صدر ٹرمپ نے امیگریشن پر پابندی میں 31 مارچ تک توسیع کر دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امیگریشن کی پابندیوں سے متعلق اپنے اس سے قبل کے حکم میں 31 مارچ تک توسیع کر دی ہے۔ اس اقدام سے ان ہزاروں غیر ملکی افراد کے گرین کارڈ اور ملازمت کی درخواستوں پر پیش رفت رک جائے گی جو امریکہ جانے کے منتظر ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ عارضی پابندی گزشتہ سال عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد کرونا وائرس کے بحران کے باعث بے روزگار ہونے والے لاکھوں امریکیوں کی ملازمتوں کا تحفظ کرنا ہے۔

اس پابندی کا اطلاق گزشتہ سال اپریل میں ہوا تھا اور اسے تین ماہ کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔ لیکن جون میں اس کی معیاد ختم ہونے کے موقع پر پابندی میں 31 دسمبر تک توسیع کر دی گئی تھی۔

ان پابندیوں کے خلاف امریکہ کی ٹیک کمپنیوں نے بطور خاص آواز اٹھائی تھی جو زیادہ تر اعلیٰ مہارت کے حامل غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کرتی ہیں۔ جب کہ ٹرمپ انتظامیہ کے سیاسی مخالفین نے بھی اس اقدام پر نکتہ چینی کی تھی۔

منتخب صدر جو بائیڈن نے، جو 20 جون کا اپنا عہدہ سنبھال رہے ہیں، فوری طور پر اس نئے صدارتی حکم نامے کے متعلق کچھ نہیں کہا، جب کہ اس سے قبل وہ ان پابندیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

صدرٹرمپ نے یہ پابندیاں ایک صدارتی حکم نامے کے تحت عائد کی تھیں اور صدراتی فرمان کے ذریعے ہی اس میں توسیع کی ہے، جب کہ نئے صدر کے پاس یہ فرمان فوری واپس لینے کا اختیار ہو گا۔

امیگریشن کی پابندیوں کے خلاف نیویارک میں مظاہرہ۔ نومبر 2020
امیگریشن کی پابندیوں کے خلاف نیویارک میں مظاہرہ۔ نومبر 2020

امریکہ میں اس وقت کم ازکم دو کروڑ افراد کرونا وائرس کی وجہ سے اپنے روزگار سے محروم ہونے کے بعد حکومت سے بے روزگاری الاؤنس لے رہے ہیں۔

اکتوبر میں کیلی فورنیا میں ایک وفاقی جج نے کاروباری کمپنیوں کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست پر اپنے فیصلے میں صدارتی حکم نامے کے تحت امریکہ میں کام کرنے والے لاکھوں غیر ملکی کارکنوں پر عائد ہونے والی پابندی کو روک دیا تھا۔

جج نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ اس پابندی سے امریکی کاروباری اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ یہ حکم ان کی کاروباری سرگرمیوں میں مداخلت کرتا ہے اور انہیں اپنے ملازموں کو برطرف کرنے اور روزگار کے مواقع ختم کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

امریکہ کے محکمہ انصاف نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی جس کی سماعت 19 جنوری کو ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 963 posts and counting.See all posts by voa