دو ہزار بیس کی جھلکیاں اور نئی امیدیں



نہ کوئی غم کا لمحہ کسی کے پاس آئے
خدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے

کیلینڈر کی تاریخ بدلنے سے لوگوں میں نئی امید کی لہر دوڑ گئی ہے جس کا اظہار ہر جگہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یوں جیسے بس تھک چکے ہیں خوف کی لہروں سے۔ جانے یہ بدلتے ہندسے وقت کی مانگ میں امن کے موتی پرو دیں اور گزرے سال کے خساروں کا مداوا ہو سکے۔ اور یہ نئے ہندسے کچھ اچھا ہونے کا پیغام سنا دیں۔ ڈوبتے مستقبل کے اندیشوں سے روشنی کی کرنیں پھوٹ پڑیں۔ اور ملک کے خساروں اور سیاسی جنگوں سے امن کے پیغام ملیں۔

گزرے سال پہ اک نظر دوڑائیں تو اس میں بس اندھیرا ہی نظر آ تا ہے۔ کورونا ایسی وبا ثابت ہوئی جس نے سب نظام زندگی درہم برہم کر دیا۔ سب لوگ گھروں میں بند ہو کر رہ گئے۔ تعلیمی ادارے بند ہونے سے بچوں کے مستقبل کے خدشات سر اٹھانے لگے۔ آن لائن کلاسز ہونے لگی اور دفاتر کا بھی کچھ ایسا ہی سلسلہ رہا۔ مگر جو بھی ہوا نقصان کا ازالہ کرنے کی اپنی سی کوشش بھی تو کی گئی۔

اور تو اس گزرے سال کی درد ناک بات یہ تھی کہ طواف کعبہ بھی روک دیا گیا۔ یہ سب مسلمانوں کے لیے بڑا تکلیف دہ تجربہ تھا۔ پھر مساجد میں بھی پابندی، عبادات بھی محدود ہو گئیں ۔ اس وبا کے نہایت سنگین اثرات مرتب ہوئے اور لگتا ایسا ہے اس دھچکے کے دنیا پر اثرات مزید کئی برس رہیں گے۔ حالات بہتری کی طرف آنے میں وقت لیں گے۔

معیشت بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ اور ہر طرح کا کاروبار مندے میں ہے۔ وہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ہوں یا ائیر لائنز سب کا نظام سب درہم برہم ہے۔  سیاحت جو آمدنی کا بہترین ذریعہ تھی وہ بھی ٹھپ ہو کر رہ گئی۔ وہ لوگ جو دن کو محنت سے کما کر رات کو گھر کمائی لے کر جاتے تھے ان کا کتنا نقصان ہوا۔

معاشرتی پہلو دیکھا جائے تو بیماری کے خوف کی وجہ سے لوگ اپنے پیاروں سے دور رہنے پر مجبور رہے۔ راہ چلتے کسی کو کھانسی آ جائے تو لوگ پریشان ہو کر اس سے فاصلہ کر لیتے ہیں۔ اگر کوئی اپنا بیمار ہو گیا تو وہم ستانے لگے اس کو کہیں کورونا تو نہیں ہو گیا۔ یہ دو ہزار بیس بہت سے پیاروں کو چھین کر لے گیا لیکن اب ذرا امید جاگی ہے کہ اس وبا کی ویکسین تیار ہو چکی ہے جو ترقی یافتہ ممالک میں استعمال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اب ہم اس کے انتظار میں ہیں۔

سیاسی پہلو سے دیکھا جائے تو پیارے خان صاحب سے جو امیدیں وابستہ تھیںم افسوس کہ وہ چکنا چور ہو گئی۔ یہ کہنا غلط نہیں کہ عوام کا معیار زندگی بہتر ہونے کی بجائے پہلے سے بھی بدتر ہو گیا۔ نئی ملازمتیں تو درکنار ساٹھ لاکھ کے قریب برسر ملازمت لوگ بھی بے روزگاروں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ خان صاحب آپ کا جو جنون تھا وہ اب کہاں گیا؟ گزشتہ سارا عرصہ حکومت کی جانب سے بس یہی دہائی سننے کو ملتی رہی کہ پچھلی حکومتیں لوٹ کر لے گئیں۔ دیکھا جائے تو آج تک کوئی حکومت ایسی نہیں آئی جس نے کہا ہو کہ جانے والے آسانیاں چھوڑ کر گئے یا ملک انہیں بہتر حالت میں ملا۔

بس احتساب کے نام واویلا سننے کو ملتا رہا۔ سارا سال اپوزیشن نے بھی سوائے حساب برابر کرنے کی ناکام کوشش کے کوئی سنجیدہ بات نہیں کی۔ اس سال اپوزیشن جماعتوں نے پی ڈی ایم کے نام سے ایک اتحاد تشکیل دیا جس کا بنیادی مقصد حکومت کو رخصت کرنا ہے۔ اس میں بھی عوام کی بھلائی کا پہلو نظر نہیں آتا۔ ذاتی ایجنڈے کو پس پشت ڈال کر عوام کی حالت بہتر بنانا حکومت اور حزب اختلاف کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔

بس ذرا سی الفاظ کی ترتیب بدلی ہے ، ابھی ہم اور ہمارے حالات نہیں بدلے ہیں۔ کورونا کا خوف ابھی بھی باقی ہے۔ احتیاط کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ معیشت کا حال بھی چند دنوں میں بدلنے والا نہیں ہے۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں لفظوں کی سرد جنگ بھی جاری ہے۔ اگر یہ اقتدار کی جنگ ختم ہو جائے تو حالات بہتری کی طرف آ سکتے ہیں۔

نئے سال کا آغاز ہو چکا۔ ہم اس سے بہت سی امیدیں وابستہ کر چکے ہیں اور سب اچھا ہونے کا گمان کیے آگے بڑھ رہے ہیں لیکن آ نے والے کل کا علم تو اس رب کے پاس ہے۔ جس کے ایک ”کن“ کہنے سے کائنات میں وقت کا پہیہ گردش کرتا ہے۔

کچھ کہا نہیں جا سکتا یہ بدلتے نمبر ہمارے لیے نیا پن اور خوشیاں لے کر آئے ہیں یا ہمارے حالات بدستور پہلے جیسے ہی رہیں گے۔ ہمیں خود کو ہر طرح کے حالات کے لیے تیار کرنا ہو گا۔ دل میں اچھی امید کی شمع روشن کرتے ہوئے تاریک حقائق کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ حقیقت سے منہ موڑ کر درپیش حالات سے چھٹکارا نہیں ملا کرتا۔

Facebook Comments HS