صد شکر! غموں کا سال گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گریہ ماتم اور نغمہ شادی کے حسین امتزاج کا نام ہی زندگی ہے اور رو رو کر ہنسنا اور ہنس ہنس کر رونے کا نام بھی زندگی ہے۔ یہ انسانی زندگی ہی ہے کہ ہر روز ہونے والے واقعات و حادثات کے ان گنت سورج نئی نئی بلندیوں پر چمک دمک کر دہم ہو جاتے ہیں مگر وقت کی دیواریں رنگا رنگ روشنیوں کا اثر قبول نہیں کرتیں۔ سلسلہ شب و روز نقش گر حادثات ضرور ہے مگر کوئی دن رات کو اور رات دن کو آنے سے نہیں روک سکتی ۔

ہمارے ساتھ بھی گزرے  سال میں کچھ ایسا ہی ہوا، ہم نے 2020 ایک آفت اور مصیبت سے بھرا ہوا سال تھا۔ ایک لمبی غم کی شام! مگر اچھی بات یہ ہے کہ غم کی شام چاہے جتنی بھی طویل ہو شام ہی تو ہوتی ہے ۔ اس کے بعد ایک خوبصورت روشن سویرا ضرور ہوتا ہے ، اس لیے ہم بھرپور رجائی انداز میں نئے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

2020 دنیا بھر کے لیے ایک آفت زدہ سال تھا۔ اس سال ایک ایسی وبا اس پوری دنیا میں پھیلی جس کی زد میں کوئی بھی آئے بنا نہ رہ سکا۔ کورونا نے دنیا کا کوئی ایسا ملک نہ چھوڑا جہاں تباہی نہ مچائی ہو، جہاں خاموشیوں کا راج نہ رہا ہو، کورونا نے اس پوری دنیا میں صف ماتم بچھا دی۔ گزرے ہوئے سال نے ہر ایک کو صرف درد ہی درد دیا، موت نے ایک جال بن رکھا تھا، ہر صبح اداس اور ہر شام غمگین گزری، ہر آنکھ اشکبار رہی، ہر کوئی خستہ حال رہا، افسردگی اور شکستگی کا طوفان تیز رو چلتا رہا، 2020 میں سب سے پہلے آسٹریلیا کے جنگلوں میں آگ لگی پھر کرونا وائرس آ گیا ، اس کے بعد ٹڈی دل آیا اور ساری فصلیں تباہ کر گیا ، بیروت میں ایک بڑا دھماکہ ہوا ، پی آئی اے حادثہ ہوا مگر ان سب حادثات میں بڑا اور الم ناک واقعہ کورونا وائرس کا آنا اور بہت بڑے پیمانے پر تباہی مچانا ہے۔

کورونا کی وبا بہت سارے لوگوں کی خوشیاں کھا گئی ، گھروں کو اجاڑ گئی۔ پاکستان جیسا غریب ملک ایک طویل عرصے سے بہت سارے بحرانوں کا شکار رہا ہے مگر گزشتہ برس کورونا کی وبا نے غربا کے ساتھ ساتھ امراء کو بھی ہر طرح کے بحران سے متعارف کروایا۔ جیسے اقتصادی و معاشی بحران، تعلیمی بحران، سیاسی بحران، اخلاقی بحران وغیرہ۔ کورونا وائرس آیا تو ملک بھر میں لاک ڈاؤن لگ گیا جس کے نتیجے میں ملک میں ایک بڑا معاشی بحران آیا، بہت ساری کمپنیاں بند ہو گئیں، لاکھوں لوگوں میں سے کچھ عارضی طور پر اور کچھ مستقل طور پر اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ، ماہرین نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ ایسی اقتصادی مشکلات کے ہوتے ہوئے ہمیں ایک بہت بڑے معاشی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران سب لوگ اپنے گھروں میں محدود ہو گئے اور کروڑوں کی تعداد میں لوگ بے روزگار بھی ہوئے جس کے نتیجے میں چوری ڈاکے، گھریلو ناچاکیاں، ڈپریشن، مایوسی، نا امیدی جیسی چیزیں سامنے آئیں۔ اگر تعلیمی بحران کی بات کی جائے تو تعلیم کے میدان میں بھی ہمیں ایک بہت بڑے بحران کا سامنا رہا ہے جس سے ہم ابھی تک نپٹ رہے ہیں۔ بات اگر اخلاقی بحران کی کی جائے تو ہم لوگ ہمیشہ سے اخلاقی بحران کا شکار رہے ہیں مگر کورونا وائرس کی وبا میں ہمارے اخلاقی بحران نے بھی زور پکڑے رکھا۔ ہم نے مجبور، مسکین انسانوں کی مدد کی ان میں راشن بانٹا تو محض ایک سیلفی کی خاطر ، نمود ونمائش کی خاطر۔ ہم اخلاقیات سے اتنا گر گئے کہ ہم نے مفلسوں اور مجبوروں کی عزت نفس کا جنازہ نکال کر رکھ دیا۔

اب ہم 2021 میں داخل ہو چکے ہیں ، اللہ کا لاکھ شکر ہے کہ مصیبتوں، آفتوں، غموں، دکھوں، بحرانوں سے بھرا سال گزر گیا۔ اب اس سال ہم مثبت رہیں گے ، مثبت سوچیں گے ، ہم پر امید رہیں گے ، ہمت نہیں ہاریں گے ، مایوسی کو اپنے قریب نہیں آنے دیں گے۔ اس سال ہم سستی، کاہلی، گالم گلوچ، غصہ، الزام تراشی، جھوٹ، غیبت، ناکامی، بدزبانی، سے پرہیز کریں گے۔

ہم کسی بھی حال میں ہوں اور کوئی بھی نیا سال شروع ہو تو امید کا دامن ہمیں ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ، ہو سکتا ہے ہم جسے گہری اندھیری رات سمجھ رہے ہوں وہی صبح صادق کا آغاز ہو۔ اگر ہم اپنی سوچ کو مثبت راہ پر ڈالیں گے تو ہی ہمارے اندر سکون اور اطمینان پیدا ہو گا کیوں کہ مثبت سوچ کا انسانی صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

نیا سال نئی تبدیلیاں لے کر آیا ہے اور ہمارے دروازے پر کھڑا دستک دے رہا ہے۔ اب ہمیں اس دعا اس امید کے ساتھ دروازہ کھولنا ہے کہ یہ سب کے لیے خوشیاں ہی خوشیاں لائے۔ آمین

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں
آئیے عرض گزاریں کہ نگار ہستی
زہر امروز میں شیرینی فردا بھر دے
وہ جنہیں تاب گراں باری ایام نہیں
ان کی پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کر دے
جن کی آنکھوں کو رخ صبح کا یارا بھی نہیں
ان کی راتوں میں کوئی شمع منور کر دے
جن کے قدموں کو کسی رہ کا سہارا بھی نہیں
ان کی نظروں پہ کوئی راہ اجاگر کر دے
جن کا دیں پیرویٔ کذب و ریا ہے ان کو
ہمت کفر ملے جرأت تحقیق ملے
جن کے سر منتظر تیغ جفا ہیں ان کو
دست قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے
عشق کا سر نہاں جان تپاں ہے جس سے
آج اقرار کریں اور تپش مٹ جائے
حرف حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرح
آج اظہار کریں اور خلش مٹ جائے
(فیض احمد فیض)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •