سیاسی جماعتوں کی سیاسی لڑائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا اقتدار کی جنگ کے لیے ایک بار نہیں بلکہ پچھلے 45 سال سے سیاسی علمبرداری کی خاطر عوام کی زندگیوں کو پریشان کرنے اور مسائل کے انبار لگا کر اس کی کوئی بھی جدوجہد جس میں سیاسی جماعتوں کا اقتدار کی جنگ کے علاوہ ان پریشانیوں کی کوئی حیثیت نہیں جس کی وجہ سیاست دانوں کا اپس میں سیاسی جماعتوں کوحیثیت دینا اور اقتدار کی لالچ میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ہے۔

پاکستان کی ترقی میں ہمیشہ پیچھے رہنے کی وجہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور آپس کے شدید اختلافات اور پیچیدگی ہے جو کہ وزیراعظم عمران خان اپنی اس حکومت میں چوروں کے ٹولیوں کو ہر صورت سزا دینے اور ملک کی لوٹی ہوئی رقم کا واپس لانے کے لیے ایک بار پھر سے متحرک اور تیار اور مضبوطی سے اپوزیشن کے ساتھ سیاسی لڑائی اور کشیدگی میں اگے اگے ہیں

جس کی مثال اج کی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کا آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ اوڑھے ہوئے اور عوام کی نمائندگی سے بالکل قاثر اور لاپرواہی کی مثال ہیں۔ ایک طرف حکومت کے مترجم نمائندوں کا ہر وقت اپوزیشن پر کرپشن اور غداریوں کے مقدمات اور بیانات پر صرف ہوتا ہے اور دوسری جانب اپوزیشن حکومت کو چور اور کرپٹ کے نعروں کی گونج لیے ہوئے ہیں۔ لیکن اخر کار عوام کا کوئی پوچھنے والا نہیں اور نہ ہی سیاسی جماعتیں ابھی اس وقت فارغ کہ اپنی کشیدگیاں اور لڑائی میں عوام کا حال جانیں۔

یہ بھی دیکھا ہے کہ عمران خان ترجمانوں کا اجلاس بھی باقاعدگی سے کیسے کرتے ہیں۔ اور اس اجلاس میں حکومت اور تحریک انصاف کے سیاسی بیانیہ پر کھل کر بات ہوتی ہے۔ بدلتے سیاسی حالات کے مطابق بیانیہ کو ڈھالنے پر بھی بات ہوتی ہے۔ حکومت کی کارکردگی کو اجاگر کرنے اور اپوزیشن کے بیانیہ کو شکست دینے کی حکمت عملی پر بھی بات ہوتی ہے۔ پرانی حکمت عملی کے نتائج کو بھی دیکھا جاتا ہے اور نتائج کی روشنی میں نئی حکمت عملی بنائی جاتی ہے۔

اس لیے یہ کہنا کہ موجودہ حکو مت کی میڈیا پر توجہ نہیں ہے، غلط ہے۔ بلکہ سب سے زیادہ توجہ میڈیا پر ہے۔ اسی لیے وفاقی وزیر اطلاعات کا کام سب سے مشکل ہے۔ وہ ہر وقت کٹہرے میں ہی کھڑے نظر آتے ہیں۔ کوئی اور کام کرے یا نہ کرے لیکن اسے اپنا کام پورا کرنا ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت کے پہلے دو سال حکومت کی سیاسی طور پر اپوزیشن پر چڑھائی تھی۔ تحریک انصاف بھی سیاسی طور پر اپوزیشن پر حاوی تھی۔ اپوزیشن کے بڑے لیڈر نیب کے شکنجے میں تھے۔ ساتھ ساتھ اپوزیشن تقسیم بھی تھی۔ نہ کوئی پی ڈی ایم تھا اور نہ ہی اپوزیشن کا کوئی اتحاد تھا۔ اس لیے حکومت اور تحریک انصاف کے پاس کھلا میدان تھا اور تحریک انصاف کے پاس میڈیا میں بھی کھلا میدان تھا۔ جیسے مرضی اور جتنا مرضی کھیلیں نہ کوئی جواب دینے والا تھا اور نہ کوئی سوال کرنے والا۔

اگر وزیراعظم عمران خان کے ساتھ وعدہ وفا ہوتا تو اج پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی لڑائی اور کشیدگی میں اضافہ نہ ہونے کو ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد عیسیٰ ترین کی دیگر تحریریں