پی پی ایس سی کا بھرم ٹوٹ گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یونیورسٹی لائف کا اپنا نشہ ہے، بے فکری کی دنیا، ایک خوش فہمی کہ ڈگری ملنے کی دیر ہے ، سرکار تو بس نوکری لیے ہمارا انتظار کر رہی ہے۔ گریجویشن کے بعد کچھ ماہ خماری میں گزر جاتے ہیں، اس کے بعد گھر والے بھی کہتے ہیں کہ میاں سولہ سال پڑھائی کی ہے اب نوکری کرو تو قابلیت مانیں۔ نوکری کرنی ہے اور وہ بھی سرکاری۔ ارے نوکری ملنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے بھلا؟ یہ سوچ کر نوجوان نوکری ڈھونڈنے نکلتے ہیں، کوئی اخبار چھانتا ہے، کوئی سوشل میڈیا پر نوکریوں کے گروپس جوائن کرتا ہے۔ کہیں جابز آتی ہیں تو اپلائی کرنے کی باری آتی ہے، اس کے لیے بھی ہزار روپے فیس۔ دل کو تسلی ہوتی ہے کہ ہزار روپے میں نوکری مل جائے تو سودا گھاٹے کا نہیں۔

اپلائی کرنے بعد ٹیسٹ کی تیاری کرنی ہے، معلوم ہوتا ہے کہ ٹیسٹ سلیبس کی دنیا ہی وکھری ہے جہاں سولہ سال کی تعلیم صفر ہے۔ ہزاروں روپے کی کتابیں لی جاتی ہیں، اکیڈمی جوائن کی جاتی ہے۔ یقین ہوتا ہے کہ اب تو نوکری پکی۔ ٹیسٹ ہوتا ہے، نتیجہ آتا ہے اور جوان فیل۔ لیکن آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ دوبارہ نوکریوں کا انتظار، اپلائی، ٹیسٹ لیکن پھر بھی فیل۔ اس کے بعد یا تو کبھی ٹیسٹ پاس ہو جاتا ہے یا آپ کو اس خواری کی عادت ہو جاتی ہے۔

یہ تو ایک عام گریجویٹ کی کہانی ہے، دوسری طرف کچھ خاص گریجویٹ بھی ہیں جن کے پاس پیسہ بھی ہے اور اپروچ بھی۔ ایمان بیچنے والے تو ہر جگہ مل جاتے ہیں بس پیسہ پھینکنے کی دیر ہے، پیپر وقت سے پہلے ان تک پہنچ جاتا ہے۔ نہیں تو امتحانی سینٹر میں ہی ان کو پیپر حل کرانے کا بندوبست کر دیا جاتا ہے۔ یہ امیر اور غریب کا، طاقتور اور کمزور کا فرق ہے جو ہمارے معاشرے میں ہر سطح پر موجود رہتا ہے۔

آج کل پی پی ایس سی کے پیپرز میں گھپلوں پر بہت بات ہو رہی ہے ۔ سینیٹر طلحہ محمود نے تو یہاں تک اعتراف کیا ہے کہ کچھ من پسند امیدواروں کو نوازنے کے لیے سی ایس ایس کے رولز تبدیل کیے گئے تھے۔ آج سے پہلے مختلف ٹیسٹنگ سروسز کے سکینڈلز سامنے آتے رہے ہیں لیکن پی پی ایس سی کا فرشتہ نما امیج تھا۔ پچھلے کچھ مہینوں سے پیپر لیک ہونے اور سینٹرز پر نقل کرانے کی کئی شکایتیں ہوئیں لیکن پی پی ایس سی نے ہر دفعہ اس سے انکار کیا۔ یہ تو بھلا ہو سوشل میڈیا کہ اس ایشو کو اٹھاتے رہے۔

تحصیلدار کا ٹیسٹ شروع سے ہی متنازعہ رہا، ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے اپلائی کیا، کچھ لوگ ڈیڈ لائن کے بعد بھی شامل کیے گئے، ایسے سکرین شاٹس بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتے رہے کہ تیس لاکھ روپے میں ٹیسٹ لیک ہو چکا ہے اور آج اچانک پی پی ایس سی نے ٹیسٹ کینسل کر دیا۔ اچھی بات یہ ہے کہ اینٹی کرپشن نے کارروائی کرتے ہوئے ٹیسٹ لیک کرنے والا گروہ بھی گرفتار کر لیا ہے۔

ممکن ہے کچھ عرصہ بعد یہ کہانی بھی کرپشن کے کئی واقعات کی طرح بھلا دی جائے لیکن اس کا نوجوان نسل پر بہت خوفناک اثر مرتب ہونے والا ہے۔ اس حادثے  نے نوجوانوں کی امید توڑدی ہے، اچھے خاصے محنتی لوگوں کا سسٹم سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ پہلے سے نکمے اور نکھٹو نوجوانوں کو بھی اب محنت نہ کرنے کا بہانہ مل گیا ہے کہ پیپر تو پہلے ہی بک جاتے ہیں۔ دوسری طرف ٹیسٹ لیک کرنے والے مافیا کی مفت میں اچھی خاصی پبلسٹی ہو چکی ہے۔ شارٹ کٹ ڈھونڈے والے مڈل کلاس نوجوان بھی اب محنت کرنے بجائے پیپر خریدنے کو ترجیح دیں گے، لیکن لاکھوں روپے لگانے کے بعد نہ پیپر ملے گا اور نہ پیسے۔ یعنی ہرطرح سے برباد ہمارے نوجوان ہی ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •