نئے برس کے لیے ایک سیانے کے مشورے
ہم دوستوں کی خوش بختی ہے کہ جب دیگر لوگ نیا سال گزارنے کے منصوبے بنانے میں مصروف ہوتے ہیں اس وقت ہم اپنے دوست جمیل کی منت سماجت کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمیں ”سیانے“ کے پاس لے چلو تاکہ ان سے آنے والے سال کو بسر کرنے کے بارے میں رہنمائی پا سکیں۔ جمیل عرصہ دراز سے ایک ایسے سیانے کا معتقد ہے جو اگرچہ دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہیں لیکن اس کے باوجود ان کا ہاتھ ہر وقت زمانے کی نبض پر ہوتا ہے۔ ہم سب دوست یکم جنوری کو وقت اچھا گزارنے کی نیت سے سیانے کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور دل کی مراد پاتے ہیں۔
اس سال کے پہلے دن جب ہم سیانے کے گھر پہنچے تو وہ پچھلے سال کی یکم جنوری کی طرح صحن میں بیٹھے گاجریں کھا رہے تھے۔ ہم نے ان کے گھر داخل ہوتے ہی ان سے حیرت سے سوال کیا کہ آپ گزشتہ ایک سال سے گاجریں کھا رہے ہیں؟ دنیا پر پچھلے سال قیامت گزر گئی ہے اور آپ کیسی بے نیازی سے گاجریں کھا رہیں ہیں۔ سیانا صاحب بولے، یہ گاجریں بالکل تازہ ہیں کیونکہ میں انہیں اپنے باغیچے میں اگاتا ہوں۔ میرا یہ ایمان ہے کہ اپنی گاجریں آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے۔
جب آپ کے گھر اپنی گاجریں ہوں تو دنیا جس حال میں بھی ہو آپ کو فکر کی چنداں ضرورت نہیں۔ جمیل واہ واہ کہتے ہوئے آگے بڑھا اور عقیدت سے جھک کر پہلے سیانے کے گھٹنے چھوئے اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں کی شہادت کی انگلیاں اپنی آنکھوں پر لگا لیں۔ ہم نے سیانا صاحب کو بتایا کہ آج کل سب گھروں میں اتنی زمین نہیں ہوتی کہ لوگ اپنا اگا اور اپنا کھا سکیں۔ جمیل نے طفیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ یہ شادی کے بعد بھی اپنے والد کے گھر میں رہتا ہے۔
اس گھر میں پہلے ہی اتنی کم جگہ ہے کہ ایک وقت میں گھر کے آدھے افراد سانس اندر کھینچ رہے ہوتے ہیں جب کہ آدھے باہر نکال رہے ہوتے ہیں تاکہ سب گھر والوں کو آکسیجن میسر آ سکے۔ اس کی بیگم جب بھی اپنی ساس سے ناراض ہوتی ہے سانس باہر نکالنے کے بجائے لمبا سانس لے کر اردگرد کی ساری آکسیجن اپنے پھیپھڑوں میں روک لیتی ہے جس کی وجہ سے طفیل کی امی کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پیش آنے لگتی ہے۔ آپ رہنمائی فرمائیں یہ کیا کرے؟
سیانے نے فرمایا کہ اگر یہ بات سچ ہے تو پھر یہ طفیل نہیں ہے، طفیلیا ہے اس لیے میں اس کو مشورہ دے کر اپنا مشورہ ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ ان کی اس بات پر جمیل اش اش کر اٹھا اور سیانے کے گھٹنوں کو چھو کر انگلیاں اپنی آنکھوں پر لگا لیں۔ طفیل غصے سے عنابی ہو گیا اور وائرس وائرس نظر آنے لگا۔ یہ سچ ہے کہ جہاں صاف رنگت کے لوگ غصے میں لال ہو جاتے ہیں وہاں طفیل جیسے پکی رنگت کے لوگ غصے میں عنابی ہو جایا کرتے ہیں۔
سیانے نے مزید بتایا کہ اب تک آپ کو معلوم ہو ہی چکا ہو گا کہ زندگی میں لمبے لمبے منصوبے بنانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جو کرنے کا دل چاہ رہا ہے ابھی کر لیں۔ یہ سنتے ہی طفیل نے جمیل کو ایک تھپڑ رسید کر دیا۔ ہم نے ان دونوں کا مشکل سے بیچ بچاؤ کروایا اور انہیں باور کرایا کہ یہاں ہم حکمت کے موتی چننے آئے ہیں لڑنے نہیں آئے۔ سیانا صاحب فرمانے لگے جیسے جمیل کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اسے یکم جنوری کو اتنے زور کا تھپڑ جڑ جائے گا، زندگی میں برپا ہونے والے دوسرے حادثے بھی اسی طرح رونما ہوتے ہیں۔
اس لیے بیس سالہ، دس سالہ یا پانچ سالہ منصوبے بنانے میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کریں۔ سیانے کی بات پر جمیل اپنا دکھ بھول کر واہ واہ کر اٹھا۔ سیانے نے اس کے بعد اپنے ہاتھ میں پکڑی گاجر سے فراز کی طرف اشارہ کیا اور اسے ماضی قریب میں اس کے گھر پیدا ہونے والے چھٹے بچے کی مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے فراز کو بتایا کہ گرچہ منصوبے بنانے کا فائدہ نہیں لیکن مہربانی فرما کر تم اب منصوبہ بندی کر لو۔ اس بار ان کی بات سنتے ہی ہم سب اش اش کر اٹھے اور ان کے گھٹنے چھو لیے ۔ سیانے نے ہمارا شکریہ ادا کیا اور دعا دی کہ اللہ ہم سب کو جنت نصیب کرے۔
ہم نے انہیں بتایا کہ ہمیں جنت میں جانے کی کوئی خاص جلدی نہیں ہے ، آپ ہمارے حق میں کوئی اور دعا فرما دیں۔ انہوں نے تھوڑی دیر سوچا اور کہنے لگے میری دعا ہے آپ سب کی صحت اتنی اچھی ہو جائے کہ آپ سب کا وزن دگنا ہو جائے۔ ہم نے انہیں بتایا کہ آج کل پتلا ہونا صحت مند ہونے کی علامت ہے۔ سیانا صاحب کو حیرت ہوئی کہ وزن کم ہونا تندرستی کی علامت کیسے ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ہم سے پوچھا، ”ہزاروں سال سے پہلوان صحت مند اور پتلے کمزور تصور کیے جاتے رہے ہیں، یہ زمین نے سورج کے گرد الٹا چکر لگانا کب سے شروع کر دیا کہ موٹے بیمار سمجھے جانے لگے ہیں؟
“ ہم نے بھٹی مؤرخ کی طرف دیکھا کہ شاید اسے پتہ ہو کہ ایسا کب ہوا ہے لیکن اس نے اپنی توند پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بتایا کہ اسے تو بالکل نہیں معلوم کہ آج کل موٹا ہونا برا سمجھا جاتا ہے۔ سیانا صاحب نے بتایا کہ ان کے مرحوم والد صاحب مرتے دم تک روزانہ چار پانچ انڈے، گوشت، مکھن، پنیر اور دیسی گھی کھاتے تھے لیکن وہ ایک دن کے لیے بھی بیمار ہوئے بغیر چلتے پھرتے دل کے دورے سے مرے ہیں۔ جمیل اٹھ کر ان کے گھٹنے چھونے ہی لگا تھا کہ میں نے اسے پکڑ کر واپس بٹھا دیا۔
پھر انہوں نے ہمیں مشورہ دیا کہ اگلے سال جو جی چاہتا ہے کھائیں اور اس دکھ سے نکل آئیں کہ کہیں آپ کا وزن نہ بڑھ جائے۔ یہ سنتے ہی طفیل نے سیانا صاحب کے سامنے سے گاجر اٹھا لی لیکن جونہی وہ اسے منہ کے قریب لے کر گیا سیانے نے گاجر یہ کہتے ہوئی واپس لے لی کہ، ”بیٹا یتیم کا مال نہیں کھاتے“ ۔ اس کے بعد سیانا صاحب نے ہم سب سے عہد بھی لیا کہ نئے سال میں ہم دوسروں کی چیزوں پر نظر رکھ کر اپنا دل نہیں جلائیں گے اور اپنے کام سے کام رکھیں گے۔
اگر ہم نے سیانے کی تمام نصیحتوں پر عمل کر لیا تو یقین جانئیے ہمارا نیا سال بہت اچھا گزرے گا۔


