سندھ کو مردم شماری کے نتائج پر تحفظات کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ملک کے سب سے گنجان آباد شہر کراچی میں لوگوں کو صاف پانی کی فراہمی سمیت درجنوں مسائل کا سامنا ہے جن کا حل آبادی کے مطابق وسائل کی فراہمی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حالیہ عرصے میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو لکھے گئے ایک خط میں وفاقی کابینہ کی جانب سے ملک میں تین سال قبل ہونے والی مردم شماری کے نتائج کو منظور کئے جانے پر اعتراض اٹھایا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل نے 2017 میں وزارت شماریات کو کہا تھا کہ حتمی نتائج تیار کرنے سے قبل ہر صوبے کے ایک فیصد سینسیس بلاک میں تیسرے فریق سے تصدیق کرائی جائے، جسے بعد میں بڑھا کر 5 فیصد تک کر دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ 24 ویں آئینی ترمیم منظور کرتے وقت تمام پارلیمانی پارٹیوں کے درمیان معاہدے کی صورت میں کیا گیا تھا جس میں یہ بھی طے پایا تھا کہ 2018 کے عام انتخابات مردم شماری کے عبوری نتائج کی روشنی ہی میں کرائے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل نے اس فیصلے کو مارچ 2018 میں بھی دوہرایا، لیکن اس وقت سے اب تک ملک میں مردم شماری کے حتمی نتائج جاری کرنے کا کام تعطل کا شکار ہے۔

خط میں ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک وجہ کونسل کا اجلاس باقاعدہ بنیادوں پر نہ ہونا بھی ہے جو آئین کے تحت تین ماہ میں ایک بار ضرور ہونا چاہیئیے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے خط میں گزشتہ سال نومبر میں وفاقی وزیر علی حیدر زیدی کی سربراہی میں بنائی جانے والی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا بھی حوالہ دیا، جس کے ذمے مردم شماری کے حتمی نتائج جاری کرنے سے متعلق سفارشات مرتب کرنا تھا۔ اور اس پر بھی صوبہ سندھ کی جانب سے اعتراضات اور تحفظات ظاہر کئے گئے تھے۔

سندھ حکومت کے مطابق کمیٹی نے ایک بار پھر صوبائی حکومت کے تحفظات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے وفاقی کابینہ کو اپنی سفارشات بھیج دیں ۔ جب کہ بدقسمتی سے کابینہ کی جانب سے ان سفارشات کو منظور بھی کر لیا گیا۔

سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے وفاقی حکومت کی جانب سے آئینی اداروں جیسا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کے تقدس کو دی جانے والی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

وزیر اعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ، فائل فوٹو
وزیر اعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ، فائل فوٹو

وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر اعظم عمران خان سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے صوبوں کے تحفظات دور کریں۔ اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو وفاقی کابینہ کی جانب سے 2017 کی مردم شماری سے متعلق کئے گئے فیصلوں کو کالعدم یا باطل تسلیم کیا جائے گا۔

“سندھ کی آبادی ایک کروڑ 40 لاکھ کے قریب کم ظاہر کی گئی”

اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے دوران وہ تمام لوگ جو دوسرے صوبوں سے آ کر سندھ میں آباد ہوئے، انہیں سندھ کی آبادی کی بجائے دوسرے صوبوں کی آبادی میں شمار کر کے صوبے کی حق تلفی کی گئی۔ جس کے نتیجے میں اُن کے بقول سندھ کی آبادی 1 کروڑ 40 لاکھ کے قریب کم ظاہر کی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے صوبے کو ملنے والے مالی وسائل اور آئینی اداروں میں نمائندگی میں بھی فرق پڑ رہا ہے۔ لہذا ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس بارے میں تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے جو معاہدہ ہوا تھا، اس پر عمل درآمد کیا جائے۔

“منظم انداز سے آبادی کم ظاہر کی گئی، نتائج رد کرتے ہیں”

اس موقف پر نہ صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت کی حلیف جماعت ایم کیو ایم بھی پیپلز پارٹی کی ہمنوا دکھائی دیتی ہے اور دونوں جماعتوں کا کہنا ہے کہ سینیٹ اور مشترکہ مفادات کونسل کے اس فیصلے پر من و عن عمل درآمد کیا جائے۔

ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ اس نے مردم شماری میں کراچی کی آبادی کم ظاہر کرنے پر نہ صرف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، بلکہ وفاقی کابینہ میں بھی ایم کیو ایم کے وزراء نے اس پر اختلاف کیا ہے۔

کراچی میں لاتعداد کثیر منزلہ رہائشی عمارتیں ہیں جن کے متعلق سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ان میں سے اکثر غیر قانونی اور سرکاری زمینوں پر قبضہ کر کے بنائی گئی ہیں۔
کراچی میں لاتعداد کثیر منزلہ رہائشی عمارتیں ہیں جن کے متعلق سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ان میں سے اکثر غیر قانونی اور سرکاری زمینوں پر قبضہ کر کے بنائی گئی ہیں۔

ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے عبوری نتائج کو تسلیم نہیں کیا تھا اور اس حوالے سے سپریم کورٹ میں بھی پٹیشن دائر کی گئی جو اب بھی زیر سماعت ہے۔

فیصل سبزواری کے مطابق پارلیمان نے 2018 میں یہ طے کر دیا تھا کہ بعض شرائط کے بغیر مردم شماری کے نتائج کو حتمی تصور نہیں کیا جائے گا۔ جب کہ ایم کیو ایم نے اتحادی بنتے وقت بھی تحریک انصاف سے کئے جانے والے معاہدے میں یہ نکتہ شامل کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ میں ذیلی کمیٹی کی سفارشات کو اکثریتی رائے پر منظور کیا گیا مگر ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر امین الحق نے اس کی مخالفت کی اور اس بارے میں اختلافی نوٹ بھی بھیجا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں 2017 کی مردم شماری کے نتائج مشکوک رہیں گے، اور اس کی درستگی کے لئے فی الفور آڈٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

“مردم شماری کے نتائج؛ مسئلہ تکنیکی سے زیادہ سیاسی ہے”

ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے نتائج ملک میں تحقیق، مختلف تجزیوں، وسائل کی تقسیم، سول سروسز میں کوٹہ مختص کرنے، قومی اسمبلی کی نشستیں اور قومی مالیاتی کمیشن کی تقسیم میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ معاشی و سماجی منصوبہ بندی ہو یا صحت کے مسائل، یا بچوں کی تعلیم ہو یا پھر جامعات میں کی جانے والی تحقیق، ان سب کا زیادہ تر دارو مدار مردم شماری کے نتائج پر ہوتا ہے۔

ان کے خیال میں 2017 کی مردم شماری کے نتائج کا تنازعہ تکنیکی سے زیادہ سیاسی ہے۔

قیصر بنگالی
قیصر بنگالی

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے اعداد و شمار میں جو یک طرفہ پن نظر آتا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ صرف تکنیکی مسئلہ نہیں ہے۔ کیونکہ آج کے دور میں آبادی کی گنتی کے کئی ذرائع موجود ہیں۔ ہمارے پاس نادرا کا ایک بہت اچھا ڈیٹا بینک بھی موجود ہے۔ کیونکہ کم و بیش 80 فیصد آبادی کے پاس شناختی کارڈ موجود ہیں جن کی تصدیق با آسانی کرائی جا سکتی ہے۔

“نقل مکانی کا رحجان سندھ کی جانب رہا ہے”

ڈاکٹر قیصر بنگالی کے مطابق ملک میں نقل مکانی کا جو طریقہ کار رہا ہے اس کا زیادہ رحجان سندھ کی جانب رہا ہے۔ پاکستان کے تمام صوبوں کے لوگ سندھ میں آ کر کام کرتے اور آباد ہوتے ہیں۔ جس سے وقت کے ساتھ سندھ کی آبادی بڑھنی چائیے تھی، مگر مردم شماری کے نتائج میں یہ چیز واضح نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر قیصر بنگالی کے مطابق سندھ کو رائے شماری سے قبل گھر شماری پر بھی اعتراض ہے، جس میں اس صوبے کی شرح ملک میں 23 فیصد ظاہر کی گئی تھی۔

ان کے خیال میں اس مسئلے کا حل پارلیمان نے نکالا تھا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ اس سوال پر کہ حکومت چاہتی ہے کہ 2017 کی مردم شماری کے نتائج تسلیم کر کے اگلی مردم شماری کی جانب بڑھا جائے تو ان کا کہنا تھا کہ جب اس مردم شماری کے نتائج پر اعتبار نہیں کیا جا رہا تو کیا گارنٹی ہے کہ اگلی مردم شماری پر اعتبار کر لیا جائے گا؟

وہ کہتے ہیں کہ اس کا حل یہی ہے کہ پانچ فیصد سینسس بلاک کے آڈٹ کا جو فیصلہ ہوا تھا، اس پر عمل کرایا جائے جس میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہو، اور اس کی بنیاد پر 2017 کی مردم شماری کے نتائج کو ترتیب دیا جائے۔

تاہم تحریک انصاف کی قیادت مختلف رائے رکھتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ نتائج تسلیم کر لیے جائیں اور آئںدہ ہر تین سال بعد مردم شماری کرائی جائے۔

کراچی بارش: متاثرین کی زندگی کب معمول پر آئے گی؟

واضح رہے کہ مردم شماری کے عبوری نتائج کے مطابق سندھ کی آبادی 4 کروڑ 70 لاکھ، جبکہ صوبائی دارلحکومت کراچی کی آبادی 1 کروڑ 60 لاکھ کے قریب بتائی گئی ہے، جس پر تقریباً سبھی جماعتوں کو اعتراض ہے۔

“سندھ کی آبادی میں 80 لاکھ کی کمی کی گئی ہے”

پاکستان اور امریکہ کی جامعات میں ڈیموگرافی پر کام کرنے والے پروفیسر ڈاکتر مہتاب ایس کریم کے ایک حالیہ آرٹیکل میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے، مردم شماری کے نتائج کے مقابلے میں سندھ کی آبادی 80 لاکھ زیادہ ہے جن میں سے تقریباً 60 لاکھ افراد کراچی اور 20 لاکھ دیگر شہری علاقوں آباد ہیں۔

ان کے خیال میں 5 فیصد آڈٹ سے بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پائیں گے کیونکہ مردم شماری کو اب تین سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ اور اس لئے ان کے خیال میں اس کا حل نئی مردم شماری ہی ہے۔

ڈاکٹر مہتاب ایس کریم کے مطابق مردم شماری سے حاصل کئے گئے اعداد و شمار اس لئے بھی مشکوک ہیں کیونکہ اس میں دیگر ممالک کی طرح ٹیکنالوجی کی بجائے پرانا طریقہ کار استعمال کیا گیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 952 posts and counting.See all posts by voa