انہیں جانے کی جلدی تھی
نیا سال پرانی یادوں کے ساتھ آ چکا۔ پھر سے جنوری آ گیا ہے، پھر پرانے زخموں سے نیا خون رسنے لگا ہے۔ جو زخم دنیا والوں سے ملیں وہ زخم بھر جاتے ہیں جو زخم اپنوں سے ملیں وہ ہمیشہ تازہ رہتے ہیں۔ مجھے بھی کسی اپنے نے جنوری میں ایسا زخم دیا جس کا گھاو ہے کہ بھرنے میں نہیں آتا۔ جیسے اپنوں کی محبت سرشار رکھتی ہے ویسے ہی اپنوں کے دیے دکھ بھی زیادہ تکلیف دیتے ہیں اور اپنوں سے بچھڑنے کا زخم تو کبھی بھرتا ہی نہیں۔
محبت کرنے والوں سے بچھڑ کر کوئی مرتا تو نہیں لیکن ان کے بغیر جینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ مجھے کبھی پتہ ہی نہیں چلا وہ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ میں تو خود سے انجان تھی، دوسروں کے جذبات کی خبر کہاں رکھتی۔ لیکن آج سمجھ آئی ہے دوسروں کی خبر رکھنی بھی ضروری ہوتی ہے۔ اپنے اردگرد رہنے والوں سے باخبر رہیں تو بہت سی مشکلوں اور تکلیفوں سے خود بچا اور اپنے پیاروں کو بچایا جا سکتا ہے۔ کہتے ہیں بے خبری بڑی نعمت ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی انجان رہنا بھی زحمت بن جاتا ہے۔
وہ مجھے خوش دیکھنا چاہتے تھے اور میں بے خبری میں انھیں دکھ دے بیٹھی۔ ان کی خوشی کا پتہ ہوتا تو اپنا دکھ ان کی جھولی میں کبھی نہیں ڈالتی۔ وہ تو بس یہی کہتے تھے جن کے باپ زندہ ہوں ان کی اولادیں پریشان نہیں ہوتیں، کیا پتہ تھا اولاد کی پریشانی باپ کی جان لے جاتی ہے۔ بیٹیوں کی آنکھ میں آنسو دیکھنے کی ہمت نہیں تھی ان میں۔ ان کے لیے بیٹیاں بوجھ نہیں قیمتی سرمایہ تھیں۔ ایسا سرمایہ جو انھیں اپنی جان سے زیادہ عزیز تھا، تبھی تو وہ جان سے چلے گئے۔
میں ان کی ساتویں اولاد تھی۔ میرا خیال تھا انھیں مجھ سے اتنی ہی محبت ہوگی جتنی ساتویں اولاد تک آتے آتے بچ جاتی ہے۔ لیکن یہ میرا فضول سا خیال تھا ورنہ ان کے رویے سے کبھی نہیں لگا۔ انھوں نے تو صرف محبت کی تھی پہلی یا ساتویں نہیں، محبت صرف محبت ہوتی ہے کم یا زیادہ نہیں۔ کسی نے محبت میں اتنی تکلیف کہاں برداشت کی ہوگی جتنی انھوں نے کر لی۔ وہ محبت کے ہاتھوں ہار گئے۔ مجھے تکلیف ہوئی، میرے لیے درد سہنا مشکل تھا اور برداشت ان کی ختم ہو گئی۔
محبت میں دوسرے کو سہارا دیا جاتا ہے یا خود بے خود ہو کے گر پڑتے ہیں۔ بھلا ایسے محبت کی جاتی ہے۔ یہ کہاں کا اصول ہے کہ دوسرے کی محبت میں خود کو ختم کر لیا جائے، اب یہ بتائیے کہ دوسرا محبت کی وہ شدت کہاں سے لائے کہ وہ بھی جواب محبت میں فنا ہو جائے۔ مجھے حوصلہ دینے کی بجائے خود ہمت ہار گئے۔ میں تو ابھی روئی بھی نہیں تھی کہ میرے درد سے آپ خود گر پڑے، ایسے گرے کہ پھر سنبھل ہی نہ سکے۔ میری تکلیف نے آپ کو بستر سے لگا دیا۔
یار کیا تھا اک ذرا سی تکلیف ہی تو تھی سہہ جانی تھی، کر لیتی برداشت۔ آپ کو پتہ تو تھا میں روتے روتے ہنس دیتی ہوں، اب بھی تھوڑا وقت گزرتا اور میں نے روتے ہوئے ہنس دینا تھا اور آپ نے مخصوص جملہ دہرانا تھا، رو رہی ہو یا ہنس رہی ہو۔ لیکن آپ نے تو میرے ہنسنے کا انتظار ہی نہیں کیا۔ میرا یہ رونا آپ کو تکلیف نہ دے اس واسطے میں چپ رہی آنکھ میں نمی تک نہ لائی لیکن آپ نے میرے سارے آنسو اپنے اندر اتار لیے ۔ یہ اچھا نہیں کیا آپ نے، میں سدا کی لاپروا، کچھ وقت گزرتا کہ بھول جاتی کہ درد کی کوئی لہر میری طرف آئی بھی تھی۔
پھر جس کا آپ جیسا باپ ساتھ ہو ، درد اس کے ساتھ کب تک رہ سکتا تھا۔ درد کی شدت تو ایک دن ختم ہو جانی تھی۔ تکلیف برداشت ہو جاتی لیکن میری تکلیف پہ آپ کا نڈھال ہونا نہیں سہا جاتا۔ خود پہ آئی تکلیف کا احساس تو وقت کے ساتھ کم ہو گیا لیکن میری تکلیف سے آپ کا درد کی شدت نہ سہہ کر چلے جانا تکلیف دیتا ہے۔ جو درد آپ اپنی جدائی کا دے گئے ہیں وہ کم نہیں ہوتا۔ وہ برداشت سے باہر ہے۔ اس درد کی شدت میں ہر روز اضافہ ہوتا ہے کہ میرا باپ میرے درد کو سہہ نہ پایا اور رفتہ رفتہ جان سے چلا گیا۔
درد کی شدت بڑھ گئی ہے۔ کہر کے باوجود میری آنکھوں میں وہ سارے منظر ٹھہر گئے ہیں۔ دھند ہے لیکن کچھ بھی نہیں دھندلایا۔ ایک ایک لمحہ صاف دکھائی دیتا ہے۔ آپ کو جلدی کیوں تھی جانے کی، جانا ضروری تھا تو کچھ دیر ٹھہرتے، اگر جلدی تھی تو ساتھ لے کر جاتے۔ یوں کس کے سہارے چھوڑ گئے۔ جس کی تکلیف برداشت نہ ہو اسے درد سہنے کے لیے تنہا تو نہیں چھوڑتے، کس کے سہارے چھوڑ گئے۔ آپ تو جانتے تھے مجھے اکیلے ڈر لگتا ہے۔ اب میرے ڈر کو بھگانے کوئی نہیں آتا۔
اب کون لمبی راتوں سردی میں میرے ساتھ بیٹھے۔ ابھی تو ہمیں وہ کہانی بھی پوری کرنا تھی جو میری نیند کی وجہ سے ادھوری رہ گئی تھی۔ اب میرے دن میں سوتے رہنے سے کوئی نہیں ہنستا۔ اب میرے بنائے خراب کھانے بھی کوئی نہیں کھاتا۔ اب میرے اتنی جلدی چائے بنانے پہ حیران بھی کوئی نہیں ہوتا۔ میں تو ذرا ذرا سی بات پہ پریشان ہو جاتی تھی۔ چھوٹی سی تکلیف پہ کیسی ہاہاکار مچاتی تھی۔ اب میں بڑی ہو گئی ہوں، لیکن آپ کے بغیر جینا نہیں آیا مجھے، تکلیفیں بڑھ گئی ہیں، اذیت دوگنی ہو گئی ہے، لیکن ان تکلیفوں پہ پریشان ہونے کے لیے اب آپ نہیں ہیں۔ اچھا ہوا آپ نہیں ہیں ورنہ کیسے دیکھتی روز مرتے آپ کو۔


