھا ’فائیو سیز آف سنیمیٹوگرافی۔‘

اس کے بعد انھیں فلمیں بنانے کے ہر پہلو کی تربیت دی جس میں فلموں کا میوزک بھی شامل تھا۔ ممبئی واپس آنے کے بعد رامسے نے اپنے بیٹوں کو فلمیں بنانا سکھانے کے لیے ایک فلم بنانی شروع کی لیکن ہدایتکار اور ٹیکنیشینز نے ان کے بیٹوں کے ساتھ محض جونیئر ممبران کی طرح برتاؤ کیا اور انھیں ٹھیک سے کچھ بھی نہیں سکھایا۔

اپنے بیٹوں کو سیکھانے کے جنون کو فتح چند رامسے نے چیلینج کی طرح لیا اور پہلی فلم سندھی زبان میں بنائی۔ اس فلم کا نام تھا ’نقلی شان۔‘

اس فلم میں ساتوں بھائیوں نے ساتھ کام کیا۔ کیمرا مین تھے گنگو رامسے۔ تلسی رامسے اور شیام رامسے نے فلم کو ڈائریکٹ کیا۔ کمار رامسے نے فلم کی کہانی لکھی۔ ساوٴنڈ انجینیئر تھے کِرن رامسے اور ایڈیٹنگ ارجن رامسے نے کی۔ اور اس طرح رامسے برادرز نے اپنے اپنے کام اور ذمہ داریوں کو ایک ساتھ مل کر انجام دیا۔ یہاں سے رامسے بھائیوں کی فلمی سلطنت کا آغاز ہوا۔

ساشا رامسے کہتی ہیں ’دادا جی کے خیالات مختلف تھے۔ انھوں نے سوچا کہ وہ اپنے بیٹوں کو کسی کرکٹ ٹیم کی طرح فلم بنانے کے مختلف کاموں میں تیار کریں۔ دادا جی نے بیٹوں کی تربیت کے بعد کسی ٹیکنیشین کو باہر سے نہیں بلایا کیوں کہ انھوں نے خود اپنی ایک ٹیم بنا لی تھی۔ ایک والد کی حیثیت سے انھوں نے اپنے سبھی بیٹوں کی قابلیت کو پہچان کر انھیں اسی اعتبار سے تراشا۔‘

رامسے بھائیوں نے ایک ساتھ مل کر کام شروع کیا اور فلم بنائی ’ننھی مُنی۔‘ یہ فلم کامیاب نہیں ہوئی لیکن اس فلم کے ایک منظر نے، جس میں پرتھوی راج کپور بھوت کا ماسک پہن کر لڑکی کو ڈراتے ہیں، خوب تعریف بٹوری۔ اس ایک سین نے رامسے بھائیوں کو ڈراؤنی فلمیں بنانے کا حوصلہ دیا۔ اس کے بعد انھوں نے ہارر فلم بنائی جس کا نام تھا ’دو گز زمین کے نیچے۔‘

کتاب

BBC

ساڑھے تین لاکھ روپے کے چھوٹے سے بجٹ میں بنی اس فلم کی شوٹنگ 40 دن میں مکمل ہوئی۔ اس فلم نے ریلیز ہونے کے بعد رامسے خاندان کے مستقبل کی راہ آسان کر دی۔ فلم نے 45 لاکھ روپے کا کاروبار کیا۔ فلم ’دو گز زمین کے نیچے‘ کے بعد رامسے بھائیوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

دیپک رامسے کہتے ہیں کہ ’اس وقت دو گز زمین کے نیچے‘ سب سے کامیاب فلموں میں سے ایک تھی جس نے رامسے بھائیوں کے لیے کھیل پلٹ کر رکھ دیا۔

’اس فلم کے بعد طے کیا گیا تھا کہ اب کسی اور قسم کی فلمیں نہیں بنائی جائیں گی۔ طے ہوا کہ صرف ہارر فلمیں ہی بنائیں گے اور فلموں کی اس قسم کو اعلیٰ مقام تک لے جائیں گے۔‘

ہارر فلموں کا آغاز

فلم ’دو گز زمین کے نیچے‘ کی غیر معمولی کامیابی کے بعد رامسے بھائیوں نے ایک کے بعد ایک ڈراؤنی فلمیں بنائیں۔ دروازہ، گیسٹ ہاوٴس، پرانا مندر، پرانی حویلی، بند دروازہ اور ویرانہ جیسی فلمیں ان میں شامل ہیں۔ 70 اور 80 کی دہائیوں میں ان کی فلمیں خوب کامیاب ہوئیں۔

کُنیکا لال نے کہا ’رامسے برادرز انڈیا کے الفریڈ ہِچکاک تھے، وہ جو فلمیں بناتے تھے اس سے ڈسٹریبیوٹرز خوب منافع کماتے تھے۔ وہ رامسے فلمیں خریدنے دوڑ کر آتے تھے کیوںکہ وہ جانتے تھے کہ ان کی فلم سے نقصان نہیں ہو گا۔‘

رامسے بھائیوں نے ہالی ووڈ سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ وہ امریکی اور اطالوی فلموں سے متاثر ہو کر کہانیوں کو انڈین ناظرین کی پسند کے مطابق دکھاتے تھے۔

دیپک رامسے کہتے ہیں کہ ’رامسے برادرز اس وقت جوان تھے۔ سبھی بھائی ہالی ووڈ کی ہارر فلموں سے متاثر تھے۔ وہ ان فلموں کو انڈین ناظرین کی پسند کے مطابق بناتے تھے اسی لیے وہ اتنے کامیاب رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فلموں کا دیگر فلموں سے مختلف مقام تھا۔‘

تلسی رامسے، نیل نتن مکیش، شیلندرا سنگھ
تلسی رامسے، نیل نتن مکیش، شیلندرا سنگھ

آرتی گپتا سوریندرناتھ ’پرانا مندر‘ کی شوٹنگ کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں: ’میں ان دنوں کیلاش ناتھ کو ڈیٹ کر رہی تھی۔ تبھی کیلاش نے قبرستان میں ایک گانا کرنے کا مشورہ دیا۔ قبرستان میں گانے کی شوٹنگ کرنا مشکل تھا۔ تبھی کیلاش نے فرح خان سے ملایا۔ فرح ان کی دوست تھیں اور اس وقت کچھ بڑا کرنا چاہتی تھیں۔ اس گانے میں آپ کو قبرستان سے ساجد خان بھوت بن کر نکلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ رامسے بھائی اتنے اچھے لوگ ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ گانا کیلاش سوریندرناتھ کا ہے۔‘

ٹیکنالوجی کی کمی

90 کی دہائی میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھنے لگا۔ آج ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ بھوت چڑیل جیسے کردار ’سپیشل ایفیکٹ‘ سے تیار کر لیے جاتے ہیں لیکن رامسے بھائیوں کے دور میں ٹیکنالوجی کا سہارا نہیں تھا۔ رامسے بھائیوں نے میک اپ اور بیک گراوٴنڈ میوزک کی مدد سے دیکھنے والوں کو ڈرایا۔

دیپک رامسے نے بتایا: ’ان دنوں نو بجے کی شفٹ کے لیے اداکاروں کو صبح 6 بجے بلایا جاتا تھا۔ 12 بجے تک میک اپ ہوتا تھا۔ 1 بجے کھانا کھاتے تھے اور پھر 2 بجے سے شوٹنگ ہوتی تھی۔‘

دیپک رامسے نے بتایا: ’خطرناک سینز کی وجہ سے ہماری فلموں کو اے سرٹیفیکیٹ ملتا تھا۔ اس لیے یہ طے کیا گیا کہ اگر فلموں میں تھوڑی احتیاط سے بولڈ سین بھی شامل کر لیے جائیں تو اس سے فلم کو فائدہ ہوگا۔ تین گھنٹے کی فلم کو بہت سوچ سمجھ کر بنانا ہوتا تھا۔ کہانی کے ساتھ فلم میں کامیڈی اور میوزک کو بھی شامل کرنا ہوتا تھا۔ پورے تین گھنٹے صرف خوفناک مناظر نہیں دکھا سکتے تھے، لوگوں کے سر میں درد ہو جاتا۔ اس لیے ہماری فلموں میں کامیڈی کا کچھ حصہ بھی ضرور ہوتا تھا۔ فلم پرانا مندر میں شولے کے گانے پر جگدیپ اور گبر سنگھ کا سین بہت مقبول ہوا تھا۔‘

دیپک رامسے

بڑے ستاروں کے بغیر فلمیں

رامسے بھائیوں کی فلموں کا بجٹ کم ہوتا تھا اس لیے فلموں میں بڑے فلمی اداکاروں کو لینے کا سوال ہی نہیں تھا۔ اے سرٹیفیکیٹ کی وجہ سے لوگ بچے اور اپنے خاندان کو لے کر سینما گھر نہیں آتے تھے۔ پھر بھی رامسے بھائیوں نے اپنی فلموں کی معاشی کامیابی کو یقینی بنا ڈالا۔

دیپک رامسے نے بتایا کہ ’اکثر ڈسٹریبیوٹر پوچھتے تھے کہ بغیر بڑے فلمی ستاروں کی فلم کے اتنے پیسے مانگ رہے ہو تو رامسے برادرز کہتے تھے کہ ہماری فلم کا ہیرو بھوت ہے۔ آپ ایک ریل دیکھنے کے بعد فیصلہ کیجیے۔ ایک ریل دیکھ کر ڈسٹریبیوٹر پوچھتے تھے کتنے پیسے لیں گے؟‘

آرتی گپتا نے بتایا: ’جب پرانا مندر بنی تو میں تھوڑا شرمندہ ہونے لگی تھی۔ میرے دوست کہتے تھے بڑی فلموں کی پیشکش چھوڑ کر یہ فلم کر رہی ہو۔ سنہ 1984 میں جب ’پرانا مندر‘ ریلیز ہوئی تو اس وقت بڑے فلمی ستاروں کی کئی فلمیں ریلیز ہوئی تھیں لیکن پرانا مندر بہت بڑی ہٹ ثابت ہوئی۔‘

ساشا رامسے اپنے والد شیام رامسے کے ساتھ
ساشا رامسے اپنے والد شیام رامسے کے ساتھ

ایک ٹیم کی طرح کام

ساتوں بھائی ایک ٹیم کی طرح کام کرتے تھے۔ انھوں نے آپس میں اپنی اپنی ذمہ داریاں تقسیم کی ہوئی تھیں۔ کہانی مکمل کرنے کے بعد پورا خاندان ایک بس میں سوار ہو کر مہابلیشور چلا جاتا تھا۔ ان کی زیادہ تر فلموں کی شوٹنگ مہابلیشور میں ہوتی تھی۔ وہاں انارکلی نام کے ایک ہوٹل میں بکنگ ہوتی تھی۔ جتنے دن شوٹنگ چلتی اس ہوٹل میں کوئی اور مہمان نہیں ٹھہرتا تھا۔

اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے دیپک نے بتایا: ’ہم نے بچپن سے دیکھا ہے کہ کس طرح کہانی پر بات کرنے سب بھائی ایک ساتھ بیٹھتے تھے۔ ہمارے ایک جونیئر رائٹر ہوتے تھے جے کے اہوجا صاحب، جن کا کہانی سنانے کا انداز بہت مختلف اور عمدہ تھا۔ وہ مختلف قسم کی آوازیں نکال کر کہانی سنایا کرتے تھے۔ اس طرح کہانی تیار ہوتی تھی۔ اس کے بعد ہم طے کرتے تھے کہ فلم کس طرح بنے گی اور شوٹنگ کیسے ہوگی۔‘

90 کی دہائی میں سرکاری چینل دوردرشن کے بعد پہلا چینل لانچ ہوا۔ رامسے کی فلمیں اے سرٹیفیکیٹ کی وجہ سے سینما گھروں میں ریلیز ہونی مشکل تھیں اس لیے رامسے بھائیوں نے زی ٹی وی کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

زی کے مالک سبھاش چندرا نے انھیں ایک ہارر شو بنانے کا موقع دے دیا۔ سبھی بھائی اس شو کو بنانے میں مصروف ہو گئے۔ تقریباً ساڑھے سات برس تک زی ٹی وی پر ان کا شو چلا جس کی 365 قسطیں بنیں۔

دیپک رامسے کہتے ہیں: ’مجھے لگتا ہے کہ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کیا گیا۔ ہم نے اپنے برانڈ کو لوگوں کے گھروں تک مفت پہنچانا شروع کر دیا تھا۔ جمعے کو رات 9 بجے ہارر شو کا تھیم میوزک بجتا تھا اور بچے چادر میں چھپ جاتے تھے لیکن شو ضرور دیکھتے تھے اور یہی رامسے بھائیوں کی فتح تھی۔ ہم نے ضرورت کے مطابق تبدیلیاں کیں، بولڈ سین نکال دیے۔ بڑے پردے سے ٹی وی پر جانے کا قدم رامسے بھائیوں کے لیے اہم موڑ لے کر آیا۔‘

بڑے پردے سے چھوٹے پردے کا رخ کرنے کے بارے میں ساشا کا کہنا ہے کہ ’میرے والد ترقی پسند خیالات کے مالک تھے۔ وہ گھر گھر تک اپنے برانڈ کو پہنچانا چاہتے تھے۔ اس لیے ٹی وی کا رخ سوچ سمجھ کر کیا جانے والا فیصلہ تھا۔ جب بھی ہارر شو آتا تھا محلے میں شو کے میوزک کی آواز گونجتی تھی کیوںکہ سبھی 80-70 گھروں میں ایک ساتھ شو دیکھا جاتا تھا جو کہ بڑی بات تھی۔‘

فلم بینر

فلموں کے اشتہار کا غیر معمولی طریقہ

آج کل اداکاروں کا اپنی فلم کے اشتہار کے لیے مختلف طریقے اختیار کرنا عام بات ہے لیکن رامسے بھائیوں نے اُس دور میں سینما گھروں میں مختلف حربے اختیار کیے۔ جب لوگ ٹکٹ لے کر اندر جاتے تو بھوت کے میک اپ میں ایک شخص ان کا ٹکٹ چیک کرنے آتا۔ فلم ’دو گز زمین کے نیچے‘ کے اشتہار کے لیے ریڈیو پر آدھے گھنٹے کا سلاٹ چلایا گیا تھا اور فلم کو ہاوٴس فل اوپننگ ملی تھی۔

تیسری نسل بھی ہارر فلموں میں

ایک بار پھر رامسے بھائیوں کے بینر کو تیسری نسل دوبارہ کھڑا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

کمار رامسے کے بیٹے گوپال رامسے اور شیام رامسے کی بیٹی نمرتا رامسے کہانیاں لکھتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور بھائی تلسی رامسے کے بیٹے دیپک رامسے ڈائریکشن کا کام کر رہے ہیں۔ ساشا رامسے بھی ایک ہدایتکار ہیں۔ سب مل کر رامسے وراثت کو آگے بڑھانے کے لیے 2021 میں 70 کی دہائی کی طرح ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

دیپک نے بتایا: ’میں نے ایک مکمل ہارر فلم بنائی جس کا نام ہے ’وہ کون تھی۔‘ نئے اداکاروں اور اچھے میوزک کے ساتھ یہ فلم بنائی گئی۔ نئے دور میں ہم نے اچھے گرافکس اور سپیشل افیکٹس کا استعمال کیا ہے، جس کی وجہ سے اب ہارر فلمیں بنانا آسان بھی ہو گیا ہے۔‘

ساشا نے بتایا کہ ’میں نے ہمیشہ اپنے پاپا کے ساتھ تخلیقی کاموں میں بطور اسسٹنٹ حصہ لیا ہے۔ جو میں نے ان سے سیکھا ہے اس کی مدد سے ہارر کی وراثت کو ضرور آگے بڑھاوٴں گی۔‘

رامسے بھائیوں میں سے ایک ایک کر کے پانچ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ کمار رامسے اور گنگو رامسے ابھی حیات ہیں اور کافی بوڑھے ہو چکے ہیں۔

دیپک رامسے نے بتایا: ’بچپن میں پاپا اور چاچا ہمیں میک اپ کرتے ہوئے فنکار کو نہیں دیکھنے دیتے تھے۔ اچانک اس بھوت کے سامنے ہمیں کھڑا کر دیتے تھے۔ ہمارے چہرے کے تاثرات کو پڑھ کر وہ اندازہ لگایا کرتے تھے کہ ان کا بھوت کتنا ڈراؤنا لگ رہا ہے۔‘

ساشا ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’میں اپنی فلموں کے ٹرائل شو دیکھتی تھی۔ میں اپنے پاپا شیام رامسے کے ساتھ ایڈٹ پر جاتی تھی۔ بھوت کی ڈبنگ کے لیے جب آرٹسٹ آ کر ڈراؤنی آواز نکالتے تھے تو بہت مزہ آتا تھا۔‘

دیپک رامسے کی ہارر فلم ’وہ کون تھی‘ کی ریلیز کے بعد پتا چلے گا کہ نئی نسل کے یہ فلمساز رامسے برادرز کی وراثت کو کس مقام تک لے جا سکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17383 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp