انا کے خول میں بند حسن نثار
بچپن کی عمر بھی کیا رومانٹک ہوتی ہے ہر چمکنے والی چیز سونا دکھائی دینے لگتی ہے اس کچی عمر میں اتنی پختگی نہیں ہوتی کہ ہم چیزوں یا شخصیات کو گہرائی سے جان کر اپنا نقطہ نظر بنا سکیں۔ جب پختہ عمر میں قدم رکھتے ہیں تو ہماری زندگی کے بہت سے سرابوں کی حقیقت ہم پر واضح ہونے لگتی ہے اور خیالات کے عارضی محل کی بنیادیں ڈگمگانے لگتی ہیں۔ شعور کی آنکھ پوری طرح کھلنے پر پتہ چلتا ہے کہ جن شخصیات اور تصورات کو ہم پوج رہے تھے وہ تو انتہائی ناقص تھے۔
ہمارے سماج میں ”ہیرو ورشپ“ کی گنجائش بہت زیادہ ہے اور جو کوئی بھی اپنی اونچی اور گرج دار آواز میں اپنا موقف بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے وہی ہمارا لائف آئیڈیل بن جاتا ہے۔ کلٹش مینٹلٹی کے مارے ہوئے اس دیس میں بھی ایسی بہت سی شخصیات ہیں جو اپنے موقف ا ورنقطہ نظر کو ”بناؤٹی غصیلے“ انداز میں پیش کر کے عوام کی اکثریت پر اپنی علمی دھاک بٹھانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ ان کا بناؤٹی غصہ صرف کمزور پر اترتا ہے اور طاقت ور کے سامنے چاپلوسی والا انداز اختیار کرلیتے ہیں۔
گزشتہ دنوں جیو کا ایک مشہور پروگرام رپورٹ کارڈ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں گفتگو کے دوران حسن نثار اپنے روایتی انداز میں ریما عمر کو بار بار ٹوک رہے تھے اور باری کا انتظار کیے بغیر ریما عمر کی گفتگو کو ہی مضحکہ خیز انداز میں دہرا رہے تھے۔ ریما عمر ایک بہت ہی منجھی ہوئی صحافی، شستہ و نرم مزاج اور آکسفورڈ گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے انتہائی نرم مزاجی سے حسن نثار کو کہا کہ ”آپ بہت اونچا بولتے ہیں“ جس پر حسن نثار نے کہا کہ میں اس لیے اونچا بولتا ہوں کیونکہ میں ڈورا (بہرہ) ہوں۔
جس پر انتہائی شائستگی سے ریما نے کہا کہ ”حسن صاحب میں بہری نہیں ہوں“ اتنی معمولی سی بات پر حسن نثار کا God complex والا روپ سامنے آ گیا اور انہوں نے اس تلخی کو آخر تک برقرار رکھا اور ریما پر چلاتے رہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کا یہ رویہ ایک بیلنس پرسنیلٹی کا آئینہ دار ہے؟ کچھ عرصہ پہلے بھی ان کا ایک کلپ وائرل ہوا تھا جس میں وہ ایک خاتون کے بارے میں بہت گندی زبان استعمال کر رہے تھے۔ علم تو انسان کے اندر برد باری، حلم اور برداشت پیدا کرتا ہے اور اگر آپ کے علم نے آپ کو اکھڑ مزاج اور بد تہذیب بنا دیا ہے تو سمجھ لیجیے کہ دال میں کچھ کالا ہے اور آپ اپنی محرومی اور کمپلیکس کا ازالہ دلیل اور لاجک کے ساتھ نہیں بلکہ آواز کے بلند والیم سے کر رہے ہیں۔
بد تہذیبی اور بد تمیزی حسن نثار کا عمومی رویہ ہے اور وہ اپنی بات کو حرف آخر بنا کرپیش کرنے کے عادی ہوچکے ہیں اور اپنے انا کے خول میں بند ہو کر گفتگو کرتے ہیں اور جو کوئی بھی ان کے اس انا کے غبارے کو پھوڑنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ چیخنے چلانے لگ پڑتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اصل انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوتا ہے جیسے ہی وہ گفتگو کا آغاز کرتا ہے اس کے علمی قد کاٹھ کا اسی وقت پتا چل جاتا ہے۔ حقیقی دانشور اپنے مرتبے اور مقام کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنے موقف کو انتہائی عاجزی اورانکساری سے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ کچھ لوگ حقیقی دانشور اور زیرک نہیں ہوتے بلکہ وہ دانشور ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہیں اور ان کی یہی ایکٹنگ عوام میں مقبول ہوجاتی ہے اور پھر وہ اونچا بول بول کر عوام کا مسیحا بننے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
حقیقت میں حسن نثار ایک مینٹیلٹی کا نام ہے جو ہمارے مشرقی کلچر کی نمائندگی کرتی ہے۔ ہمیں یہ برداشت نہیں ہوتا کہ کوئی عورت ہمارے برابر کھڑی ہو کر ہمیں چیلنج کرے کیونکہ ہماری نظر میں تو عورت ناقص العقل ہے اور اس کے مرتبے کو تسلیم کرنا ہماری مردانگی کے خلاف ہے۔ علم کسی کی میراث نہیں ہے بلکہ یہ انسانوں کا اجتماعی روثہ ہے اور اس میراث کو کوئی بھی اپنے ماتھے کا جھومر بنا کر معاشرے میں اعلٰی مقام حاصل کر سکتا ہے۔
فخر کی بات یہ ہے کہ خواتین کی کثیر تعداد علمی میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا سکہ منوا رہی ہیں اور مقابلے کا متحان پاس کرنے والوں میں خواتین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ہمارے اندر خواتین کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے اور ان پڑھی لکھی اور باہمت خواتین کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ ایسا معاشرہ جہاں پر عورتوں پر بے شمار پابندیاں ہوں، ریپ اور تیزاب گردی عروج پر ہو اس سب ظلم کے باوجود بھی کچھ عورتوں کے اندر جدوجہد کرنے کا حوصلہ ہو تو ہمیں ان کے اس جذبے کو سلیوٹ کرنا چاہیے اور ان کی ہمت بندھانی چاہیے۔ ہمیں اپنے بناؤٹی دانشوری کے خول سے باہر نکل کر دوسروں کے موقف کو تحمل اور بردباری سے سننا چاہیے۔ یاد رکھیے اگر آپ کے علم نے آپ کو تہذیب اور بردباری نہیں سکھائی تو پھر اوروں کو آپ کیاسکھائیں گے۔


