ریڈنگز: کتاب خانہ یا علم کدہ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انجینئرنگ کے زمانے میں میرا قیام جوہر ٹاؤن میں تھا اور درس گاہ فیصل ٹاؤن میں تھی۔ کام کے سلسلے میں اکثر حفیظ سینٹر جانا ہوتا تھا۔ جگاور چوک سے روٹ نمبر ایک سو اکتالیس کی ویگن مین مارکیٹ گلبرگ تک جاتی تھی۔ راستے میں یہ اللہ ہو چوک، شوق چوک، جناح ہسپتال، برکت مارکیٹ، کلمہ چوک اور لبرٹی گول چکر سے گزرتی۔ میرا اسٹاپ حفیظ سینٹر ہوتا تھا۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب حفیظ سینٹر کی رونقیں ابھی قائم تھیں۔ لبرٹی چوک پورا گول چکر ہوتا تھا۔ کلمہ چوک انڈر پاس نہیں بنا تھا۔ کیا آج بھی روٹ نمبر ایک سو اکتالیس کی ویگن جگاور چوک پر رکتی ہوگی اور ایک سٹوڈنٹ اپنے کام کے سلسلے میں اس میں سوار ہوتا ہوگا! ان چند سالوں میں مجھ سمیت بہت کچھ بدل چکا ہے۔

کام سے فارغ ہو کر پلازے سے باہر آ جاتے۔ اب مین مارکیٹ کی طرف پیدل مارچ ہوتا۔ وہاں برگر، آئس کریم، چائے یا کافی سے ریفریش ہو کر واپس ہوسٹل کا رخ اختیار کرتے۔ مین بلیورڈ پر ان دنوں بھی بلند و بالا عمارتیں تھیں۔ مگر وہ ایک دوسرے سے دور دور تھیں۔ آج کی طرح نہیں کہ جب ان کے بیچ ان سے بھی بلند عمارتیں اگ آئی ہیں۔ یہ جگہ پہلے سے زیادہ کمرشلائز اور گلیمرائز ہو چکی ہے۔ یہ علاقہ بھی اب تبدیلیوں سے دوچار ہو چکا ہے۔

اس زمانے میں کسی روز مین مارکیٹ سے ایک ویگن نکلی، مین بلیورڈ پر دائیں جانب (اس وقت یہاں یو ٹرن نہیں تھا) مڑی اور کچھ آگے جا کر بائیں ہاتھ پر ایک خالی پلازے (اس وقت یہاں امتیاز سپر اسٹور نہیں تھا) کے بازو میں واقع ماڈرن سٹائل کے ایک بک اسٹور کے آگے سے برق رفتاری سے گزر گئی۔ میں کھڑکی سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔ یہ ریڈنگز تھی۔ میرے اندر سر شاری کی ایک لہر دوڑ گئی۔ یہ اندر سے کیسا ہو گی! مین مارکیٹ سے ہم سیر ہو کر نکلتے تھے۔ میں اگر چاہتا تو پاس کسی اسٹاپ پر اتر کر اس میں چلا جاتا اور علم کی پیاس بھی بجھا لیتا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ کئی سال گزر گئے۔ میں ملازمت کے بعد نیو ائرپورٹ روڈ کے قریب نایاب سیکٹر میں شفٹ ہو گیا۔

یہ چار بیڈرومز پر مشتمل ایک گھر تھا۔ میرے ساتھ دفتر کے ایک کولیگ رہتے تھے۔ ایک دن انہوں نے مجھ سے ایک کتاب کے بارے میں دریافت کیا۔ مجھے اچانک ریڈنگز کا خیال آ گیا۔ ان کے ساتھ ریڈنگز جانے کا پروگرام بن گیا۔ انہوں نے اپنی کار نکالی اور ہم ریڈنگز کے باہر پہنچ گئے۔ کچھ دیر بعد مطلوبہ کتاب ان کے ہاتھ میں تھی۔ یہ خلیل جبران کی کلیات تھی۔ اس میں ان کے ناول، حکایات، شاعری اور آرٹ کو ایک جلد میں اکٹھا کیا گیا تھا۔

کچھ روز بعد مجھے یونیورسٹی کے ایک دوست کی کال آئی۔ اس نے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ میں نے کہا ریڈنگز آ جاؤ۔ ہم سال میں ایک بار ملتے ہیں۔ ہم اس وقفے کو گھٹا نہیں سکتے۔ ملنے کا مقصد ہماری فکری نشوونما پر تبادلہ خیال کرنا ہوتا ہے۔ ہماری سوچ میں جو تبدیلی رونما ہوئی اس پر ایک دوسرے کو اعتماد میں لیتے ہیں۔ ہم نئی کتابوں، لکھاریوں اور فلسفوں پر بات کرتے ہیں اور ان کے تناظر میں سوسائٹی کے گوناگوں مسائل کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ان ملاقاتوں کے لئے ریڈنگز سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔

میرا کبھی ریڈنگز جانا ہو تو شیشے کے فرنٹ سے جھانکتی نئی کتابوں کے پیچوں بیچ دروازے سے اندر داخل ہو کر انتہائی دائیں قطار میں بائیں ہاتھ پر دوسری شیلف کے سامنے جا کر رک جاتا ہوں۔ میں دوسری کتابوں اور لوگوں کو نظر انداز کر کے ایسے وہاں پہنچتا ہوں جیسے اس شیلف کی کتابوں سے میرا کوئی راز و نیاز ہو۔ اس میں نوبل انعام یافتہ ادیبوں کی کتابوں رکھی ہوئی ہیں۔ نوبل انعام کے اعلان کے بعد ہر سال یہ اپ ڈیٹ ہو جاتی ہے۔ یہاں آپ کو ارنسٹ ہیمنگوے، نجیب محفوظ، ماریو برگس یوسا اور دوسرے نوبل انعام یافتہ ادیبوں کی امپورٹڈ کتابیں سجی ہوئی ملیں گی۔

بک شاپ سے ملحق ایک چھوٹا سا کیفے ٹیریا ہے۔ آپ اپنی پسند کی کتابیں اٹھا لیں اور کیفے میں کافی کا آرڈر دے کر کرسی پر بیٹھ جائیں۔ کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے آپ کتاب کی خریداری کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اگر کتاب کو مزید جانچنا ہو تو واپس بک شاپ میں آ کر جابجا بکھرے کسی کشن پر بیٹھ جائیں اور گھنٹوں کتابوں کا مطالعہ کرتے رہیں۔ یوں آپ وہیں بیٹھے کوئی کتاب ایک یا مختلف نشتوں میں ختم کر سکتے ہیں۔

ریڈنگز کے زیر انتظام اشاعت کا ایک ادارہ بھی ہے۔ القا پبلکیشن مقامی اور بین الاقوامی ادیبوں کی دیدہ زیب اور معیاری کتابیں شایع کرتی ہے۔ لاہور کے ہر بڑے کتاب میلے میں ریڈنگز کا سٹال نمایاں توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔ لاہور میں ریڈنگز کی ڈیلیوری سروس بھی خاصی موثر ہے۔ اگر کوئی کتاب آپ کو پاکستان میں نہیں مل رہی تو اسے امپورٹ کرانے کے لئے آپ ریڈنگز کی خدمات لے سکتے ہیں۔

ریڈنگز سے خریدی ہوئی چند کتابیں :
The File on H. by Ismail Kadare
The Gardens of Light by Amin Maalouf
The Festival of Insignificance by Milan Kundera
Detective Story by Imre Kertész
The Black Notebook by Patrick Modiano

میں نے ریڈنگز میں بہت سا وقت کتابوں کے بیچ گزارا ہے۔ کتاب کا لمس محسوس کرتے، کاغذ کی مہک نتھنوں میں اتارتے، لفظوں کی اشکال کو نظروں میں بساتے، مختلف کٹیگری کی شیلف کی بھول بھلیوں سے گزرتے، اپنی سوچوں میں گم ہوتے، صدیوں پر محیط علم کے بے بسیط سمندر میں اترتے میں نے خود کو زمان و مکاں کی حدوں سے گزرتے محسوس کیا ہے۔

ان چند سالوں میں اندر باہر بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔ بہت کچھ زمانے کی گرد سے ابھی تک محفوظ ہے۔ کچھ کتابیں آج بھی انہی شیلفوں پر موجود ہیں۔ کچھ یادیں ذہن میں بالکل واضح ہیں۔ گویا یہ سب کل ہی کا واقعہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •