گاڑی کی خواری اور سری لنکن مکینک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کینیڈا آنے کے بعد قریب آٹھ ماہ کا عرصہ، ہر طرح اور ہر طرز کی پبلک ٹرانسپورٹ کی زیارت میں گزرا۔ اس کے ساتھ میٹھے کے طور پر اتنا پیدل سفر شامل تھا جو اگر ناک کی سیدھ میں کیا جاتا تو پاکستان نا سہی، یورپ تک جا ہی پہنچتے۔ اس سب میں قصور نا اس ملک کا تھا نا ہی ہمارا کہ کینیڈا میں اگر آپ شہر کے مرکزی علاقے سے باہر رہتے ہیں تو اپنی سواری کا شمار لگثری نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضروریات میں کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے نوجوانوں اور نوکری پیشہ افراد کی زیادہ تعداد، ڈاؤن ٹاؤن یا اس کے قریبی علاقوں میں رہنے کو ترجیح دیتی ہے جہاں ہر پانچ منٹ پر گزرنے والی زیر زمین ٹرینوں کے جال بچھے ہیں، جس کی بنا پر سفر اپنی گاڑی سے زیادہ باسہولت اور تیزرفتاری سے طے ہو جاتا ہے۔
خیر پردیس سدھارنے سے پہلے ساری عمر باہر سے آئے عزیزوں اور دوستوں سے یہی قصے سنتے گزری تھی کہ مغرب میں بینک ادھار دینے کو ترستا ہے۔ گھر ہو یا گاڑی، فون چاہیے یا فرنیچر آپ فرمائش کر دیں چیز حاضر۔ اسی امید پر آتے ہی ایک پچیس ہزار ڈالر کی گاڑی پسند کی اور شو روم جا کر کار فنانس کی درخواست جمع کروا آئے۔ جو ہمارے معروضی حالات کی بنا پر فوراً مسترد کر دی گئی۔ اب ہوتا یہ ہے کہ بینک واقعی گھر، گاڑی یا کاروبار کے لیے قرض دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوتے، مگر اس کہ لیے آپ کا اچھا کریڈٹ سکور اور لمبی کریڈٹ ہسٹری ہونا لازم ہے، سمجھیے کہ بینک ایک عرصہ تک آپ کی آمدن، کریڈٹ کارڈ سے خرچ کی جانے والی رقم اور پھر اس کی بروقت ادائیگی کے لحاظ سے ایک سکور بناتا ہے جو ظاہر ہے مالی بہتری یا بے ضابطگی کی بنیاد پر اوپر نیچے ہو سکتا ہے۔
ہم تو ابھی کینیڈا ہی حال میں پہنچے تھے تو ادھار لینے دینے کی تاریخ کہاں سے لاتے۔ اب فیصلہ ہوا کہ انتہائی محدود بجٹ میں کیش پر گاڑی خریدی جائے۔ ایسے میں ہمارے نئے نویلے دوست رضوان بھائی نے محاذ سنبھالا اور اپنے ایک واقف وکی بھائی کی گاڑی جو شاید دو ہزار ڈالر میں بکنے کو تیار تھی، کی تصاویر منگوا ڈالی۔ اب گھر میں دو چار روز وکی بھائی کا ڈنکا بجا اور ان کی آٹھ سال پرانی گاڑی کی تصاویر بچوں بڑوں میں خوب مقبول رہیں۔ میں بھی زبان سے تو کچھ نا کہتا مگر ہر رات سب سے چھپ کر ایک آدھ بار ان تصویروں کے تصور میں کھو جاتا کہ چلو آج نہیں تو اسے اپنا بننا ہی ہے۔
اسی انتظار میں ایک دن خبر آئی کہ وکی بھائی نے اپنی گاڑی کی ڈولی اٹھانے سے انکار کر دیا ہے۔ خیر رشتہ ٹھکرائے جانے کے سہ روزہ سوگ سے نکلنے کے بعد تلاش کا ایک نیا سفر شروع ہوا جو ایک نسبتاً نئی اور دوگنا مہنگی گاڑی پر تمام ہوا۔ باقی ماندہ پیسوں کا انتظام، کینیڈا ہی میں مقیم جگری دوست نوید نے کیا اور ایک دن ہم گاڑی کا معائنہ کرنے پہنچ گئے۔ اس مقصد کے لیے ہماری طرف سے دو سیانے مقرر ہوئے جن میں ہمارے ڈرائیونگ ٹیچر سمیت ایک اور دوست ولید، جس پر بھروسے کی واحد وجہ یہ تھی کہ ہم سے پہلے ایک سیکنڈ ہینڈ گاڑی خرید چکا تھا دونوں کو ساتھ لے کر چلے۔ گاڑی بیچنے والا کوئی ہندوستانی طالب علم تھا جو ڈاؤن ٹاؤن شفٹ اور وہاں پارکنگ مہیا نا ہونے کی باعث گاڑی کو فوری اور کم قیمت پر فروخت کر رہا تھا۔
گاڑی بھی دکھنے میں انتہائی شاندار اور خوبصورت، سیلف سٹارٹ، سن روف، لیدر سیٹس اور کیمرہ وغیرہ سے لیس تھی باقی تکنیکی معاملات اور ٹیسٹ ڈرائیو کی ذمہ داری ساتھ آئے ماہرین کی تھی جن کے ہاں کرنے پر گاڑی خرید لی گئی اور ہم لہلہاتے اپنی نئی سواری میں گھر کی جانب روانہ ہوئے۔ سچ پوچھیں تو راستے میں جب بھی زرا رفتار بڑھانے کی کوشش کی تو گاڑی نے تکلف ہی برتا، ایک وہم سا گزرا مگر دل مضبوط کر کے چلاتے رہے۔ گھر میں خوشی کا ماحول تھا کہ چلیں سواری یافتہ تو ہوئے۔ اس لیے کوئی بد شگونی کی بات نا کرنا چاہتے اور نا سوچنا۔ اب ایسا ہوا کہ ایک دو روز گزرے تو یکدم گاڑی کی طبیعت مزید بگڑنا شروع ہو گئی۔ کبھی انجن چلتے چلتے زرا جھٹکا کھاتا کبھی ریس پر پیر دیتے تو بجائے چلنے کے گاڑی بے جان سی ہو جاتی۔ ایک آدھ مکینک کو دکھایا مگر اس کی سمجھ میں بھی وجہ نا آئی۔ جس سے گاڑی خریدی تھی، اسے کال ملائی مگر اس نے بھی گاڑی کے کردار کی قسمیں اٹھائیں۔ یہ الگ بات کہ اس کی حالت روز بروز بگڑتی جا رہی تھی۔
گاڑی خریدنے کے کوئی دو ہفتوں بعد گھر سے کوئی چالیس پچاس میل دور کا سفر درپیش تھا اور راستے میں انتہائی شدید برف باری شروع۔ اتنے میں عین ہائی وے پر گاڑی کے ہر حصے سے چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگی اور جہاں کم از کم رفتار سو کلومیٹر ہونا چاہئے ہم چالیس کی رفتار سے آگے نا بڑھ پا رہے تھے، ایک تو موسم خراب، مزید دائیں بائیں سے ٹرک اور کاریں تیزی سے ہارن بجاتی گزر جاتی اور اب گاڑی سے زیادہ حادثے سے بچنے کی پریشانی۔ اسی عالم میں گاڑی کو ہائی وے سے اتار ایک مارکیٹ کی پارکنگ میں روکا اور ہر طرح کی کوشش، منت سماجت کر کے دیکھ لیا مگر اس نے ایک نا سنی۔ رات ہو چکی تھی، اور اپنے شہر سے بھی دور تھے تو چاروناچار اسے وہیں کھڑا کیا اور ٹیکسی کروا کر گھر روانہ ہوئے۔ اگلے روز جب محترمہ کو ٹرک پر لاد کر ایک مکینک تک پہنچایا تو پتہ لگا کہ ٹرانسمیشن یعنی گیئر باکس فیل ہو چکا ہے اور نئے پرزوں کی قیمت چار ہزار ڈالر ہو گی جو کہ گاڑی کہ قیمت خرید سے بھی دو سو ڈالر زیادہ تھی۔ اپنی جمع پونجی اور نوید سے لیا ادھار سب تو گاڑی خریدنے میں خرچ ہو چکا تھا اس لیے مکینک کی منت سماجت کر کے گاڑی وہیں چھوڑی اور سوچنے کا وقت لے کر گھر لوٹ آئے۔
یقین مانیں لٹ جانے کا اصل مطلب اس دن سمجھ آیا۔ کہ اس پہلے جو نقصان ہوتے تھے اس کے ازالہ کا کوئی ذریعہ کر لیتے مگر ایک تو پردیس اور پھر نووارد۔ اور کچھ سمجھ نا آیا تو پہلے تو جس ہندوستانی طالب علم سے گاڑی خریدی تھی اسے فون پر جی بھر کے کوسا، اور ہر طرح کی بددعا دے ڈالی۔ پھر پولیس کے پاس پہنچے کہ شاید پیسوں کی بھرپائی کا طریقہ نکلے، تو پتا لگا کہ وہ پرائیویٹ خرید و فروخت میں وہ اس طرح دخل اندازی نہیں کر سکتے کہ گاڑی تو کبھی بھی خراب ہو سکتی۔ ہر طرح سے ناکامی کے بعد آخر ایک سری لنکن مکینک کا پتہ پایا جس نے انہی پرزوں کو شاید دو ہزار ڈالر کے عوض ٹھیک کرنے کی حامی بھری۔ مگر اس نے بھی آپریشن سے پہلے سنا دیا کہ اس طرح کی سرجری پہلی بار کر رہا ہے آگے ہماری قسمت۔
اس سارے عمل میں ایک طرف تو وہ بد دیانت تھا جس نے جانتے بوجھتے ایک خراب چیز کو ہمارے پلے باندھا، دوسری طرف اللہ کی مہربانی سے ایسے اچھے لوگ بھی عطا کیے کہ نوید نے فوراً اپنی رقم کو قرض حسنہ بلکہ ” قرض ہنسنا” میں بدل ڈالا اور دوسری طرف وہی نئے نویلے دوست رضواں بھائی کسی بہانے سے گھر آ کر، میرے ہزار انکار کے بعد بھی ایک ہزار ڈالر جیب میں ڈال گئے کہ واپسی کا مت سوچنا بس یہ تحفہ ہے اور اپنی گاڑی ٹھیک کراؤ۔ ان کے پیسے تو ایک دن واپس کر پایا مگر اس پیار اور احساس کا قرض کیسے واپس ہو سکتا ہے جب کوئی پردیس میں آپ کا سہارا بن جائے۔
خیر ہماری گاڑی شاید مرزا کی بائیسکل کی نسل سے تھی کہ دو کی بجائے ڈھائی ہزار لگ گئے مگر گاڑی کے طور اطوار ڈھیلے ہی رہے۔ اب کبھی چلتے چلتے رک جانا، رکے ہوئے ریس کا بڑھ جانا کبھی کوئی تار تو کبھی اے سی، یعنی یہ معاملہ اتنا بڑھا کہ وہ شوتی نامی سری لنکن مکینک ہمارا تیسرا بہترین دوست ٹھہرا کہ کام پر جانے سے پہلے یا بعد ہم اسی کے پاس پائے جاتے۔ کبھی وہ ہمیں کھانا کھلاتا کبھی ہم سے سگریٹ کے کش لگاتا، اس دوران اگر فل نہیں تو ہاف مکینک تو بن ہی گئے تھے کہ شوتی ہم سے ایسی تکنیکی گپ لگتا جیسے کوئی استاد اپنے چھوٹے سے۔ ایک آدھ بار جھجھکتے ہوئے بولا بھی کہ ‘مین؛ یو نو ورک، یو کم شوتی شاپ’ (کبھی کام نا ملا تو ادھر آ جانا)۔ خیر، شوتی بھلا آدمی تھا کہ پہلی دفعہ کے بعد کبھی پیسوں کا تقاضا نا کیا، البتہ ایک روز ہماری گاڑی ٹھیک کرنے کی ستائیسویں کوشش کہ بعد تھک کہ کہہ دیا کہ اس کے دیوی دیوتاؤں کی مطابق اس گاڑی کا رنگ میرے موافق نہیں اور اسے بیچ دینا ہی واحد حل ہے۔۔
ہم بھی جب تک اپنی گاڑی کی بد اخلاقی اور احسان فراموشی سے تنگ آ چکے تھے کہ اس کے تقریباً ہر بدل جا سکنے والے پرزے کو بدلوا چکے تھے، مگر اس نے جواب میں ہمارا دل ہی جلایا۔ قصہ تمام ایسے ہوا کہ ایک روز وہ گاڑی جس پر تقریباً پینسٹھ سو ڈالر کی لاگت آ چکی تھی اسے پندرہ سو ڈالر میں ایک ڈیلر کے حوالے کر کے دوسری گاڑی لے آیا۔ شکر خدا کا کہ نئی آنے والی خاندانی اور باکردار نکلی، اور ہماری اچھی نبھ رہی ہے۔ مگر اس نے مجھ سے میرا تیسرا بہترین دوست اور مکینک شوتی چھین لیا ہے۔۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).