31 جنوری کے بعد فیصلہ ہو گا کہ لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف کرنا ہے یا راولپنڈی: مولانا فضل الرحمان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ تمام استعفے پارٹی قائدین کے پاس پہنچ چکے اور ایک ہدف حاصل ہو چکا ہے۔ حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دے رہے ہیں۔  اگرمستعفی نہ ہوئی تو لانگ مارچ ہو گا۔ 31 جنوری کے بعد لانگ مارچ کے رخ اور تاریخ کا فیصلہ کیا جائے گا کہ ہم نے لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف کرنا ہے یا راولپنڈی کی طرف۔

لاہور میں پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے بعد میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم کا اجلاس نہایت خوشگوار ماحول میں ہوا۔  جس میں مختلف معاملات پرگفتگو کی گئی۔ تمام جماعتوں نے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ میڈیا پر پی ڈی ایم کےاختلافات کی خبریں چلائی جاتی ہیں۔  آج کے اجلاس کے بعد پی ڈی ایم میں اختلافات کی خبریں دم توڑ چکی ہیں۔ آج پی ڈی ایم پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ حکومت سے نجات کے لئے پی ڈی ایم پہلے سے زیادہ پرعزم ہے۔ میڈ یا سے گزارش کروں گا کہ جمہوریت کے لیے اٹھنے والی آواز کو قوم تک پوری طاقت کے ساتھ پہنچائے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس ایک مہینے کی مہلت ہے اس کے بعد لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔ تمام جماعتیں متفق ہیں کہ ہم نےتحریک کا رخ صرف ایک مہرےکی طرف نہیں موڑنا۔ نیب کا ادارہ صرف اپوزیشن کے خلاف بنایا گیا ہے۔ خواجہ آصف کی گرفتاری کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ یہ احتساب نہیں بلکہ انتقام ہے۔ انتقام کے سلسلے کو بند ہونا چاہیے کیونکہ اسے مہرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ پی ڈی ایم قیادت اس بات پر متفق ہے کہ پاکستان کو ڈیپ سٹیٹ بنا کر اسٹیبلشمنٹ نے پورے نظام کو یرغمال بنا لیا ہے۔ عمران خان صرف ایک مہرہ ہے۔ دھاندلی کرنے والوں پر تنقید ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے پی ڈی ایم مظاہرہ کرے گی اور نیب دفاتر کے سامنے بھی مظاہرے کرنے کا شیڈول طے کیا جا ر ہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کل محمد علی درانی بغیر کسی پروگرام کے ملاقات کے لیے آئے اور نیشنل ڈائیلاگ کا فلسفہ بیان کیا۔ اِنہیں واضح کر دیا کہ قومی ڈائیلاگ خارج از امکان ہے اور بات ختم ہو گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •