انتہاپسندی، ماضی کی مہربانیوں کا ہے یہ فیض

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رات کے بارہ بجنے کو ہیں، کراچی کے سی ویو میں میرے فلیٹ کے سامنے سمندر کے ساتھ ساتھ سڑک پر ہزاروں نوجوان گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار، اونچی موسیقی اور پٹاخوں کی آوازوں کے درمیان، ہوائی فائرنگ میں مصروف، نئے سال کی آمد کی خوشی میں بے خود ہیں اور میلے کا سا سماں ہے۔

مگر گزرتا ہوا سال رخصت ہوتے ہوتے انتہا پسندی کا ایک اور داغ دے کر چلا گیا۔

خیبر پختونخوا کی خشک اور بنجر پہاڑیوں کے دامن میں واقع علاقے کرک میں سینکڑوں شدت پسند، ڈنڈوں اور لوہے کی سلاخوں سے لیس، نعرے کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے، مظاہرین کی ہیجانی کیفیت، کچھ ہی دیر میں ہندو برادری کے مقدس مندر اور سمادھی پر حملہ، توڑ پھوڑ، آگ کے شعلے بلند ہونا شروع۔ مظاہرین کی قیادت مقامی انتہا پسند مذہبی شخصیات کے ہاتھوں۔ کشیدگی، سخت تنقیدی ردعمل، گرفتاریاں اور درجنوں کے خلاف مقدمات درج لیکن اس واقعے نے ہماری ریاست کے دامن کو بدنامی کی چھینٹوں سے داغدار ضرور کیا۔

لگ بھگ سو برس پرانی کرک کے قصبہ ٹیڑی میں ہندو برادری کی اس مقدس عبادت گاہ پر حملہ ملک میں کئی دہائیوں سے بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کی عکاسی کرتا ہے۔

چند برس قبل میرے آبائی شہر لاڑکانہ میں شدت پسندوں نے ہندو برادری کے ایک فرد پر قرآن شریف کی توہین کے الزام میں ایک مندر پر حملہ کر دیا تھا۔ مندر کی عمارت سے بلند ہونے والے شعلوں اور مورتیوں کے ٹکڑوں اور لاٹھیوں سے لیس شدت پسندوں کی تصاویر دیکھ کر ذہن حقیقت تسلیم کرنے سے انکاری تھا۔

میرا بچپن، لاڑکانہ میں اپنے محلہ میں ہندو برادری کے دوستوں کے ساتھ ہولی، دیوالی اور عید کے تہوار منانا، اپنے حویلی نما آبائی گھر ”لکھپت بھون“ کے سامنے محرم کے ایام میں شربت کی سبیلیں لگانا۔ غرض مذہب، عقیدہ مختلف لیکن ساتھ زندگی گزارنے میں کبھی فرق محسوس نہیں ہوا۔

پاکستان کی ہندو برادری کی اکثریت سندھ میں ہی آباد ہے، صدیوں کا ساتھ، شاہ لطیف بھٹائی اور سچل سرمست کے مذہبی رواداری اور تصوف کے بھائی چارے کے پیغام میں رچے بسے۔

حیدرآباد شہر سے کچھ فاصلے پر واقعہ اڈیرو لال کی درگاہ، احاطے میں مندر اور مسجد دونوں موجود ہیں، اور سندھ میں مسلمان اور ہندو مذہبی رواداری کی عکاس ہے۔

برصغیر کی تقسیم کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے لاکھوں خاندانوں کی ہجرت سے نئے تشکیل شدہ معاشروں پر اثرات تو مرتب ہوئے لیکن سندھ میں بسنے والی مقامی مسلم اور ہندو آبادی کے رہن سہن اور بھائی چارے پر کوی خاص اثر نہ پڑا۔ لیکن آہستہ، آہستہ تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ بالخصوص جنرل ضیا کے دور میں جب مذہبی انتہا پسند گروہوں کو ریاستی سرپرستی کی چھتری کے سایہ تلے پناہ گاہیں فراہم ہوئیں۔

ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ملک بھر میں مندروں پر حملے بھی دیکھنے میں آئے اور ہندو خاندانوں کی انڈیا منتقلی کا رجحان بھی۔ انہی دنوں کرک کا یہ مندر اور سمادھی بھی شدت پسندوں کی لپیٹ میں آیا تھا۔

مندر پر حملہ ہو یا عیسائیوں کے کسی چرچ پر، یا احمدی فرقے کی عبادت گاہ پر، ملک کی سول سوسائٹی کے اراکین جنہیں ”سائیلنٹ میجارٹی“ کہا جاتا ہے، ہمیشہ اقلیتوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے آواز بلند کرتے ہیں لیکن بد قسمتی سے شاید خود ایک اقلیت میں بدلتے جا رہے ہیں۔ حکومتیں ہوں یا سیاسی جماعتیں یا ادارے ہمیشہ اقلیتوں کے خلاف حملوں کی مذمت کرتے ہیں لیکن شاید ماضی کی پالیسیوں کی غلطیوں کا ازالہ کر کے ہی کفارہ ممکن ہو۔

جنرل ضیاء کے دور میں انتہا پسندی کے جو بیج بوئے گئے تھے وہ نائن الیون کے بعد خودرو پودوں اور درختوں میں تبدیل ہو گئے اور ان کی جڑوں نے معاشرے کو تہہ در تہہ جکڑ رکھا ہے۔

بعض حلقے ماضی کے اس بوجھ کو ہٹانا ریاست کے لیے ایک دشوار ترین اور صبر آزما مرحلہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ انتہا پسند گروہ معاشرے کے مختلف طبقات میں تہہ در تہہ سرایت کر چکے ہیں اور کافی اثر رسوخ بھی رکھتے ہیں۔ اس نکتہ میں وزن ضرور ہے۔ مثلاً جہادی تنظیم، لشکر طیبہ نے اپنا نام تبدیل کر کے جماعت الدعوة رکھ لیا تھا۔

کچھ اپنے مدارس کے نیٹ ورک اور ان میں طلبا کی طاقت سے لیس ہیں۔ بعض فرقہ واریت کا پرچار رکھنے والے گروہ بھی ہیں اور خیال یہی کیا جاتا ہے کہ برسہا برس سے پاکستان سعودی عرب اور ایران کی پراکسی وار کا میدان مشق ہے۔ جس طرح ماضی میں افغانستان کبھی پاکستان کے لیے میدان جنگ رہا ہے۔

پھر کالعدم تحریک طالبان کے مختلف گروہ یا عناصر جنہوں نے اپنی عسکریت کا رخ پاکستان کے اہداف کی طرف کر لیا اور بقول سکیورٹی ذرائع سرحد پار افغانستان میں پناہ گاہیں بنائی ہوئی ہیں۔

ماضی کی غلطیوں کا بوجھ کیسے ہٹایا جائے۔ کبھی ارادے یقین میں بدلتے نظر آتے ہیں لیکن پھر پالیسیوں کے تضادات کا گرہن ان گروہوں کے خاتمہ کے منصوبوں پر حاوی ہو جاتا ہے۔

کبھی ”زیرو ٹالیرنس کی پالیسی“ کا منترا، کبھی جہادیوں کو ”قومی دھارے“ میں لانے کی بحث اور کبھی شدت پسند اور عسکریت پسندوں کے ساتھ معاہدوں کی مصالحت پسند پالیسیاں۔ خود بھی کنفیوز اور عوام بھی کنفیوژن کا شکار جبکہ مغربی دنیا آپ کی جھولی کو اپنے اعتماد کے فقدان کے وزن سے بھاری کرتی رہتی ہے۔

کسی معاہدے سے کوئی انتہا پسند جماعت کس طرح طاقت حاصل کرتی ہے، حالیہ برسوں میں اس کی مثال تحریک لبیک ہے۔ 2017 ء میں تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے کاروبار زندگی کو مفلوج کر دیا تھا۔ بالآخر معاہدہ طے پایا۔ اس وقت نون لیگ کی حکومت کے وزیر قانون زاہد حامد کو مستعفی ہونا پڑا۔ حکومت کے وزرا کے ساتھ معاہدے میں فوج نے فریق کا کردار ادا کیا۔

جب مظاہرین چھٹ رہے تھے، سوشل میڈیا پر ایک وڈیو وائرل ہوئی، جس میں اس وقت کے پنجاب رینجرز کے سربراہ میجر جنرل حیات مظاہرین میں رقم تقسیم کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ ”آپ کے لیے یہ ہمارا تحفہ ہے“ ، یونیفارم میں جنرل صاحب کہتے ہوئے سنائی دیے۔

معاہدے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کا شکریہ ادا کیا گیا کہ ”انھوں نے قوم کو ایک بہت بڑے سانحے سے بچا لیا“ ۔

معاہدہ پر اس وقت کے آئی ایس آئی کے سینیئر افسر جنرل فیض حمید کے دستخط موجود ہیں، جو اب اس ایجنسی کے سربراہ ہیں۔

خادم رضوی اور ان کے ہزاروں کارکنان لوٹ تو گئے لیکن کچھ ماہ بعد ملک میں 2018 ء کے انتخابات میں پنجاب اور سندھ میں کافی ووٹ حاصل کیے اور ایک انتہا پسند جماعت سیاسی قوت بن گئی۔

کچھ ماہ قبل پھر تحریک لبیک کے اسلام آباد اور پنڈی میں فرانس میں گستاخانہ کارٹون کی اشاعت اور فرانسیسی صدر کے بیان پر احتجاج اور دھرنا دیا گیا۔ اس دھرنے کا اختتام بھی معاہدے پر ہوا ہے۔ جس کی تشہیر تحریک لبیک نے سوشل میڈیا پر خوب کی۔ وعدے وعید پورے ہوں یا نہیں، معاہدوں سے اس طرح کے جتھوں کی انتہا پسندی کو فروغ ملتا ہے۔

ماضی میں معاہدوں کی ایک تاریخ ہے۔ جنوبی وزیرستان کا طالبان کمانڈر نیک محمد ہو کہ جسے شکئی میں پشاور کے کور کمانڈر جنرل صفدر حسین نے معاہدے کے بعد ہمارے سامنے پھولوں کے ہار پہنائے، شمالی وزیرستان کا کمانڈر گل بہادر ہو یا سوات کا صوفی محمد، ان معاہدوں سے حکومت اور ریاست کمزور ہوتی ہے اور انتہا پسند طاقتور۔ معتدل اور روشن خیال قوتیں تو ویسے ہی اس ملک میں ”فاشسٹ لبرل“ کے طعنے برداشت کرتی ہیں۔

انتہا پسندوں کے بیانات ہوں یا شدت پسندوں کے اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملے، ملک کی چاہے پالیسیاں بدل رہی ہوں، امیج کو داغدار کرتے ہیں۔

مرحوم خادم رضوی کا اپنی وفات سے قبل دھمکی آمیز بیان ابھی تک ذہن میں گونج رہا ہے، ”تمہارے باپ کا ملک ہے، ہماری مرضی جہاں سی ریلی نکالیں اور جب مرضی ختم کریں۔“

ہم زیر لب یہی جملہ ادا کر سکتے ہیں کہ ماضی کی مہربانیوں کا ہے یہ فیض۔
بشکریہ ڈوئچے ویلے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اویس توحید

اویس توحید ملک کے معروف صحافی اور تجزیہ کار ہیں ای میل ایڈریس [email protected] Twitter: @OwaisTohid

owais-tohid has 11 posts and counting.See all posts by owais-tohid