اخوت یونیورسٹی میں ایک دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ستر کی دہائی میں بنگلہ دیش کے پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس نے اپنے ہم وطنوں کو غربت کی زندگی سے نجات دلانے کے لئے انہیں چھوٹے قرضے دینے کا آغاز کیا۔ 1983 میں ڈاکٹر یونس نے باقاعدہ گرامین بنک (گاؤں کا بنک) کی بنیاد ڈالی۔ اس بنک کی مدد سے انہوں نے لاکھوں بنگلہ دیشی خاندانوں کو غربت سے نجات دلائی۔ دنیا نے ڈاکٹر یونس کے اس عظیم کارنامے کو تسلیم کیا اور انہیں نوبل امن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ آج سے بیس برس قبل یعنی 2000 میں، پاکستان کے ایک سرکاری افسر کی ملاقات ڈاکٹر محمد یونس سے ہوئی۔

یہ صاحب ڈاکٹر یونس سے بہت متاثر تھے۔ ان کی خدمات کے معترف تھے۔ ملاقات میں ان صاحب نے ڈاکٹریونس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ البتہ چھوٹے قرضوں پر وصول کیے جانے والے سروس چارجز یعنی سود پر کچھ اختلاف رائے کا اظہار کیا۔ پروفیسر یونس کو یہ بات انتہائی ناگوار گزری۔ انہوں نے جواب دیا کہ جو لوگ مائیکرو فنانس (چھوٹے قرضوں ) پر سروس چارجز کی وصولی پر اعتراض کرتے ہیں، وہ دراصل مائیکرو فنانس کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔

کہنے لگے کہ اگر اعتراض کرنے والے یہ لوگ، غریبوں کے اتنے ہی ہمدرد ہیں تو خود کوئی ایسا نظام متعارف کروائیں جس میں غریبوں کو بغیر سود کے قرضے دیے جائیں۔ پروفیسر یونس سے اختلاف رائے کا اظہار کرنے والے یہ پاکستانی افسر ڈاکٹر امجد ثاقب تھے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نہایت خاموشی سے پروفیسر یونس کی باتیں سنتے رہے۔ ٹھیک ایک سال بعد اسی خاموشی سے انہوں نے ایک مسجد میں بیٹھ کر ”اخوت“ کے نام سے ایک تنظیم کی داغ بیل ڈالی۔

وہ کام جو نوبل انعام یافتہ پروفیسر یونس کو ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے وہ کام کر دکھایا۔ غریبوں اور حاجت مندوں کو بغیر سود کے چھوٹے قرضے فراہم کرنے کا بیڑا اٹھا اور نہایت کامیابی سے یہ کام کر گزرے۔ ”اخوت“ کے قیام کو انیس برس بیت چکے ہیں۔ وہ کار خیر جو ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنی جیب سے دس ہزار وپے کی رقم بطور قرض حسن دینے سے شروع کیا تھا، اب ایک سو پچیس ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ ”اخوت۔“ کی مدد سے کم وبیش چالیس لاکھ خاندانوں کو خط غربت سے باہر نکالا گیا۔ چھوٹے قرضوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ، ”اخوت“ نے ایک کلاتھ بنک (cloth bank) بھی قائم کر رکھا ہے۔ دنیا کے چند بڑے بنکوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ اب تک اس کے ذریعے ضرورت مندوں میں پچیس لاکھ کپڑوں کے جوڑے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ خواجہ سراوں کی فلاح و بہبود کے کچھ منصوبے بھی اخوت کے تحت چل رہے ہیں۔

ڈاکٹر امجد ثاقب کی جانب سے ”اخوت یونیورسٹی“ کے دورے کی دعوت موصول ہوئی تو یہ سب باتیں مجھے یاد آ گئیں۔ جس دن یونیورسٹی جانے کے لئے لاہور سے قصور کے لئے روانہ ہوئی تو مجھے یاد آیا کہ چند برس پہلے میں نے ڈاکٹر امجد ثاقب کا ایک انٹرویو کیا تھا۔ مستقبل کے منصوبوں پر بات ہوئی تو انہوں نے بتایا تھا کہ وہ ایک یونیورسٹی تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایک ایسی یونیورسٹی جہاں غریب بچے مفت تعلیم حاصل کر سکیں۔

اس وقت یہ بات مجھے دیوانے کا خواب معلوم ہوئی تھی۔ اس زمانے میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے دانش سکولوں کا چرچا تھا۔ مجھے خیال آیا تھا کہ تعلیم ہمارے ہاں ایک نفع بخش کاروبار بن چکی ہے۔ کوئی وفاقی یا صوبائی حکومت تو مفت تعلیم بانٹنے والے ادارے بنا اور چلا سکتی ہے، لیکن یہ کسی غیر سرکاری تنظیم یا کسی فرد واحد کے بس کی بات نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے مگر اس خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا۔ اخوت یونیورسٹی کا داخلی گیٹ عبور کیا تو عظیم الشان عمارت سامنے تھی۔ یونیورسٹی کے وسیع گراؤنڈ میں نامور صحافیوں اور علمی شخصیات کا میلہ سجا تھا۔ سخت سردی میں صبح سویرے یہ تمام لوگ ڈاکٹر صاحب کے بلاوے پر اکٹھے ہوئے تھے۔

یونیفارم میں ملبوس طالب علم آنے والے مہمانوں کا استقبال کرنے او انہیں جامعہ کی عمارت دکھانے پر مامور تھے۔ یہ دیکھ کر نہایت اچھا لگا کہ پنجاب سمیت تمام صوبوں کے بچے یہاں زیر تعلیم ہیں۔ گلگت بلتستان، فاٹا اور آزاد کشمیر سے بھی۔ دیگر مذاہب کے بچے بھی یہاں پڑھتے ہیں۔ یوں سمجھیں کہ یہ یونیورسٹی ایک چھوٹا سا پاکستان ہے۔ یہاں بچوں کو مفت تعلیم کے ساتھ ساتھ مفت رہائش، خوراک اور یونیفام وغیرہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

کم وبیش آدھ گھنٹہ تک، میں گھوم پھر کر عمارت کا جائزہ لیتی رہی۔ یہ عمارت کسی بھی طرح کسی نامور یونیورسٹی کی عمارت سے کم نہیں ہے۔ صاف ستھرے کمرہ جماعت۔ ہر طرح کی سہولت سے مزین ہاسٹلز، نہایت عمدہ میس۔ لائیبریری، مسجد، اور شفاخانہ بھی یہاں موجود ہیں۔ طالب علموں سے گفتگو کی تو پتہ چلا کہ پڑھائی میں کمزور طالب علموں کے لئے شام میں خصوصی کلاسوں کا انتظام ہے۔ غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔ ایک خاتون استاد کنزیٰ سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ طالب علموں کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے ”اخوت“ کے انیس برسوں پر محیط سفر پر مختصراً روشنی ڈالی۔ ”اخوت یونیورسٹی“ کے خواب سے تعبیر تک کے سفر کا احوال بیان کیا۔ کہنے لگے کہ جب ہم نے اس منصوبے کی داغ بیل ڈالی اور رقم کا اندازہ لگایا تو پچاس کروڑ روپے کا تخمینہ تھا۔ ہمارے پاس ایک روپیہ بھی نہیں تھا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ ایک اینٹ ایک ہزار روپے کے عوض فروخت کی جائے گی۔ اینٹیں فروخت کرنے کا آغاز ان افراد سے کیا جن کو برسوں پہلے ”اخوت“ نے قرض حسن دیا تھا۔

اللہ پاک نے برکت ڈالی اور اخوت یونیورسٹی کی عمارت تعمیر ہو گئی۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ پچاس ایکٹر پر قائم اس یونیورسٹی کی تعمیر کے لئے کسی حکومت سے ایک دھیلا تک نہیں لیا۔ ایک جانب اشارہ کر کے کہنے لگے کہ اس خالی دیوار پر ان ہزاروں لوگوں کے نام لکھیں گے جنہوں نے یونیورسٹی کے لئے اینٹیں خریدیں۔ راجن پور کی ایک عمر رسیدہ خاتون کا انہوں  نے خاص طور پر ذکر کیا۔ اس نے برسوں قبل اخوت سے قرض حاصل کیا تھا۔ اخوت نے خاتون سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ اس وقت اس کے پاس ایک اینٹ خریدنے کے پیسے نہیں ہیں۔

اس بڑھیا نے پانچ سو روپے کے عوض آدھی اینٹ خرید کر اخوت یونیورسٹی کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ اس یونیورسٹی کی بنیادوں میں وہی اخلاص ہے جو علی گڑھ کی بنیاد تھی۔ علی گڑھ کا نام سن کر مجھے ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی مرحوم یاد آ گئے۔ انہوں نے بھی اسی جذبے کے تحت ”کاروان علم“ فاونڈیشن کی بنیاد ڈالی تھی۔ وہ غریب اور بے سہارا بچے جو مٹی میں رل جانے کے قریب تھے، کاروان علم کی بدولت ڈاکٹر، انجینئر، سی۔ایس۔ پی افسر بن گئے۔

ڈاکٹر امجد ثاقب نے بھی اخوت یونیورسٹی کے ذریعے غریب بچوں کا مستقبل سنوارنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اخوت یونیورسٹی کی عمارت کے کچھ حصے ابھی زیر تعمیر ہیں۔ یقیناً بہت سے عطیات درکار ہوں گے ۔ اخوت کے پلیٹ فارم سے ضرورت مندوں کو قرض حسن دینے اور انہیں غربت سے نجات دلانے کا مشن بھی جاری و ساری ہے۔ اللہ پاک اس کام میں برکت عطا فرمائے۔ ہم جیسو ں کو توفیق دے کہ ہم ”اخوت“ کے مشن میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں۔ آمین۔

۔ ۔
بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •