ایک عام سا شخص

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ ایک عام سا شخص تھا، اس میں ایسی کوئی بات بھی نہیں تھی جو اسے خاص بناتی۔ پھر بھی ہر شام جب میں آفس سے واپس آتا تو میری نظر خود بخود اس کے کمرے کی جانب اٹھتی جہاں سے کمرے کی کھڑکی اور کچن کے ویکیوم فین سے چھن چھن روشنی باہر آتے دیکھ کر مجھے اس کی موجودگی کا پتہ چلتا۔

میری اس سے پہلی ملاقات ہوئی تو گرمیوں کا موسم شروع ہو چکا تھا، میں آفس سے اپنے کمرے میں آ کر تپتے ہوئے چپس کے فرش کو ٹھنڈا کرنے کے لیے پانی سے دھونے کے بعد فرش کو وائپر سے سکھا رہا تھا کہ وہ دروازے پر اچانک نمودار ہو کر بولا ”ہیلو“ ، اس نے اپنا ہاتھ ملانے کو بڑھایا، میں نے اپنے گیلے ہاتھ کو اس کے ہاتھ میں دے دیا، ”میں پہلی سے اس ساتھ والے کمرے میں منتقل ہونے لگا ہوں“۔ ”رائیٹ“ میں نے کہا۔ ”سنا ہے پانی کے اوقات ہیں یہاں، میں اس لڑکے کے ساتھ اپنا پانی کا حمام رکھوانے آیا تھا باتھ روم میں“۔

دروازے کے باہر ایک اٹھارہ انیس سال کا لڑکا سائیکل کے کیرئیر پر رسی سے بندھا ایک پرانا حمام لیے کھڑا میری طرف مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔ پھر میرے کمرے کی دیوار کی طرف دیکھ کر وہ بولا ”سنا ہے کہ برسات میں ساتھ والے پرنالے سے بارش کا پانی اوور فلو ہو کر کمروں میں داخل ہوتا ہے تو یہاں یہاں تک پہنچ جاتا ہے۔“ اس نے میرے کمرے کی سفید دیوار پر گرد کی ایک باریک مگر بالکل سیدھی لکیر کی طرف اپنی انگلی سے نشاندہی کی جو چھت سے تقریباً دو فٹ نیچے تھی۔ اس سے پہلے میں نے اس باریک لکیر کو کبھی توجہ سے نہیں دیکھا تھا۔ ”اچھا پھر ملاقات ہو گی اگلے ہفتے۔“ یہ کہہ کر وہ سائیکل والے کے ساتھ چلتا بنا۔ اس کے جانے کے بعد میں نے کمرے کی دیوار پر اس نشان کی طرف دوبارہ دیکھا۔

میرا معمول تھا کہ روزانہ کام کے بعد میں آرام سے اپنا دروازہ کھول کر اندر آتا، بتی اور پنکھا آن کرتا، ٹائی اور شرٹ اتار کر بستر پر پھینکتا اور اپنے پیروں میں سلیپر پہن کے کمرے سے ملحق کچن میں جا کر چولہا جلاتا اور پین میں چائے کا پانی ڈال کر ابلنے کو رکھ دیتا۔ اس کے بعد باتھ روم جا کر منہ ہاتھ دھوتا۔ میرے واپس آنے تک پانی کو جوش آ چکا ہوتا اور میں اس میں پتی اور دودھ ڈال کر ابلنے کا انتظار کر رہا ہوتا کہ دروازے پر دستک ہوتی۔ میرے جواب دیے بغیر وہ اندر آ وارد ہوتا۔ ”کیسے ہو؟“ وہ میرے بستر پہ بیٹھتے ہوئے پوچھتا۔ ”خدایا کتنی چڑ ہے مجھے ان رسمی جملوں سے۔“ میں دل میں کہتا۔

میں اپنا چائے کا مگ لے کر آتا اور کرسی پر بیٹھ کر بستر پر ٹانگیں پسار دیتا جہاں وہ بیٹھا میری کسی کتاب کو اٹھا کر الٹ پلٹ کر رہا ہوتا۔ ”یہ انگلش پیشنٹ پڑھ رہے ہو آج کل؟“ میں گرما گرم چائے کا ایک گھونٹ بھرتا۔ ”بڑی مشکل کتابیں پڑھتے ہو تم، یہ بڑی اچھی عادت ہے تمھاری“۔ اور میں اپنی چائے پیتا رہتا۔ ”اچھا اب میں چلتا ہوں، تائی اماں کی طرف کھانے کو“۔ اس کی تائی اماں کا گھر دو گلی چھوڑ کر بائیں ہاتھ کو تھا۔ اسی دوران میں اٹھ کر کچن سنک کی طرف جاتا اور اپنا کپ اور چائے کا پین دھونے لگتا کہ وہ کہتا ”آج رات لولی ووڈ ٹاپ 10 بھی ہے، عفت عمر آئے گی، میں وہ دیکھ کر آؤں گا۔ اچھا تو پھر ملاقات ہو گی۔“ یہ کہہ کر وہ چلا جاتا۔ وہ لولی ووڈ گانوں کا نہیں بلکہ عفت عمر کا فین تھا۔

ایسا کچھ معمول سا بننا شروع ہو گیا تھا۔ مجھے اس کی یہ مداخلت اور بن بلائے آ دھمکنے کی عادت پسند نہ تھی۔ ایک شام جب میں کھانے کے لئے اپنی پلیٹ میں دال چاول ڈال رہا تھا کہ پھر میرے دروازے پر دستک ہوئی۔ میرے ”کون ہے؟“ کہے بغیر وہ اندر آ گیا۔ میں اپنی پلیٹ لئے ہوئے کرسی پر بیٹھے کھانا کھانے لگا۔ ”کھانا پکا لیتے ہو؟“ اس نے کہا۔ ”کھاؤ گے؟“ میں نے اس کی جانب نظر کیے بغیر پوچھا۔ ”نہیں میں تائی اماں کی طرف کھاتا ہوں۔“

میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور اپنے کھانے میں مگن رہا۔ اس نے مجھے کھاتے چھوڑ کر کچن کاؤنٹر پر دھرا میرا واک مین اٹھایا اور ہیڈ سیٹ کانوں پہ لگائے کچھ دیر گانا سننے کے بعد بولا۔ ”بڑی یونیک چوائس ہے تمھاری، میں نے اس سے پہلے نہیں سنا یہ گانا“۔ میں اپنی جگہ سے اٹھا اور کچن میں جا کر مزید کھانا اپنی پلیٹ میں ڈالنے لگا۔ ”تمہیں نیرہ نور کی آواز کیسی لگتی ہے؟“ ”کچھ خاص نہیں“۔ میں نے کہا۔ ”بہت بے ہودہ انسان ہو تم۔

” اس نے بے ساختہ جیسے منہ میں آیا ویسے بک دیا کہ مصداق یہ بات کہہ دی۔ ایک لحظے کو میرے دل میں آیا کہ میں ایسا کہنے پر اسے کمرے سے دفع ہو جانے کا حکم دوں۔ وہ کون ہوتا مجھے بیہودہ کہنے والا اور مجھ سے اتنی بے تکلفی کب سے؟“ تمہیں گلوکاروں میں سب سے زیادہ کس کی آواز پسند ہے؟ ”میں خاموش رہا اور کرسی پر واپس آ کر کھانا کھانے لگا، وہ بھی خاموش ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد میں نے کہا“ رونا لیلی ”۔“ تمھیں نیرہ نور کی آواز کیوں نہیں پسند؟ ”

اس نے جیسے ایک بچے کی طرح ضد پکڑتے ہوئے اپنا سوال دہرایا۔ ”رونا کی آواز میں ہر طرح کا ایکسپریشن اور ورائٹی ہے۔ وہ کیفیت کو طاری کر کے گیت گاتی ہے، جیسے کہ وہ گیت اس پر فلمایا جا رہا ہے۔“ میں نے جیسے اسے سمجھاتے ہوئے بتایا۔ یہ اب تک ہمارے درمیان ہونے والی بات چیت میں سب سے لمبا جواب تھا جو میں نے دیا۔ پھر وہ جیسے کسی سوچ میں چلا گیا تھا۔ ”اور نصرت فتح علی خان؟ سانسوں کی مالا میں سمروں میں پی کا نام“ وہ بولا۔

”مجھے نصرت فتح کی آواز بالکل پسند نہیں ہے، اونچے سروں جب وہ گاتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے رات میں بہت سی بلیاں لڑ رہی ہوں“ ، میں نے پلیٹ سے چاول کا آخری دانہ صاف کرتے ہوئے کہا۔ حیرت سے اس کا منہ ایسا کھل گیا جیسے کہ میں نے اس کے کسی مقدس دیوتا کی شان میں گستاخی کی ہو۔ ”تم بہت کمینے ہو“ وہ بولا۔ اس بار مجھے اپنے اندر اس کی اس گستاخی کا کوئی خاطر خواہ ردعمل محسوس نہیں ہوا۔ ”اب تمہیں اپنی تائی اماں کی طرف جانا چاہیے، کھانے پر تمھارا انتظار ہو رہا ہو گا“۔ ”ہاں اب مجھے چلنا چاہیے“۔ اس نے پشاوری چپلوں میں پاؤں ٹھونسے اور کمرے سے نکل گیا۔ دھیرے دھیرے اس کی بے جا آمد و رفت کا میں عادی ہونے لگا تھا۔

ایک شام وہ میرے کمرے میں آیا اور کہنے لگا کہ وہ آئی سی آئی کے آڈٹ پر دو ہفتے کے لئے کھیوڑہ جا رہا ہے۔ اس نے اپنی جیب سے چابیاں نکالیں۔ ”یہ رکھ لو!“ چابیاں بڑھاتے ہوئے اس نے کہا۔ ”کس لئے؟“ میں نے لا تعلقی سے پوچھا۔ ”ایسے ہی، کسی چیز کی ضرورت پڑے شاید“۔ میں نے اسی لاتعلقی سے اس کے کمرے کی چابیاں لے کچن کاوئنڑ پہ رکھ دیں۔ ”تو پھر میں جا رہا ہوں“۔ وہ تھوڑی دیر کھڑا رہا اس امید پہ کہ میں کچھ بولوں گا، تھوڑے سے توقف کے بعد وہ دروازہ کھول کر باہر چلا گیا۔

اگلی شام جب میں کام سے واپس آیا تو اس کے کمرے سے گھپ اندھیرا باہر آ رہا تھا۔ میں اپنے کمرے میں آیا۔ چائے پی کر اور کھانا کھا کے بستر پہ دراز ہو کر سرہانے رکھی خوشونت سنگھ کی ”ٹرین ٹو پاکستان“ پڑھنے لگا۔ بمشکل دو چار لائنیں بار بار پڑھنے کی کوشش کی پر ذہن کہانی سے باہر کہیں اور تھا۔ کتاب بند کر کے میں نے چھت پر چلتے پنکھے کو دیکھنا شروع کر دیا۔ میری آنکھیں آہستہ آہستہ نیند سے بوجھل ہو کر بند ہونے لگیں کہ اچانک دروازہ پر دستک ہوئی، پٹ سے میری آنکھ کھل گئی۔ میں بستر پر لیٹا رہا کہ اب دروازہ کھلے گا اور وہ آ دھمکے گا۔ پر ایسا نہیں ہوا۔ دستک کو اپنا وہم سمجھتے ہوئے میں نے اپنے آپ کو نیند کے حوالے کر دیا۔

ایک شام میں کھانے سے فارغ ہوا تو کچن کے کاؤنٹر پر پڑی ہوئی اس کے کمرے کی چابیوں پر دھیان گیا، وہ اسی جگہ تھیں جہاں میں نے ان کو چھوڑا تھا۔ نہ جانے مجھے کیا ہوا کہ میں نے ان کو تھاما، اپنے کمرے سے نکلا، اس کے کمرے کے تالے کو کھولا اور لائیٹ آن کی۔ اس کے کمرے میں اس کے وجود کی مہک بھرپور رچی بسی ہوئی تھی۔ اس کا کمرہ میرے کمرے کے مقابلے میں کافی سلیقہ سے رکھا ہوا تھا۔ سنگھار میز پہ ایک سستے پرفیوم کی بوتل کے ساتھ قرینے سے رکھا ہوا مٹی کا ایک دیہ تھا۔

ساتھ ہی ایک چھوٹے سے کیسٹ اسٹینڈ میں وائیٹل سائینز، شہزاد رائے، حدیقہ کیانی وغیرہ کے البم لگے ہوئے تھے۔ میں نے اس کی الماری کھولی وہاں اس کے استری شدہ کپڑے سلیقے سے ہینگر میں ٹنگے ہوئے تھے۔ میں ایک ایک کرتے ہوئے اس کے کپڑوں کو اپنے ہاتھ سے گزار رہا تھا۔ ایک قمیض کی آستین کو میں نے تھاما اور اس کو اپنی ناک تک لا کر سونگھا مجھے لگا کہ جیسے اس کا وجود اس میں موجود ہو۔ الماری کے دونوں پٹ بند کر کے میں اس کے بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا۔

وہاں بیٹھے بیٹھے میں نے کچن کی طرف نگاہ ڈالی تو اس میں لپٹن ییلو لیبل چائے اور نیسلے کے خشک دودھ کا ڈبہ نظر آیا۔ دونوں پر پلاسٹک ریپ چڑھا تھا۔ اس نے انہیں کبھی استعمال نہیں کیا تھا۔ میں بستر پر لیٹ گیا تکیہ میں سے اس کی خوشبو آ رہی تھی۔ میں نے اپنے کو سٹریچ کرنے کے لئے دونوں بازو پھیلا کر جو ہاتھ تکیے کے نیچے کیے تو ہاتھ تکیے کے نیچے رکھی ایک کتاب سے جا لگا۔ میں نے کتاب باہر نکال کر کھولی تو اس میں مختلف شاعروں کا کلام تھا۔ میں نے امجد اسلام امجد کی دو ایک نظمیں پڑھیں اور پھر کتاب واپس تکیے کے نیچے رکھ کر کمرے سے چلا آیا۔

ایک ہفتہ گزرا تھا، رات کے گیارہ بجے کا وقت ہوگا میں اپنے بستر میں لیٹا ہوا والک مین پر جاوید اختر کی شاعری کا مجموعہ ترکش سن رہا تھا کہ مجھے لگا جیسے کسی نے دروازے پہ دستک دی ہو۔ میں نے والک مین کو پاز کیا اور تھوڑی دیر دم سادھے پڑا رہا یہ سوچتے ہوئے کہ کہیں یہ پھر سے میرا وہم تو نہیں، دوبارہ دستک ہوئی۔ میں نے اٹھ کے دروازہ کھولا تو وہ سامنے کھڑا تھا۔ اس نے آئس کریم کا کپ آگے بڑھاتے ہوئے کہا ”سو گئے تھے؟

”“ تمھارے آنے میں تو ابھی تین چار دن باقی تھے”۔ میں نے آئس کریم کا کپ لیتے ہوئے پوچھا۔“ ہاں، وہ میرے امتحان اگلے ماہ کی 24 کو آ رہے ہیں، میں نے آفس ریکیویسٹ بھیجی تھی امتحانوں کی تیاری کی، انہوں نے قبول کر لی اور میں آ گیا، اسے ابھی کھا لو نہیں تو دودھ بن جائے گی پہلے ہی کافی نرم ہو گئی ہے۔ ”میں نے فریج کھولا اور آئس کریم کا کپ فریزر میں رکھ دیا۔ وہ کرسی پر بیٹھ گیا اور اپنی جیب سے سگریٹ کے پیکٹ سے ایک عدد سگریٹ نکال کر اسے ماچس سے جلانے ہی لگا تھا کہ میں نے اسے باہر جا کر سگریٹ پینے کا مشورہ دیا۔

اس نے سگریٹ پیکٹ میں واپس رکھ دیا۔ ”تھینک یو“۔ میں نے کہا۔ ”نوکری اور سب کیسا چل رہا ہے؟“ اس نے بات شروع کی، میں نے تکیے کو دوہرا کرتے ہوئے اپنی کہنی اس پر گاڑتے ہوئے کہا ”نوکری اور سب ویسا ہی چل رہا ہے جیسے چلتا ہے، نتھنگ ایکسائٹنگ اباؤٹ نوکری اور سب“ ، وہ ہنسنے لگا۔ ”تمھارے کتنے بہن بھائی ہیں؟“ ”تین“ میں نے کہا۔ ”ہم چار ہیں، دو بھائی اور دو بہنیں“۔ وہ مسکرانے لگا۔ ”تم تو پوچھو گے نہیں چلو میں ہی بتاتا ہوں۔

میرا گھر پشاور نمک منڈی میں ہے، میرے بابا وکیل ہیں، پیسے والے وکیل نہیں ہیں، اکثر مقدمے بغیر فیس کے ہی لڑتے ہیں۔ میری امی ہیلتھ ورکر تھیں، پھر چھوڑ دیا۔ کبھی کبھی والنٹیر کرتی ہیں اب بھی۔ ”ذاتی بات پوچھنے کی ہمت کرتے ہوئے میں نے اپنا گلا کھنکھارا۔“ جب تمھارے والد مقدمے مفت لڑتے ہیں تو گزارا کیسے ہوتا ہے؟ ”“ ان کے پاس آنے والے اکثر لوگ غریب ہیں، وہ وکیلوں کی بھاری بھرکم فیس نہیں دے سکتے۔ ”وہ ہنسا“ اور میرے بابا ان سے مطالبہ نہیں کر سکتے، مگر تم پریشان نہ ہو وہ گزارہ کرنے جتنا تو کما لیتے ہیں ”۔

”گزارہ کرنے جتنا کما لینے سے بات بن جاتی ہے؟“ میں نے پھر پوچھا۔ اس نے ایک گہری ٹھنڈی سانس اپنے اندر کھینچی اور ہنس کر بولا ”ہم لوگ پیسے کی کمی کو محبت کی بہتات سے پورا کر لیتے ہیں، میرے بابا اور ماں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں، اس لئے اگر ان کا ہاتھ تنگ بھی ہو تو گزارہ ہوتا رہتا ہے“۔ میرے لئے یہ باتیں انوکھی تھیں۔ میں نے اس کی طرف دیکھ کر کہا کہ اب بارہ بج چکے ہیں اور میں سونا چاہتا ہوں کہ صبح آفس کے لئے آنکھ نہیں کھلے گی۔

وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ ”چابی وہ پڑی ہے سامنے کاؤنٹر پر“۔ ویں نے کہا۔ اس نے چابی اٹھائی اور چلا گیا۔ میں نے اٹھ کر بتی بجھا دی اور بستر پر آ کر لیٹ گیا۔ کافی دیر تک میرے ذہن میں اس کی بات گونجتی رہی ”ہم لوگ پیسے کی کمی کو محبت کی بہتات سے پورا کر لیتے ہیں، میرے بابا اور ماں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں، اس لئے ان کا ہاتھ کبھی تنگ نہیں ہوتا“۔ یہ سوچتے سوچتے نہ جانے کب مجھے نیند نے آ لیا۔

کچھ شامیں یونہی بیتیں وہ آتا کھڑے کھڑے ادھر ادھر کی دو چار باتیں کرتا اور پھر تائی اماں کے گھر کھانے کو چلا جاتا، ہر جمعرات کو وہ لولی ووڈ ٹاپ ٹین ضرور دیکھتا تھا۔

جمعہ کی ایک رات میں اپنے کچن میں کوکنگ کر رہا تھا جب وہ دروازہ بجا کے اندر آیا۔ ”کیا کر رہے ہو؟ میں تھک گیا تھا پڑھتے پڑھتے، آج سارا دن پڑھائی کی ہے، پہلے دل میں آیا کہ گھر چلا جاؤں پھر سوچا کہ اس طرح تو پورا ویک اینڈ برباد ہو جائے گا۔“ میں کچن میں اپنی کوکنگ اور دیگر لوازمات میں مصروف رہا اور وہ بولتا رہا۔ کھانا بن گیا تو میں نے اپنی پلیٹ میں گرما گرم ویجیٹیبل رائس ڈال کر اوپر بہت سارہ رائتہ ڈالا۔

”تم ذرا وہاں بیٹھ جاؤ“ ، میں نے سر سے بستر کی طرف اشارہ کیا۔ وہ اٹھا تو میں خالی کرسی پر بیٹھ کر اپنی ٹانگیں بیڈ پر پسار کر آرام سے کھانا کھانے لگا۔ ”کھانے کی خوشبو تو بڑی کراری ہے“ ، وہ بولا ”لے لو ہانڈی میں سے۔“ میں نے کہا۔ ”ہاں تمھارے ہاتھ کا ذائقہ تو ایسے میں چکھنا پڑے گا“ ، وہ اٹھا اور تھوڑی دیر کے بعد پلیٹ بھر کے کھانا ڈال لایا۔ ”کھانا بہت مزے کا بناتے ہو، عورتوں جیسا ذائقہ ہے تمھارے ہاتھ میں“۔

مجھے اس کی یہ بات بڑی ہی فضول لگی۔ ہم دونوں چپ چاپ کھاتے رہے۔ کھانے کے بعد میں حسب عادت اٹھ کر کچن سنک میں گیا اور اپنی پلیٹ اور کھانے کے چمچ کو دھو کر رکھ دیا۔ واپس پلٹ کر دیکھا تو وہ اپنی خالی پلیٹ کو وہیں میز پہ رکھ کر میری کتابوں کے شیلف میں دھری کتابوں کا جائزہ لے رہا تھا۔ ”یہ پلیٹ اور چمچہ دھو کر ایک طرف رکھ دو، یہاں کوئی برتن دھونے نہیں آئے گا۔“ میں نے کہا ”ہاں ٹھیک کہتے ہو، آئی ایم سوری۔“ وہ بولا۔ اپنی خالی پلیٹ اٹھا کہ وہ کچن میں گیا اور نلکا کھول کر پلیٹ دھونے لگا۔ ”یہ ذرا صابن لگا کے اور ہاتھ جما کے پلیٹ اور چمچہ دھونا اس موسم میں کھانے کے برتنوں سے کھانے کی بو آسانی سے نہیں جاتی۔“ میں نے دیکھا وہ کافی دیر تک پلیٹ اور چمچہ رگڑتا رہا۔ اس کے بعد وہ اپنے ہاتھ جھاڑتا ہوا آیا اور کتابوں کا پھر سے جائزہ لینے لگا۔ ”تمھاری فیورٹ کتاب کون سی ہے؟“ ”بہت سی ہیں۔“ میں نے اپنے بیڈ پر لیٹتے لیٹے جواب دیا۔

”پھر بھی کوئی ایک تو ہو گی نا جس کو دوبارہ پڑھا ہو، یا دوبارہ پڑھنے کو دل چاہتا ہو؟“ اس بار اس نے قطعی انداز میں پوچھا۔ ”ہونہہ! راجہ گدھ“ میں نے کہا۔ ”انٹرسٹنگ، تمھارے پاس بانو قدسیہ کی کافی ساری بکس ہیں، تمھاری فیورٹ ہے؟“۔ ”اردو میں لکھنے والوں میں مجھے بانو قدسیہ کے لکھنے کا انداز پسند ہے، فیورٹ کا مجھے نہیں پتہ“۔ ”اور اشفاق احمد کیسے لگتے ہیں؟“ اس نے پوچھا۔ ”تمھارے امتحانوں کی تیاری کیسی چل رہی ہے؟“ میں نے بات بدلتے ہوئے پوچھا۔

”ٹھیک چل رہی ہے۔“ اس کے لہجے میں بوریت تھی۔ ”اب تمھیں واپس کمرے میں جا کر پڑھنا چاہیے“ میں نے مشورہ دیا۔ ”پتہ نہیں“ وہ کچھ دیر خاموش رہا سر جھکائے، اپنے آپ کو ڈھیلے بدن کے ساتھ کرسی پر بیٹھے ہلکا سا جھولتے ہوئے اس نے سر اٹھایا اور اپنی مخصوص مسکراہٹ سے میری طرف دیکھ کر بولا ”یار، بی اے میں دوبار میری سپلی آئی تھی، کبھی کبھی اس کا خوف مجھے آ کر دبوچ لیتا ہے“۔ ”تو پھر تم سی اے کر لو گے؟

” میں نے ذرا سا جھجکتے ہوئے پوچھا۔ وہ جیسے ایک دم ہشاش بشاش ہو گیا،“ ہاں ہاں کیوں نہیں، اٹ از اے چیلنج فار می، میرے پاس ایک عالیشان مرسیڈیز بینز ہو گی اور برابر میں ایک خوبصورت بیوی بیٹھی ہو گی، سی اے کرنا ہر ایرے غیرے کے بس کی بات نہیں قربان ”قربان کہنا اس کا ایک انداز تھا، وہ اپنے ہر جاننے والے کو قربان کہہ کر پکارتا تھا۔ مجھ اس لفظ سے شدید چڑ تھی مگر میں جانتا تھا کہ اگر میں نے اسے ایک بار ایسا کرنے سے ٹوکا تو وہ بار بار مجھے قربان پکار کر چڑائے گا۔

جیسے اس میں ایک دم 440 وولٹ کی بجلی چھوڑ دی گئی ہو کہیں سے اور وہ بولتا گیا ”تم نے کیا کیا ہے؟ ایم بی اے نا؟ آج کل ایک اینٹ کو اکھاڑو تو نیچے سے ایک ایم بی اے نکل آتا ہے کتنے ہیں اس ملک میں جنہوں نے سی اے پورا کیا ہو؟“ اس کی تقریر مجھے اپنے منہ پر ایک زوردار تھپڑ کی طرح لگی، ایک ایسی بے عزتی کی طرح جو بن بلائے عطا کر دی جائے۔ میں نے بمشکل چائے ختم کی اور وہ ابھی پی ہی رہا تھا کہ میں نے کہا کہ اب اسے اپنے کمرے میں جاکر اپنے امتحان کی تیاری کرنی چاہیے۔ وہ تھوڑی دیر سر جھکائے بیٹھا رہا اور پھر بولا ”آئی ایم سوری، مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔“

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2